اپوزیشن کو سمجھوتے پر مجبورکرنے کے لیے دومامیں کیمیائی حملے کرنے کا انکشاف

اپوزیشن کو سمجھوتے پر مجبورکرنے کے لیے دومامیں کیمیائی حملے کرنے کا انکشاف
اپوزیشن کو سمجھوتے پر مجبورکرنے کے لیے دومامیں کیمیائی حملے کرنے کا انکشاف

  

دمشق(ین این آئی)دوما میں کیمیائی حملے کے بعد اس کی مختلف وجوہات اور توجیہات سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ یہ استفسار کرتے ہیں کہ آیا بشار الاسد کی فوج دوما میں عالمی سطح پر ممنوعہ اسلحہ استعمال کرنے پر مجبور ہوئی تھی اور اس نے کس مجبوری کے تحت ایسا کیا ۔ 

میڈیاریورٹس کے مطابق ’خاندان جنہوں نے اسد پر سب کچھ قربان کردیا‘ کے عنوان سے شائع کی گئی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا کہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جو بڑی توجیہ سامنے آئی وہ حیران کن ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے کیمیائی حملے کا اس لیے حکم دیا تاکہ اپوزیشن کو کسی بڑے صدمے سے دوچار کر کے اسے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ صدمہ کیمیائی حملے کے ذریعے ہی ممکن تھا۔رپورٹ کے مطابق دوما میں سرگرم جیش الاسلام نے چند سال قبل بشار الاسد کے وفادار علوی قبیلے کے کچھ لوگوں کو گرفتار کر رکھا تھا،کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے جیش الاسلام کو گرفتار علوی عناصر کو رہا کرنے پر دباؤ میں لانے کے لیے دوما میں کیمیائی حملہ کیا حالانکہ بشارالاسد کو یہ اندازہ بھی تھا کہ مغرب اس حملے کو گوارا نہیں کرے گا کیونکہ مغربی ممالک بشار الاسد کو متعدد بار خبردار کر چکے تھے کہ اگر اس نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اسے اس کی سزا دی جائے گی مگر بشار الاسد نے اپنے علوی قبیلے کو خوش کرنے اور ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جیش الاسلام کے زیرکنٹرول علاقوں پر کیمیائی حملہ کیا تاکہ علوی قبیلے کے گرفتار عناصر کو رہائی دلائی جا سکے۔

مزید : بین الاقوامی