جالبی مگر زندہ رہے گا

جالبی مگر زندہ رہے گا
جالبی مگر زندہ رہے گا

  

اردو صحافت میں چار سال گزر گئے ہیں اور مستقبل کے چالیس سال بھی اسی خدمت میں گزارنے کا ارادہ ہے۔ انگریزی کو بولنے کی حد تک سیکھ لیا ہے مگر گذشتہ ماہ اردو ادب کو پڑھنے اور سیکھنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ ادیب تو بہت سارے ہیں جنہیں پڑھ کر واقعی مزہ آجاتا ہے مگر میں نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے کام کو پڑھنا شروع کیا تو لگا کہ شاید ایک ماہ تو ان کی کامیابیوں پر عش عش کرنے میں گزر جائے گا، پھر اُن کی تصانیف کو سمجھنے کے لئے بھی خاص اہلیت کا ہونا ضروری ہے۔ جب جب ڈاکٹر صاحب سے متعلق یا انکی لکھی ہوئی کتاب پڑھنے لگوں تو دل افسردہ ہوجاتا ہے،یہ میری زندگی کا پچھتاوا ہے کہ اُن سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ایک سال پہلے وہ ہم میں تھے اور میں انکی صحبت سے مستفید ہی نہ ہوسکی۔ آہ! مگر آج اُن کی پہلی برسی پر اُن کے کام کو خراج تحسین پیش کر کے اپنا کچھ حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

30 جولائی 1929 کو پیدا ہونے والے جمیل جالبی نے اردو ادب کو ایسی شناخت بخشی کہ صدر پاکستان کی طرف سے اِن کو ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔اردو ادب میں تحقیق سے لیکر روایت ،تنقید سمیت سینکڑوں پہلوؤں پر ڈاکٹر صاحب نے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر صاحب کی کتابیں اردو ادب کی لائبریری میں چراغ کی مانند چمکتی نظر اتی ہیں۔ اردو لغت میں بھی اُن کا کام کسی تعارف کا محتاج نہیں، اُن کی کتاب (فرہنگ اصطلاحات اور قومی انگلش اردو لغت) پڑھیں تو اردو لغت میں یقینی طور پر آپکی دلچسپی بڑھنے لگے گی۔ڈاکٹر جمیل جالبی نے انکم ٹیکس شعبے میں سرکاری نوکری کی جبکہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے، بعدازاں مقتدرہ قومی زبان کے چئیرمین بھی تعینات ہوئے۔"باتیں" کے نام سے ماہانہ لکھے گئے ان کے کالم اتنے جامع ہیں کہ ہر دور میں بطور حوالہ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔نیا دور میگزین بھی ڈاکٹر جمیل نے ہی شروع کیا تھا۔۔اچھا خیر یہ باتیں چھوڑئیے۔۔۔ انکی تصانیف اور خدمات پر بات کرنے لگیں تو شاید مجھے بھی بلاگز کی ایک سیریز لکھنا پڑے گی مگر انکی پہلی برسی پر میں ایک گہری سوچ میں مبتلا ہوں کہ نوجوان تو اپنے قیمتی سرمایے سے کس قدر غافل ہیں۔ وہ ہیرے جنہوں نے اپنی تمام عمر قومی زبان کی ترویج کے لئے وقف کر دی ہم میں سے بیشتر انکو پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔

انگریزی زبان کے لکھاریوں اور مصنفوں کے نام یاد کر لیتے ہیں اور ٹیڑھی زبان کر کے انکا نام کسی محفل میں لیکر خود کو پڑھا لکھا محسوس کرتے ہیں مگر اپنی ہی زبان کو وہ اہمیت نہیں دیتے جسکی وہ حقدار ہے ۔ایک لمحہ سوچئے کہ کیا وہ قومیں کبھی ترقی کر پاتی ہیں جو اپنے ستاروں کو چھوڑ کر دوسرے ستاروں کی چمک کے لئے مارے مارے پھرتی ہیں؟ یقینا جواب نہیں میں ہوگا۔۔۔اسلئے ہوش کے ناخن لیں اور میرے مشورے پر ایک بار جالبی صاحب کی کوئی کتاب سرہانے رکھ کر دیکھیں ۔ اُن میں اتنا سحر تو ہے کہ سونے سے پہلے اپ کچھ صفحات پڑھ لیا کریں گے۔ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کے درجات اللہ بلند کرے ایک بار انکے لئے فاتحہ پڑھیں اور عہد کریں کہ اپنی زبان کو اپنائیں گے ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -