آسمان سے شہاب ثاقب ٹوٹ کر زمین پر آگرا، پھر سائنسدانوں نے اس کا تجزیہ کیا تو اس کے اندر دراصل کیا قیمتی ترین چیز تھی؟ دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ گیا، جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

آسمان سے شہاب ثاقب ٹوٹ کر زمین پر آگرا، پھر سائنسدانوں نے اس کا تجزیہ کیا تو ...
آسمان سے شہاب ثاقب ٹوٹ کر زمین پر آگرا، پھر سائنسدانوں نے اس کا تجزیہ کیا تو اس کے اندر دراصل کیا قیمتی ترین چیز تھی؟ دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ گیا، جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کائنات کی وسعتوں میں سائنسدان ایسے خزانوں کا سراغ لگا چکے ہیں جنہیں کسی طرح نکال لیا جائے تو ہماری دنیا کی قسمت ہی بدل جائے۔ ان خزانوں کی وقعت کا انداز ایک عشرہ قبل زمین پر گرنے والے ایک شہابیے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں سائنسدانوں نے انتہائی نایاب اور قیمتی ہیرے دریافت کر لیے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق اس شہابیے کا نام الماہاتا سیتا (Almahata Sitta)ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ شہابیہ ایک پراسرار ایمبریونک سیارے کا حصہ تھا جو ساڑھے 4ارب سال پہلے سورج کی تخلیق کے چند ہزار سال بعد وجود میں آیا۔ یہ سیارہ سائز میں عطاردسے قدرے بڑا تھا اور وجود میں آنے کے بعد کروڑوں سال تک سورج کے گرد چکر لگاتا رہا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق کروڑوں سال سورج کے گرد چکرلگانے کے بعد اس سیارے کا کسی اور سیارے سے تصادم ہو گیا اور اس کے ٹکڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک ٹکڑا 2008ءمیں سوڈان میں آ کر گرا تھا، جس میں نایاب مائیکروسکوپک ہیرے دریافت ہوئے ہیں، جن کی مالیت انتہائی زیادہ ہے۔اس شہابیے کا نام ’الماہاتا سیتا‘ سوڈان کے اس قصبے کے نام پر رکھا گیا ہے جس کے ریلوے سٹیشن کے قریب یہ زمین پر گرا تھا۔ ماہرفلکیات ڈاکٹر فرہینگ نیبی کا کہنا ہے کہ ”یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی کے وجود میں آنے کے 1کروڑ سال بعد تک سورج کے گرد چکر لگاتا رہا اور پھر حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس کے 480ٹکڑے اب بھی نظام شمسی میں گردش کر رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی