پاکستان کا سرکاری قرضہ 42ہزار ارب سے متجاوز، جی ڈی پی کا حجم 55فیصد ہو گیا

      پاکستان کا سرکاری قرضہ 42ہزار ارب سے متجاوز، جی ڈی پی کا حجم 55فیصد ہو ...

  

        ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کا کل سرکاری قرضہ 42 ہزارارب روپے سے تجاوز کرگیا،قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا 55فیصد،بیرونی قرضہ 16ہزار ارب،غیر ترقیاتی اخراجات گھٹانے،برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں کمی کی اشد ضرورت۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق  دسمبر 2021 تک پاکستان کا کل سرکاری قرضہ 42,745  ارب روپے تھا جس میں 26,745 ارب روپے کے مقامی(بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

 قرضے اور 15,950 ارب روپے کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون 2021 میں ملک کا کل سرکاری قرضہ 39,859 ارب روپے تھا، جو جون 2020 میں 36,399 ارب روپے تھا۔ جون 2019 میں پاکستان کا سرکاری قرضہ 32,708 ارب روپے تھا۔مجموعی مقامی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب جون 2021 میں 55.1 فیصد، جون 2020 میں 56 فیصد اور جون 2019 میں 54.4 فیصد تھا۔ ملک کے بیرونی قرضوں سے جی ڈی پی کا تناسب جون 2021 میں 28.5 فیصد، جون 2020 میں 31.6 فیصد اور جون 2019 میں 31.4 فیصد تھا۔ ڈالر میں بات کی جائے تو پاکستان کا مقامی قرضہ جون 2021 میں 167 ارب ڈالر، جون 2020 میں  138 ارب ڈالر اور جون 2019 میں 127 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔جون 2021 میں پاکستان کا کل سرکاری قرضہ 253 ارب ڈالر، جون 2020 میں 216 ارب ڈالر اور جون 2019 میں 200 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو کم،برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں کمی اوراپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے چاہیں۔ حکومت کو معیشت کو دستاویزی شکل دینا چاہیے اور فیڈرل بیورو آف ریونیو کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔ ترقیاتی مقاصد کے لیے نرم شرائط پر قرضہ لینا چاہیے،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور فنڈز کے حصول کے لیے دیگر ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سرکار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -