حکمران کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنی فہم و فراست کی روشنی میں ریاست کے مسائل سے نبردآزما ہو اور امن و امان قائم کرے

حکمران کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنی فہم و فراست کی روشنی میں ریاست کے مسائل سے ...
حکمران کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنی فہم و فراست کی روشنی میں ریاست کے مسائل سے نبردآزما ہو اور امن و امان قائم کرے

  

مصنف :ملک اشفاق

قسط: 33

 افلاطون نے اپنے اس استدلال سے تھریسی میکس کو تو چپ کرا دیا لیکن اس کا کہنا کہ عدل اچھا تو ہے لیکن یہ ایک غیر فطری سی چیز ہے۔ اس نظرئیے کو لوگوں کے دلوں سے نکال نہ سکا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ عدل ایک ”رسم“ ہے جس پر لوگ عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سلسلے میں اس کی یہ بحث سامنے آتی ہے کہ عدل ایک رسمی چیز ہے۔ فطری لحاظ سے آدمی ایک حد تک ظلم کرتا اور سہتا ہے لیکن جب یہ حد انسانی برداشت سے بڑھنے لگی تو لوگوں نے باہم ظلم نہ کرنے اور نہ سہنے کا معاہدہ کر لیا اور اس معاہدے کو قانون کی شکل دے کر کچھ اصول مقرر کر لیے۔ رفتہ رفتہ انسانی فطرت عدل کی چھاﺅں میں پروان چڑھی۔ یوں عدل ایک ایسا اصول ہے جو ظلم کرنے اور سہنے کا ایک درمیانی راستہ ہے۔ اگرچہ تھریسی میکس کے مطابق عدل طاقتور کے مفاد کا نام ہے تو یہاں عدل سے مراد کمزور کی حمایت بھی ہے۔

 ان مباحث کے دوران افلاطون محسوس کرتا ہے کہ عدل کے پیش کئے جانے والے نظریات میں یہ بات مشترک ہے کہ سب عدل کو خارجی چیز سمجھتے ہیں اور افلاطون یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ ایک روحانی صفت ہے۔ اس لیے وہ منطقی استدلال کے بجائے نفسیاتی دلیل سے کام لیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ایک کتاب کے دو نسخے ایک جلی اور دوسرا خفی ہو۔ تو جلی کے پڑھنے میں آسانی ہوگی۔ اس طرح کتاب عدل کے بھی دو نسخے ہیں۔ جلی اجتماعی زندگی میں اور خفی انفرادی زندگی میں ملتا ہے۔ پہلا حصہ ریاست میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ریاست ابھی تعمیر کے مراحل میں ہے اور اجتماعی زندگی پہلی مرتبہ متعین ہو رہی ہو اور سیاسی شکل اختیار کر رہی ہو۔ تو اس وقت عدل کا جلوہ تاریخی آسودگیوں سے پاک نظر کے سامنے آ جائے گا۔ لہٰذا افلاطون تخیلاتی ریاست کی بنیاد رکھتا ہے اور اسی طرح عدل کی تلاش میں ایک ریاست کا دستور مرتب کرتا ہے۔

 ریاست کے دستور کی ترتیب میں انفرادی انسانی نفسیات کی فیثا غورثی تقسیم سہ گانہ افلاطون کے پیش نظر رہی۔ جس طرح انسانی روح3 عناصر کا مرکب ہے۔ یعنی اشتہائی عنصر، جری عنصر اور عقلی عنصر۔ اسی طرح ریاست بھی 3 طبقوں میں منقسم ہوتی ہے۔ افلاطون سب سے پشت عنصر اشتہائی سے شروع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسانی ضروریات اسے باہمی تعاون پر اکساتی ہیں ابتدا ہی میں اسے معاشی نظام میں تخصیص اور تقسیم کا عمل نظر آتا ہے۔ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مادی چیزوں کی طلب کرتا ہے۔ مختلف فنون اس کی ضرورت بن جاتے ہیں اور ان کی فراہمی کے لیے ایک بڑی آبادی اور رقبہ درکار ہوتا ہے اور اس طرح انسانوں سے بھرے اس خطہ زمین کو محفوظ اور پرامن بھی رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح ریاست کی حفاظت کے لیے سپاہیوں کی ضرورت پڑتی ہے اور سپاہی بھی وہ جو عسکری علوم وفنون میں مہارت رکھتے ہوں۔ ان سپاہیوں میں جری عنصر کا ہونا کافی نہیں بلکہ ان کو اپنوں کے لیے باریشم نرم اور دشمنوں کے لیے فولاد ہونا چاہیے۔ دوست اور دشمن میں وجہ امتیاز عقلی عنصر ہے۔ لہٰذا ریاست کے اس محافظ طبقے میں عقلی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر سپاہیوں میں عقلی عنصر کا ہونا ضروری ہے تو ریاست کے حکمران کےلئے تو یہ عنصر ازحد ضروری ہے۔ اس طرح افلاطون عقلی لحاظ سے محافظوں کو 2حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک ریاستی حفاظت کےلئے سپاہی اور دوسرا کامل عقل کا مالک ، حقیقی معنوں میں یہ ریاست کا حکمران یا فلسفی بادشاہ ہے۔ ان 3طبقوں کی ریاست بنا کر افلاطون ان کو ریاست میں عدل و انصا ف کا علمبردار قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ریاست کے 4 محاسن ہیں:-1 حکمت،-2 شجاعت-3 عفت اور -4عدل۔ پہلے 3 محاسن تینوں طبقوں کے خاص جزو ہوتے ہیں یعنی حکمت حکمرانوں کےلئے، شجاعت سپاہیوں اور عفت یا ضبط نفس ہنر مند طبقے کےلئے ہیں۔

 وہ عدل کے متعلق سوال کرتا ہے کہ آخر یہ کس طبقے کےلئے مخصوص ہے اور پھر جواب دیتا ہے کہ یہ کسی خاص طبقے کی میراث نہیں بلکہ سب کی میراث ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طبقہ اپنے مخصوص فن کی طرف خاص توجہ دے اور دوسرے کے کام میں دخل نہ دے۔حکمران کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت اور فہم و فراست کی روشنی میں ریاست کے مسائل سے نبردآزما ہو اور امن و امان قائم کرے۔ سپاہی کا عدل یہ کہ وہ اپنی جرات و شجاعت سے ریاست کی حفاظت کرے۔ ہنر مندوں کا عدل یہ کہ وہ معاشی زندگی کے کل پرزوں کو اعتدال کے ساتھ چلائیں۔ جب تمام لوگ اپنے اپنے کاموں کو بہتر انداز میں سرانجام دیں گے تو ریاست میں عدل قائم ہو جائے گا۔ اپنے کام کو پورے انہماک سے کرناہی عدل ہے۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -