”جس نے مجھے گالی دینی ہوتی ہے وہ مجھے اس نام سے پکارتا ہے“ادب میں تہلکہ مچانے والے شاعر قتیل شفائی کی ایسی بات جو ان کے حاسدوں کے سینے کو ٹھنڈ پہنچاتی تھی

”جس نے مجھے گالی دینی ہوتی ہے وہ مجھے اس نام سے پکارتا ہے“ادب میں تہلکہ ...
 ”جس نے مجھے گالی دینی ہوتی ہے وہ مجھے اس نام سے پکارتا ہے“ادب میں تہلکہ مچانے والے شاعر قتیل شفائی کی ایسی بات جو ان کے حاسدوں کے سینے کو ٹھنڈ پہنچاتی تھی

  

لاہور(ایس چودھری ) پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا کی فلمی انڈسٹری کو سدا بہار گیتوں سے روشناس کرانے والے منفرد لہجے کے شاعر قتیل شفائی سے ایک زمانہ جلتا تھا ۔وہ ادب کا سرمایہ تھے ۔ان کی غزلیں انکے ہم عصروں کو للکارے مارا کرتی تھیں کیونکہ جس زمین میں وہ آسانی سے شعر کہہ لیا کرتے تھے دوسرے شعراءکے لئے وہ امتحان ثابت ہوتی تھیں۔بھارتی فلمساز ان سے گیت لینے کے لئے پاپڑ بیلتے تھے کیونکہ ان سے زیادہ سچویشنل سانگ کوئی نہیں لکھتا تھا ۔ قتیل شفائی سے جلنے والے انہیں ادبی شاعر تسلیم نہیں کرتے تھے ۔حالانکہ وہ بھی تنویر نقوی، ساحر لدھیانوی، جوش ملیح آبادی اور سیف الدین سیف کی طرح منفرد طرز کے نغمہ نگار تھے جن کے گیتوں میں مدھرتا ہوتی تھی ۔ان کے معروف گیتوں میں ایسے سدا بہار گیت ہیں جو آج بھی گنگنائے جاتے ہیں ۔

٭ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا

٭اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

٭جب بھی چاہیں اِک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ

٭وہ مرا ہو نہ سکا تو میں برا کیوں

٭تمہاری انجمن سے اٹھ کر دیوانے کہاں جاتے

قتیل شفائی سے جب بھی یہ سوال کیا جاتا کہ آپ نے ادبی معیارات کے مجموعے لکھے لیکن آپ کو فلم سے زیادہ شناخت ملی لیکن کیا اس فلمی شناخت نے آپ کی ادبی شناخت کو نقصان تو نہیں پہنچایا تو اس پر قتیل شفائی اس سوال پر افسردگی سے ہنستے اور کہتے ”جس نے مجھے گالی دینی ہوتی ہے وہ مجھے فلمی شاعر کہتا ہے حالانکہ جتنا کام میں نے کیا ہے،اتنا کسی اور نے نہیں کیا ۔میں نے فلم کے لئے بھی اتنی محنت اور لگن سے معیاری کام کیا ہے جتنا خالص ادب کے لئے کیا ہے۔مجھے اگر کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو گالی دینے کے لئے وہ مجھے فلمی شاعر کہتا ہے ۔حالانکہ میری فلمی شاعری بہت سے لوگوں کی جنرل شاعری سے بہت اچھی اور معیاری ہے۔“ اسقدر دلوں میں رچ بس جانے والے گیتوں کے خالق کا ایک دکھ ایسا تھا جو ان کی دکھتی رگ بن گیا تھا کہ ادب والے انہیں ادبی شاعر کیوں نہیں مانتے حالانکہ وہ ستائش سے بہت آگے نکل گئے تھے۔لیکن انسان تھے اس لئے قلق رہتا۔ انہوں نےہریالی،گجر،جلترنگ،روزن،جھومر،مطربہ،چھتنار سمیت متعدد کتب تصنیف کیں جبکہ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایوراڈ ملا جبکہ بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ”قتیل اور ان کے ادبی کارنامے“ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔وہ واحد پاکستانی تھے جن کی دونظمیں صوبہ مہاراشٹر میں نصاب میں شامل ہیں ۔

مزید : ادب وثقافت