ہنزہ 2حصوں میں تقسیم ہے، لوگوں کے عقیدے کے علاوہ مزاج میں بھی صدیوں پر محیط فا صلہ ہے

ہنزہ 2حصوں میں تقسیم ہے، لوگوں کے عقیدے کے علاوہ مزاج میں بھی صدیوں پر محیط فا ...
ہنزہ 2حصوں میں تقسیم ہے، لوگوں کے عقیدے کے علاوہ مزاج میں بھی صدیوں پر محیط فا صلہ ہے

  

 مستقل عنوان : ہنزہ کے رات دن 

مین سرخی : ہنزہ 2حصوں میں تقسیم ہے، لوگوں کے عقیدے کے علاوہ مزاج میں بھی صدیوں پر محیط فا صلہ ہے

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :49

 میرے بچپن کا رہٹ:

 کنواں ہندوستان کے دیہاتوں اور قصبوں کا ایک بے حد رومانی مقام ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کے پیچھے کھیتوں میں (جہاں اب بدنما اور بے ترتیب گھر اور بڑا تبلیغی مر کز ہے) ایک رہٹ ہوتا تھا۔میں اپنی بی بی (دادی) کے ساتھ وہاں تازہ ساگ، پالک،میتھی، مو لیاں، گاجریں وغیرہ لینے جا یا کرتاتھا۔پیپل کے پیڑ تلے چھوٹی مسجد کے ساتھ کھیت سینچنے کے لیے ایک کنواں تھا جس کے ساتھ ہی رہٹ تھاجسے آنکھوں پر کھو پے چڑھائے ایک بیل چلاتا تھا۔بیل کے پیچھے زمین سے بہت قریب ایک پیڑھی نما گدی بندھی ہوتی تھی جس پر بیل کو ہانکنے والا کسان بیٹھتا جو بیل کے سست ہونے پر اسے چھڑی سے مارتے ہوئے ”ٹھٹھ،ٹھٹھ“ کہتا جس پر بیل دوبارہ تیز چلنے لگتا اور رہٹ کی روں روں اور چوں چوں کی آواز کے ساتھ ٹھنڈا میٹھا پانی ٹین کی ایک نالی سے ہوتا ہوا اوہلو میں گرنے لگتا۔ لوگ ہاتھ کی اوک بنا کر اسے پیتے۔ اوہلو کے آگے بنے چو بچے میں عورتیں گھر کے کپڑے تھاپیوں(لکڑی کے بیٹ نما چپٹے ڈنڈے) سے پیٹ پیٹ کر دھوتیں اور بچوں کو نہلاتیں۔ کوئی بچہ اڑی یا شرارت کرتا تو یہی تھاپی اس کی جھاڑ پونچھ کے کام بھی آتی۔ بوڑھے بھی وہیں نہا کر دھوپ سینکتے ہوئے حقہ پیتے اور آپس میں باتیں کرتے۔جتنی دیر میں کسان ساگ یا میتھی توڑ کر لاتا میں ایک طرف بیٹھ کر کسان سے لی ہوئی مولی یا گاجر کنویں کے پانی سے دھوکر کھاتارہتا۔ پھر ساگ یا پالک وغیرہ کی گٹھڑی سر پر اٹھائے بی بی کے ساتھ گھر لوٹ آتا۔ اس زمانے میں میری سب سے بڑی آرزو بیل کے پیچھے رہٹ چلانے والے کی گدی پر بیٹھ کر ”میری گو راو¿نڈ“ جھو لنے کی ہوتی تھی جس کا موقع کبھی نہیں ملا۔ پھر وہ کنواں بند ہو گیا، کھیتوں کی جگہ آبادی ہو گئی اور پورے معاشرے کا آکار ہی بدل گیا! 

 میں مشتاق سے ہٹ کرباہر سڑک پر آ کر ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور سڑک پار گہرائی میں وسیع ریتلے میدان کے اندر بے شمار شاخوں میں بٹے دریا ے ¿ ہنزہ کے پار سبز درختوں کے پردے میں لپٹی نو مل کی آ بادی کو دیکھنے لگا ۔ یہ دریا وادی ہنزہ اور وادی  نگر کے درمیان خط ِ تقسیم ہے۔دریا کے مشرقی کنارے پر نگر ہے اور مغربی کنارے پر ہنزہ۔دونوں وادیوں کے لوگوں کے عقیدے کے علاوہ مزاج میں بھی صدیوں پر محیط مشرق اور مغرب کا فا صلہ ہے۔ ہنزہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ یہاں سے گلمِت تک اس کا نام کنجوت یعنی زیریں ہنزہ ہے۔ اس سے آ گے چین کی سرحد تک اسے گوجال یعنی بالائی ہنزہ کہتے ہیں۔

تقریبا ًآدھ گھنٹا رکنے کے بعد پھر آ گے روانہ ہو ئے۔ چینیوں نے مر مت کے بعد شاہ راہ ِ ریشم پر جیسے ریشم ہی بچھا دیا ہے۔ گا ڑی کچھ اس سہو لت کے ساتھ اس سڑک پر دو ڑتی ہے کہ مسافر کو اندازہ نہیں ہو تا کہ گاڑی اُڑ رہی ہے، بہ رہی ہے یا دوڑ رہی ہے۔دائیں جانب خطر ناک مقامات پرپہا ڑوں سے بغیر اطلاع آ نے والے تو دوں اور پتھروں، یعنی لینڈ سلائیڈنگ، سے بچاو کے لیے کنکریٹ کی مضبوط نئی چھو ٹی سرنگیں بنا دی گئی ہیں تا کہ اوپر سے آ نے والے پتھر راستہ بند کیے بنا سڑک سے با لا بالا ہی دریا کی گہرائی میں اتر جائیں۔ ویگن پھر ایک جگہ رک گئی۔

”ٹورسٹ اپنا اپنا شنا ختی کارڈ نکالو بئی۔“ 

ڈرائی ور نے بیک ویو شیشے سے ہمیں دیکھتے ہوئے فرمان جاری کیا۔ ہم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کارڈ جمع کیے اور اس کے حوالے کر دئیے۔

گا ڑی ایک چیک پو سٹ پر رکی ہوئی تھی۔ سڑک کنارے ایک چھو ٹے سے کمرے کے باہر ایک میز کرسی پڑی تھی، میز پر ایک رجسٹر رکھا تھا۔ ہوا بہت تیز تھی جس کی تیزی میں اتنا تسلسل تھا کہ حیرانی ہو تی تھی۔ لگتا تھا کو ئی ایسابڑا پنکھا چلا ہوا ہے جو فلموں میں مصنو عی طوفان پیدا کر نے کے لیے چلا یا جا تا ہے۔چیک پوسٹ کے باہر خوبانی کے دو تین چھوٹے پودے لگے ہوئے تھے جو ہنزہ کے رخ حالت ِ رکوع میں تھے ۔ پودوں کی اس عاجزی کی وجہ بھی یہی طوفانی ہوا تھی، تم بھی اُدھر چلو کہ جدھر کی ہوا چلے۔ ان پودوں کو مکمل زمیں بوسی سے بچانے کے لیے کم زور تنوں سے ہوا کے مخالف رخ رسیاں بندھی تھیں جو بتاتی تھیں کہ یہاں ہوا کی عمومی رفتار اور رُخ یہی ہوتا ہے۔ 

 غیر ہنزائی مسا فروں سے شنا ختی کارڈ لے کر ڈرائی ور ویگن سے اترااور چیک پوسٹ پر موجود ایک آدمی کے حوالے کیے جو رجسٹر میں ان کا اندراج کر نے لگا ۔ اندراج میںکافی دیر لگ گئی لیکن گاڑی کے اندر مقامی مسافر بڑے تحمل سے کار روائی مکمل ہو نے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک تو یہ معمول کی مشق تھی دوسرے ہنزہ والے سیّا حوں کے معا ملے میں کافی کشادہ دل ہیں۔ ڈرائی ور نے اندراج کے بعد ہمارے شنا ختی کارڈز اپنے قبضہ قدرت میں رکھ لیے کہ آ گے چل کر بھی ان کی ضرورت پڑ نے والی تھی۔ ویگن پھر ہنزہ کی طرف دوڑنے لگی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -