19 سالہ لڑکی کو فون پر ٹیکسٹ میسجز پڑھنے میں دشواری، ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو ایسی وجہ بتادی کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا دے دیا

19 سالہ لڑکی کو فون پر ٹیکسٹ میسجز پڑھنے میں دشواری، ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو ...
19 سالہ لڑکی کو فون پر ٹیکسٹ میسجز پڑھنے میں دشواری، ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو ایسی وجہ بتادی کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا دے دیا

  

برمنگھم(نیوز ڈیسک) موبائل فون پر ٹیکسٹ میسج پڑھنے میں کچھ دشواری محسوس ہو تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کریں، جیسا کہ برطانوی لڑکی شارلٹ ٹیلر نے کیا۔ ابتداً وہ اسے بصارت کا عام مسئلہ سمجھیں لیکن جلد ہی ان کی پریشانی بڑھنے لگی، اگرچہ اب بھی ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بظاہر معمولی سا یہ مسئلہ دراصل دماغ کی لاعلاج بیماری بھی ہوسکتی ہے ۔ شارلٹ نے بالآخر ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو یہ اندوہناک انکشاف سامنے آیا کہ ان کے دماغ میں رسولی بن چکی ہے جس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔ 

اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق 19 سالہ شارلٹ کا یہ مسئلہ ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن پھر ایک ماہر چشم نے ان کی آپٹک عصبی رگوں میں سوجن دیکھ کر مزید ٹیسٹ کروانے کو کہا۔ جب ٹیسٹ کئے گئے تو انکشاف ہو اکہ ان کے دماغ میں رسولی بن چکی ہے۔ ان کی بیماری کا نام ’گلائیو بلاسٹوما‘ بتایا گیا ہے جس کے لئے برطانیہ میں کو ئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ کوئین الزبتھ ہسپتال میں شارلٹ کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں معلوم ہوا کہ ان کے دماغ کی رسولی کینسر زدہ ہے جس کا آپریشن کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت ان کی کیموتھیراپی اور ریڈیو تھیراپی کی جارہی ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس علاج کے ذریعے رسولی کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاتا ہے البتہ اس کا خاتمہ مشکل ہے۔ 

شارلٹ کے جسم کی دائیں طرف بائیں طرف کی نسبت کمزور ہو چکی ہے، ان کی بصارت بھی کمزور ہوچکی ہے جبکہ یادداشت کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ برطانیہ میں علاج ممکن نہ ہونے کے بعد شارلٹ کے والد جرمنی اور امریکہ کے ڈاکٹروں سے رابطہ کررہے ہیں تاہم تاحال کہیں سے یہ جواب نہیں ملا کہ اس بیماری کا علاج ممکن ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس