یہ یقین کر لینا کہ کوئی کام نہیں ہو سکتا تباہ کن سوچ ہے

یہ یقین کر لینا کہ کوئی کام نہیں ہو سکتا تباہ کن سوچ ہے
یہ یقین کر لینا کہ کوئی کام نہیں ہو سکتا تباہ کن سوچ ہے

  

مستقل عنوان : بڑی سوچ بڑی کامیابی 

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:42

میں نے ان سے کہا، کہ میں نے جیلوں کو ختم کرنے کا سوال صرف ایک نقطہ بیان کرنے کیلئے کیا تھا۔

اب آپ میں سے ہر کوئی مجھے بتائے کہ کس وجہ سے ہم اپنی جیلوں کو ختم نہیں کر سکتے؟ کیا آپ تھوڑی سی کوشش کر کے چند منٹ کیلئے اس بات پر یقین نہیں کر سکتے کہ ہم جیلوں کو ختم کر سکتے ہیں؟ لوگوں نے اس تجزیے میں حصہ لیتے ہوئے کہا یہ بات تو بھٹکانے جیسی ہے۔

تب میں نے ان سے کہا: اب فرض کریں ہم جیلوں کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن اس کام کو ہم شروع کیسے کریں گے؟ پھر پہلی تجویز آئی، کسی نے ہچکچاتے ہوئے کہا: اگر آپ نوجوانوں کی تربیت کے مراکز قائم کر دیں تو آپ جرائم کو ختم کر سکتے ہیں۔

یہی لوگ جو 10 منٹ پہلے میرے خیال کے مخالف تھے اب وہ میرے خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میرے ساتھ تھے۔

غربت کو ختم کرنے کیلئے کام کریں، کیونکہ زیادہ جرائم کی وجہ غربت ہے۔

تحقیق کر کے جرائم کی اہلیت کو ختم کر دیا جائے توجرائم نہیں ہوں گے۔

جرائم پیشہ افراد کا علاج کر کے جرائم ختم کیے جا سکتے ہیں۔

لوگوں کی انفرادی فلاحی تعلیم سے جرائم کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

یہاں میں کچھ خاص تجویز دے رہا ہوں جن کی مدد سے ہم جیلوں کو ختم کر سکتے ہیں۔

جب آپ یقین کو پختہ کر لیتے ہیں تو آپ کا ذہن کامیابی کے راستے تلاش کر لیتا ہے۔

مندرجہ بالا تجربہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کے بارے میں یقین کر لیتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے تو پھر آپ کا ذہن اس کو ثابت کرنے کیلئے کام کرنا شروع کر دیتا ہے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا لیکن جب آپ پختہ یقین کر لیتے ہیں کہ اس کام کو کیا جا سکتا ہے تو آپ کا ذہن اس کام کو کرنے کیلئے کام شروع کر دیتا ہے اور آپ کا ذہن اس کام کو کرنے کیلئے راستے تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

جب ہم کسی کام کو کر لینے پر یقین رکھتے ہیں تویہ ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ یہ یقین کر لینا کہ کوئی کام نہیں ہو سکتا تباہ کن سوچ ہے۔

سیاسی رہنما جو کہ بین الاقوامی امن پر پورے طور پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے وہ دنیا میں امن قائم کنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن کی تخلیقی صلاحیت امن پیدا کرنے کے راستوں کو بند کر دیتی ہیں۔ جو کاروباری لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ مقابلے میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی تخلیقی قوتیں ان کےلئے راستے بنا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں۔

اس طرح آپ بھی کامیابی کا راستہ تلاش کرنے کیلئے یقینی تخلیقی سوچ کو اپنا سکتے ہیں۔

آپ اپنے ذاتی مسائل حل کر سکتے ہیں، اگر آپ ان کے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یقین تخلیقی قوتوںکو پیدا کرتا ہے۔ غیریقینی ناکامی کی طرف لے جاتی ہے۔

یقین آپ کے اندر تعمیری سوچ پیدا کرنی شروع کر دے گا۔ آپ کا ذہن آپ کی کامیابی کیلئے راستہ بنائے گا۔

2 سال پہلے کی بات ہے کہ ایک نوجوان نے مجھ سے کہا کہ میری مدد کریں تاکہ میں ایک ایسی نوکری حاصل کر لوں جس کا مستقبل بہت اچھا ہو۔ وہ نوجوان ایک کمپنی میں کلرک تھا اور اسے تنخواہ بہت کم ملتی تھی۔میں نے ا س نوجوان سے کچھ دیر گفتگو کی اور اس کا سابقہ ریکارڈ چیک کیا، میں نے اس کی تعریف کی اور کہا کہ تم واقعی ہی ایک اچھی ملازمت حاصل کر لو گے کیونکہ تم ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہو، لیکن جیسی نوکری تم چاہتے ہو اس کیلئے کالج کی ڈگری کی ضرورت ہے۔ تم یہ ڈگری 2سال میں حاصل کر سکتے ہو پھر تمہیں مطلوبہ ملازمت ضرور مل جائے گی۔

نوجوان نے کہا، میں محسوس کرتا ہوں کہ کالج کی تعلیم میری مدد کر سکتی ہے لیکن اب کالج جانا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔

ممکن نہیں؟میں نے پوچھا!

اس نے کہنا شروع کیا میری عمر اس وقت 24 سال ہے، میں دوسرے بچے کا باپ بننے والا ہوں، اگر میں ملازمت چھوڑ دوں تو خاندان کی کفالت کیسے کروں گا؟ شاید یہ میرے لیے ناممکن ہے۔

دراصل نوجوان نے سمجھ رکھا تھا کہ اس کی کالج کی تعلیم اب اس کیلئے ختم ہو چکی ہے۔

تب میں نے اس سے کہا: اگر تم ا س بات پر یقین رکھو کہ تم دوبارہ کالج یا یونیورسٹی جا سکتے ہو تو شاید حل نکل آئے گا۔

آپ اپنے ذہن میں رکھیں کہ آپ دوبارہ کالج جا سکتے ہیں، شاید یہ بات آپ کے ذہن میں کوئی راستہ نکال لے۔ تم یقین رکھو کہ تم ایسا کر سکتے ہو اور اپنے خاندان کی کفالت بھی کر سکتے ہو۔

تم 2ہفتے کے بعد آنا اور پھر مجھے بتاناکیا کیا ہے۔ یہ نوجوان 2 ہفتوں کے بعد میرے پاس آیا، اس نے کہا میں نے آپ کے کہنے کے مطابق بہت سوچا اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کالج ضرور جاﺅں گا۔ میں نے تجزیہ کیا اور اس کا حل بھی تلاش کر لیا ہے۔ اس نے کالج سے ڈگری حاصل کر لی۔

وہ ایک ٹریڈ ایسوسی ایشن سے وظیفہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وظیفے سے وہ اپنی ٹیوشن فیس ادا کرتا اور کتابیں وغیرہ خریدتا۔ اس نے نوکری بھی جاری رکھی اور کالج بھی جاتا رہا۔ اس میں اسے اس کی بیوی کی بھی مدد حاصل رہی۔میاں بیوی نے اپنے بجٹ کا توازن بھی صحیح رکھا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے منزل کو پا بھی لیا۔ اس نے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنی من پسند نوکری بھی حاصل کر لی۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -