ہتھیار یا زندگی

ہتھیار یا زندگی

  

کورونا وائرس نے عالمی سطح پر خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے۔ کورونا وبا کی عفریت نے جو حالات پیدا کئے ہیں، اس سے ایک بات تو طے ہے کہ اس پر قابو پانے کے بعد انسانی جان کی حفاظت کو پوری دنیا میں اولین ترجیح دی جائے گی۔ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ بائیس ہزار ہو چکی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ساڑھے انیس لاکھ لوگ اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی خوفناک تعداد نے ہمیں ایک سچائی سے روشناس کرایا ہے کہ پوری دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو وبائی امراض کا سامنا کر سکے۔ ترقی پذیر ممالک نے اس وبا کا شکار ہونا ہی تھا مگر ترقی یافتہ ممالک کا کورونا کی لپیٹ میں آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان میں بھی ہیلتھ سیکٹر پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ امریکہ جسے ہم سپر پاور کہتے ہیں وہ تک کورونا کے شکنجے میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ امریکہ میں ہونے والی چوبیس ہزار اموات اور پانچ لاکھ نوے ہزار کورونا کے کیس اس بات کا ثبوت ہیں کہ کورونا کا سامنا کرنے کے لئے امریکہ بھی تیار نہیں تھا۔ اس وبا کے پھیلنے سے ایک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ کسی بھی بڑی وبا کا سامنا کرنے کے لئے کسی بھی ملک کے پاس میڈیکل آلات ہی کافی نہیں ہیں۔ کسی کو وینٹی لیٹر کی تلاش ہے تو کسی کو ہائیڈرویکسی کلوروکائن کی گولیوں کی کھوج۔

2018ء کی رپورٹ کے مطابق عالمی فوجی اخراجات ایک ہزار آٹھ سو بائیس بلین ڈالر ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قومیں دفاع پر اندھا دھند پیسہ خرچ کر تی ہیں۔ کورونا وبا کے پھوٹنے کے بعد اب پوری دنیا کے ممالک کو احساس ہوا ہے کہ وہ صحت کے شعبوں میں کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ 2019ء میں نیٹو کے فوجی اخراجات ایک ہزار چھتیس بلین ڈالر تھے۔ اسی طرح امریکہ نے چھ سو پچاس بلین ڈالر، چین نے ایک سو ستتر بلین ڈالر، روس نے اڑتالیس بلین ڈالر، انگلینڈ نے ستاون بلین ڈالر، فرانس نے پچپن بلین ڈالر، بھارت نے پینسٹھ بلین ڈالر اور شمالی کوریا نے چھ بلین ڈالر کا خرچہ اپنی اپنی افواج پر کیا۔ دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا سالانہ بجٹ صرف چار بلین ڈالر ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا طاقت کے نشے میں اتنی بری طرح چور تھی کہ وہ انسانی جانوں کو ترجیح دینا جیسے بھول ہی گئی تھی۔ دنیا نئے ہتھیاروں اور نئے جہازوں کی دوڑ میں اس طرح مگن تھی کہ جیسے ان کا پھر کبھی کسی قدرتی آفت سے پالا نہیں پڑنا۔ جنگ تو تب ہوگی نا جب دنیا بچے گی۔

اب وقت آگیا ہے کہ پوری دنیا کودفاعی بجٹ پر ہیلتھ بجٹ کو تر جیح دینی ہوگی۔ کورونا نے چار ماہ میں ایک لاکھ سے زیادہ جانیں لے لیں اور ابھی تک ہم اس کا علاج دریافت نہیں کر پائے۔ خدانخواستہ اگر اسی دوران ایک اور مہلک وائرس پھوٹ پڑے تو دنیا کا کیا حال ہوگا۔ ان حالات میں دنیا ایک ساتھ دو وائرسز کا سامنا نہ کر پائے گی۔ ایسا سوچنا کہ ایسی وبا دوبارہ نہیں آئے گی حماقت کے سوا کچھ اور نہیں۔ قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں ہاں مگر احتیاطی تدابیر، ادویات بنائی جا سکتی ہیں۔ پوری دنیا کو چاہیے کہ آنے والے چند سال میڈیکل ریسرچ اور ویکسینیشن پر بھر پور کام کرے۔ ہر قسم کی وبا اور بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیراختیار کریں۔ ہمیں کورونا کے پھوٹنے سے لے کر اس پر قابو پانے تک کے دورانیے کو بڑے غور سے دیکھنا ہوگا اور ڈھونڈنا ہوگا کہ ہم نے کہاں کہاں غلطیاں کیں۔ اس سے ہمیں مستقبل میں درست اقدامات کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ مثال کے طور پر امریکہ وہ پہلا ملک تھا جو چین کے شہر ووہان میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس لے گیا اور اس کے نتیجے میں کورونا وہاں پھیل گیا اور چوبیس ہزار جانیں لے گیا۔ اسی طرح اٹلی نے بھی کورونا کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور وقت پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ نتیجے میں سیر و سیاحت کے لئے مقبول شہر وینس کورونا کے باعث موت کا شہر بن گیا۔

بابا آدم کے زمانے سے لے کر آج تک جتنے بھی وبائی امراض پھیلے ان میں اکثر حیوانات کے باعث پھیلے۔ چیچک، ملیریا، ہسپانوی فلُو اور اب کورونا سب کا تعلق جانوروں سے تھا۔ اب مستقبل میں انسانوں کی صحت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی نگہداشت بھی بہتر بنانا ہو گی۔ صحت اور صفائی کے حوالے سے پہلے سے زیادہ چوکنا رہنا ہوگا۔ جسم کی صفائی، گھر کی صفائی، محلے کی صفائی، شہر کی صفائی اور ملک کی صفائی سب کا مشترکہ مفاد بن چکا ہے۔ کورونا کے بعد دنیا ایک نئی شکل میں سامنے آرہی ہے کہ انسانوں کے باہمی میل جول میں اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ بیماریاں ایک دوسرے کو نہ لگیں۔ احتیاطی تدابیر اور ادویات پر فوکس کرنا ہوگا۔ زندگی فطرت کے مطابق گزارنا ہوگی۔ کیونکہ ہم نے دیکھ لیا کہ غیر فطری طریقے سے زندگی گزارنے کے نتائج کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -