ازداوجی زندگی کا درس

ازداوجی زندگی کا درس
ازداوجی زندگی کا درس

  

شادی کے دن رخصتی کے موقعے پر ابو کا گھنیرا سایہ واضح دلیل تھا کہ"اولاد کے لئیےباپ ہونے کے احساس سے زیادہ قیمتی شے اور کچھ نہیں"

زمانے کے گرم و سرد سے بے نیاز یہ ماورائی رشتہ ایسا ہے جسکے تصور سے بلائیں ٹلتی چلی جاتی ہیں اور دنیا محفوظ پناگاہ لگتی ہے۔

ماضی کی بیش بہاقیمتی یادیں وہ سنہرے دن ہیں۔جب ابو انگلی تھامے سکو ل چھوڑ کر آتے،دن بھرمحنت مشقت کے بعد گھر لوٹتے تو چہرے پر تھکن کا شائبہ تک نہ ہوتا،ہوم ورک کرواتے،خاکوں میں رنگ بھرواتے ہوئے رنگوں کی پہچان کرواتیوہیں اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتے،آنکھ مچولی اور چھپن چھپائی کھیلتے،سیروتفریح کے بہانے تاریخی مقامات کی اہمیت اجاگر کرتے،اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ہر پل ہماری خواہشات کی تکمیل کے لئیے تیار رہتے،دنیا کے نقشے کی مانند روٹیوں اور بدمزہ کھانوں پر داد دیتے، تعلیمی مشکلات، دینی و دنیاوی معاملات میں رہنمائی کرتی اور زندگی کے امتحانات و ناکامیوں کا تبصرہ کرتے ہوئے بہادری کا شفیق انداز سے درس دیتے۔

اگر کہا جائے کہ باپ ہی وہ واحد شخصیت ہے جو ساری عمر پیسہ کمانے کی مشین بننا صرف اسلئے قبول کرتا ہے تا کہ اولاد خاص طور پر بیٹی کو خود سے زیادہ خوش باش،مضبوط اور کامیاب دیکھے تو غلط نہ ہوگا۔

بلا شبہ بیٹی سے باپ کی محبت کو لفظوں میں قید کرنا ممکن ہی نہیں۔ پرورش و تربیت سے لے کر زندگی کے ہر مر حلے پر باپ کا کلیدی کردار نمایاں نظر آتا ہے۔

میری ازدواجی زندگی کے آغاز پر ابو کا تجربات پر مبنی تجزیہ بھی باپ کی ایک رہنمائی کا تر جمان ہے جو کہ کچھ یوں تھا

زندگی کے ادوار دو طرح کے رشتوں پر مشتمل ہوتے ہیں ایک وہ جو ہم بناتے ہیں ایک وہ جو ہمیں ملتے ہیں۔ازداوجی زندگی کا دور رشتوں کی قدرومنزلت اور نزاکت کا بہترین عکاس ہے۔کیونکہ اس میں نہ صرف دو خاندانوں کے مابین رسموں و رواج اور باہمی میل و اعتماد کے ساتھ نئے رشتوں کا آغاز ہوتا ہے۔بلکے دو فریقین محبت و رضا سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہدوپیمان کرتے ہیں۔اس اقدام سے معاشرے میں نئے گھرانے جنم لیتے ہیں اور بچوں کو شناخت اور قانونی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔اس دور میں مسائل کی تعداد خصوصا خواتین کے لئیے اس بنا پر زیادہ ہوتی ہے کہ ایک جانب انسانی تعلق میں متضاد خیالات کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔تو دوسری جانب والدین کے لاڈ پیار اور نازونعم میں پل کر پرائے گھر میں پیش آنے والے مسائل بے یقینی سے ہوتے ہیں۔اس کے لئیے لازم ہے کہ مسائل کو تسلیم کرتے ہوئیدرمیان کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ کسی کو بھی کمتری کا احساس نہ ہو۔دوراندیشی، باہمی احترام، حسن سلوک، دریا دلی اور کفایت شعاری سے مقدس و محترم رشتے کی حلاوت بر قرار رکھتے ہوئے زندگی کے اس دور کو جنت نظیر بنایا جاسکتا ہے۔

ابو کی یہ رہنمائی تا حیات مشعل راہ رہے گی۔الفاظ کا وہ ذخیرہ ہی نہیں جو باپ کی شخصیت و احساسات کا احاطہ کر سکے۔اللہ دنیا کے ہر والد کا سایہ سالامت رکھے۔آمین۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -