18اپریل۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں 

18اپریل۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں 
18اپریل۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آج کے دن 1980کو جنوبی رہوڈیشیا نے برطانیہ سے باضابطہ آزادی حاصل کی۔ جنوبی رہوڈیشیا کا  بطور آزاد ملک نام زمبابوے رکھا گیا۔

واضح رہے زمبابوے90سال تک برطانیہ کی کالونی رہا،1965 میں زمبابوے خود مختار ملک بن گیا تھا لجب ایان ڈگلس اسمتھ کی طرف سے برطانیہ سے یکطرفہ اعلانِ آزادی  کرنے کے بعد ایک سفید فام علیحدگی پسند حکومت بنائی،لیکن برطانوی حکومت نے آزادی کیلئے اکثریتی حکومت بنانے کی شرط رکھی تھی۔1879میں ایبل ٹینڈیکائی نے پہلے اکثریتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد 18اپریل 1980کو زمبابوے کو آزاد مملکت تسلیم کر لیا گیا۔

18 اپریل 1906 کوایک زبردست زلزلہ آیا جس کا مرکز سان فرانسسکو کے قریب تھا،جو تقریباً 45 سے 60 سیکنڈ تک جاری رہا۔ زلزلے کے جھٹکے جنوبی اوریگون سے لے کر لاس اینجلس کے جنوب تک اور اندرون ملک وسطی نیواڈا تک محسوس کیے گئے۔ زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ ریسکیو سرگرمیوں کا بھی موقع نہ مل سکا،زلزلے کے بعد شہر کو آگ نے تباہ کر دیا جو 4 دن تک جلتی رہی۔ ہزاروں افراد اس وقت مر گئے جب ساؤتھ آف مارکیٹ کے مکانات زمین دھنس جانے سے گر گئے اور ان میں سے زیادہ تر عمارتوں میں فوری طور پر آگ لگ گئی اور پھنسے ہوئے متاثرین کو بچایا نہیں جا سکا۔

آج دنیا کے مشہور سائنسدادن آئن سٹائن کی برسی بھی ہے، آئن سٹائن 14مارچ 1879کو جرمنی میں پیدا ہوئے اور 76برس کی عمر میں 18اپریل 1955کو نیو جرسی میں وفات پائی۔آئن سٹائن نے جنگ عظیم اول میں جرمنی کی جنگ میں شامل ہونے کی کھل کر مخالفت کی اور جنگ میں جرمنی کی شمولیت کی مخالفت کرنے والے منشور پر دستخط کیے آئن سٹائن نے قوم پرستی کو انسان کا خسرہ قرار دیا اور لکھا کہ ایسے موقعوں پر احساس ہوتا ہے کہ وہ جانورکی کس خوفناک قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔

18اپریل 1959کواس وقت کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے اس وقت کے جدت پسند اخبارات کو بند کر دیا،ہفتے کی آدھی رات تک جدت پسند اخبارات جن میں ڈان،دی پاکستان ٹائمز، امروز، اور ہفتہ وار لیل او نہارشامل ہیں کے دفاتر کو مسلح پولیس اور سی آئی ڈی والوں کی ایک ٹیم نے گھیر لیا، اور رات کی شفٹ کو احاطے سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔اسی وقت، اسی طرح کے دستوں نے کمپنی کے چیئرمین میاں افتخار الدین، جو کہ اس کے زیادہ تر حصص کے مالک بھی تھے، اور اس کے منیجنگ ڈائریکٹر سید امیر حسین شاہ کی رہائش گاہوں کا محاصرہ کیا۔ پولیس کے پاس سرچ وارنٹ تھے اور انہیں پروگریسو پیپرز سے منسلک تمام دستاویزات کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے ''معقول طاقت'' استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔کارروائی سے کچھ ہفتوں پہلے تک، یہ افواہیں سنی تھیں کہ حکومت دی پاکستان ٹائمز سے ناخوش ہے۔

مزید :

ادب وثقافت -