12 سالہ لڑکی کو اس کی ماں اور بھائی نے شرمناک کام کے لئے راضی کر لیا ،پولیس نے چھاپہ مارا تو پھر ۔۔۔۔۔

12 سالہ لڑکی کو اس کی ماں اور بھائی نے شرمناک کام کے لئے راضی کر لیا ،پولیس نے ...
12 سالہ لڑکی کو اس کی ماں اور بھائی نے شرمناک کام کے لئے راضی کر لیا ،پولیس نے چھاپہ مارا تو پھر ۔۔۔۔۔

  

عمرکوٹ(ریحان شبیر) صوبہ سندھ میں کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے آئے روز خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں جبکہ سندھ اسمبلی نے چند سال قبل کمسنی اور جبری شادیوں کے خلاف  ایک قانون بھی اتفاق رائے سے منظور کیا تھا  جس میں جبری اور کم سنی کی شادیوں کو نا قابل ضمانت  جرم قرار دیتے ہوئےشادی کے لئے بچی کی عمر اٹھارہ سال  اور خلاف ورزی کی صورت میں تین سال قید اور 45 ہزار روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی تھی تاہم اس قانون سازی کے باوجود کم عمری کی شادیاں پھر بھی ہو رہی ہیں،اب پولیس نے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں ہاشم پلی 12 سالہ بچی کی ہونے والی شادی کی تقریب پر چھاپہ مارتے ہوئے 3 خواتین سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ وومن پولیس نے کم سن دلہن کو بھی تھانے میں منتقل کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ ضلع کے  گاؤں ھاشم پلی میں شادی کی تقریب پر وومن پولیس عمرکوٹ نے چھاپہ مارتے ہوئے12 سال کی کم عمر  لڑکی کی شادی کے الزام میں تین خواتین سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔گرفتار ہونے والوں میں بارہ سالہ دلہن امیشا سولنگی کے بھائی اور ماں بھی شامل ہیں۔پولیس نے خفیہ اطلاع پر شادی کی تقریب میں چھاپہ مارا  جہاں امیشا سولنگی  کی شادی کی تقریب جاری تھی ۔ایس ایچ او ویمن تھانہ خوش بخت اعوا ن کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب  شادی کی تقریب میں چھاپہ مارا گیا تو وہاں موجود لوگوں نے پولیس سے بدسلوکی کرتے ہوئے مزاحمت بھی کی اور  شور شرابا کرکے بارہ سالہ دولہا اور نکاح خواں کو فرار کرا دیا  تاہم پولیس دلہن امیشا کو تھانے لے آئی  ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری طرف 12 سالہ دلہن امیشا سولنگی کی والدہ کا کہنا تھا کہ شادی امیشا کی نہیں بلکہ اس کے بھائی کی ہو رہی تھی جبکہ اسی  شادی میں امیشا کی منگنی کی تقریب  بھی ہوئی جس  پر پولیس نے چھاپہ مارا اور ہمارے گھر کے افراد کو گرفتار کر کے پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا ۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ