شام پر میزائل برسانے سے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو کتنے کروڑ روپے کا فائدہ ہوا؟ جان کر ہر مسلمان کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

شام پر میزائل برسانے سے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو کتنے کروڑ روپے کا فائدہ ...
شام پر میزائل برسانے سے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو کتنے کروڑ روپے کا فائدہ ہوا؟ جان کر ہر مسلمان کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

  

لندن(نیوز ڈیسک)کبھی امریکا عراق پر تباہ کن ہتھیاروں کا الزام لگا کر چڑھ دوڑتا ہے تو کبھی برطانیہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر اس کی کسی فیکٹری کو میزائلوں کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ بظاہر تو یہ کاروائیاں ’انسانیت کے وسیع تر مفاد‘ میں کی جاتی ہیں لیکن جب اصل حقائق سامنے آتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے صرف حملہ آوروں کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ شام پر کئے جانے والے تازہ ترین حملے میں بھی یہی کچھ ہوا۔ اس کاروائی میں برطانیہ نے بھی امریکا کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن کیوں؟ اس راز سے اب پردہ اٹھ رہا ہے۔

بات کچھ یوں ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کے خاوند فلپ مے ایک ایسی کمپنی کے لئے کام کرتے ہیں جو ہتھیار بنانے والی برطانوی کمپنی ’’بی اے سی سسٹمز‘‘ کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے، اور اس کے شیئر کی قیمت شام پر ہونے والے تازہ ترین حملے کے بعد اوپر ہی اوپر جارہی ہے۔ ویب سائٹ RT.COMکے مطابق ’’کیپٹل گروپ‘‘ نامی یہ کمپنی ہتھیار بنانے والی امریکہ کمپنی ’’لاک ہیڈ مارٹن‘‘ کی بھی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن دنیا بھر کے ممالک کو ہر طرح کے ہتھیار بیچتی ہے، جن میں جنگی طیارے اور میزائل بھی شامل ہیں۔ شام پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد سے اس کمپنی کے شیئر کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ 

دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے شام پر کئے جانے والے امریکی میزائل حملے کا ساتھ دینا ہتھیار بنانے والی کمپنی بی اے ای سسٹمز کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہواہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ حملہ برطانوی وزیراعظم کے خاوند کی کمپنی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شام پر کئے جانے والے حملے میں برطانیہ کا حصہ یہ تھا کہ اس کی جانب سے آٹھ عدد ’سٹورم شیڈو‘ میزائل شام کی ایک کیمیکل فیکٹری پر فائر کئے جانے تھے۔ ان میزائلوں میں سے ہر ایک کی قیمت سات لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 13 کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔یہ میزائل ’بی اے سی سسٹمز‘ کمپنی ہی بناتی ہے، جسے آٹھ میزائلوں سے ایک ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا ہے۔ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے کتنے کمائے، یہ ابھی واضح نہیں، اور ان کمپنیوں کے شئیرز میں اضافے سے انہیں کتنا فائدہ ہو رہا ہے، اس کا حساب ابھی لگایا جا رہا ہے۔ 

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم کے خاوند فلپ ’کیپیٹل گروپ‘ میں ریلیشن شپ منیجر کے عہدے پر 2005ء سے کام کررہے ہیں۔ اس کمپنی کا نام 2017ء میں سامنے آنے والے پیراڈائز پیپرز سکینڈل میں بھی آچکا ہے لیکن اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا ذکر تک نہیں سنا گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس