طگندم کے کاشتکار اور محکمہ خوراک

طگندم کے کاشتکار اور محکمہ خوراک
 طگندم کے کاشتکار اور محکمہ خوراک

  

ملک بھر میں حالیہ بارشوں سے گندم اور چنے کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اندازوں کے مطابق صرف جنوبی پنجاب میں دو لاکھ ٹن گندم کی فصل تباہ ہوگئی ہے، جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔حکومت اس حوالے سے کسانوں کو ریلیف پیکج دینے کا اعلان کرے۔صوبہ پنجاب میں متحرک و فعال اوراعلیٰ شہرت کی حامل شخصیت نسیم صادق سیکرٹری خوراک مقررہوگئے ہیں۔ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ہر کوئی معترف ہے امید کرتے ہیں کہ وہ گند م خریداری کے حوالے سے کاشتکاروں کے مفادات کو تحفظ دیں گے۔ دوسری طرف پنجاب میں گندم خریداری مہم کے حوالے سے مڈل مین مافیا اور آڑھتیوں کی چاندی ہوتی نظر آرہی ہے۔

جنوبی پنجاب میں پچاس فیصد،جبکہ وسطی پنجاب کے بڑے اضلاع میں 25فیصد تک گندم کٹائی کے مراحل سے گزر چکی ہے،تاہم خریداری کے لئے ابھی تک محکمہ خوراک پوری طرح میدان میں نہیں آیا۔ حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں لینڈریکارڈ کمپیوٹر ائزیشن کے دعوؤں کے باوجود باردانہ کی تقسیم کے لئے ہاتھ سے لکھی ہوئی فہرستیں جاری ہوئی ہیں جن میں 20فیصد تک عام کاشتکاروں کے نام غائب ہیں،جبکہ فہرستوں میں نام شامل کرانے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر پٹواری تک مراحل سے گزرنا پڑرہا ہے جوکہ عام آدمی کے لئے مشکل ہے۔ نتیجے میں کاشت کار اپنی گندم مڈل مینوں اور آڑھتیوں کے پاس اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

زرعی پیداوار میں گندم کو فوقیت حاصل ہے۔چاول ،کپاس،گنا سبزیوں اور پھلوں کا شمار بعد میں آتا ہے۔گزشتہ کئی برسو ں سے گندم کے کاشتکاروں کے ساتھ محکمہ خوراک کا برتاؤ سنگدلانہ ہے۔فاضل گند م نہیں خریدی جاتی،اس طرح کسانوں کو کاشت کے لئے بیج زرعی ادویات اور کھاد پر خرچ کی گئی رقم بھی وصول نہیں ہوتی۔ کاشت کے لوازمات از قسم زرعی ادویات بیج اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور پیداوار (گندم،چنا ،جو،کپاس ،پھل اور سبزیوں )کی قیمتیں گر رہی ہیں،لیکن حکومت بے خبر ہے۔گزشتہ دوبرسو ں کی 23لاکھ ٹن گندم گوداموں میں پڑی سڑرہی ہے اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

حکومت کے پاس گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش انتہائی محدود ہے۔گزشتہ برس محکمہ خواراک نے ایک سو نوے ارب روپے سے پچاس لاکھ ٹن گندم خریدنے کا عزم کیا تھا، لیکن ہد ف صرف 48فیصد حاصل کرنے کے بعد محکمے نے خریداری بند کردی ۔اس سال بھی ابھی گندم کی کٹائی درمیان میں نہیں پہنچی، لیکن آثار یہی نظر آرہے ہیں کہ حسب دستور سابقہ مشق دہرائی جائے گی،جس سے کسی کا کچھ نہیں بگڑ ے گا، لیکن غریب کسان ماراجائے گا،۔پاکستان کو قدرت نے زراعت اور کاشتکاری کے لئے جفاکش اور محنتی کسان زرخیز زمین وافر پانی اور سازگار موسم عطا کررکھا ہے، لیکن اس کے باوجود یہی معیشت دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں انتہائی پسماندہ ہے۔

بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں غربت کے باعث بیشتر محنت کش آبادی،محنت مزدوری کے لئے شہروں اور بیرونِ ملک نقل مکانی کر گئی ہے۔دوسرے زرعی ملکوں میں زرعی صنعتوں کے باعث خوشحالی کا یہ عالم ہے کہ آبادی شہروں سے دیہات کا رخ کرتی ہے۔ہمارے ہاں کوئی زرعی پالیسی ان معنوں میں نہیں ہے کہ عام کاشتکار اور بے زمین کاشتکار اس کانشانہ نہیں۔زرعی پالیسی کی بنیاد پر حاصل ہونیوالی تمام مراعات بڑے بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کی نذر ہوجاتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -