پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب

پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب

  

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا مرحلہ بعداز خرابی ئ بسیار مکمل ہو گیا۔اِس دوران چھ گھنٹے تک پنجاب اسمبلی کے اندر جو ہنگامہ آرائی ہوئی اُسے ایک تلخ حقیقت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اس سارے معاملے میں جمہوری اقدار اور وسیع النظری کا فقدان نظر آیا۔ایوان کے اندر جو کچھ ہوتا رہا وہ کسی بھی طرح ایک مہذب معاشرے اور مقدس ایوان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پچھلے دو ہفتوں سے پنجاب اسمبلی کے حالات کشیدگی کا شکار تھے، اجلاس ہونے نہیں دیا جا رہا تھا،اسمبلی کو سیل کیا گیا،تالہ بندی کی گئی،خار زار تاریں تک لگائی گئیں،معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں گیا،ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحال کر کے عدالت نے16اپریل کو قائد ایوان کا انتخاب کرانے کی ہدایت کی۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں امیدواروں چودھری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز کی طرف سے ووٹنگ کے دن حالات کو سازگار رکھنے کے لیے معاملات طے کر لیے جاتے،مگر اس کی بجائے ایوان کو  مچھلی  منڈی بنا دیاگیا۔ ایوان میں لوٹے پہنچا دیئے گئے،کشیدگی کو ہوا دی گئی۔صورتِ حال اُس وقت انتہائی خراب ہوئی جب ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ق) کے ممبرانِ اسمبلی نے حملہ کر دیا۔انہیں جسمانی تشدد کا نشان بنایا،اسمبلی کے سیکیورٹی سٹاف نے اُنہیں بڑی مشکل سے اُن کے چیمبر میں پہنچایا،جس کے بعد ایوان کی کارروائی رُک گئی اور یوں دکھائی دیتا تھا کہ ہال میں موجود دونوں دھڑوں کے ارکانِ اسمبلی آپس میں دست و گریبان ہو جائیں گے۔ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری تشدد کا نشانہ بننے کے باوجود پُرعزم تھے کہ اجلاس ضرور ہو گا اور عدالت کے حکم پر آج ہی ووٹنگ کرائی جائے گی۔حیران کن امر یہ ہے کہ اسمبلی ہال میں دونوں امیدوار موجود تھے، وہ چاہتے تو حالات کو کنٹرول کر سکتے تھے، مگر ایسا نہ ہو سکا،معاملہ اُس وقت زیادہ خراب ہوا جب ہال میں پولیس داخل ہوئی۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ق) کے ارکان اسمبلی پولیس آنے پر مشتعل ہو گئے،اسی دوران ہال کے اندر گیلریوں میں بیٹھے ہوئے افراد بھی ہال میں کود پڑے،معاملہ بڑھتے بڑھتے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔اسی دھکم پیل میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بھی زخمی ہو گئے۔اُنہیں بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ کرا کے ایوان سے باہر نکالا گیا، پولیس کی بھاری نفری ڈپٹی سپیکر کے حکم سے بلائی گئی،جس نے ایوان کا کنٹرول سنبھالا، جس کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ق) کے ارکانِ اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوا،اِس سارے عمل میں ایسے مواقع بھی آئے، جب اشتعال کا عالم اپنے عروج پر تھا۔ارکانِ اسمبلی پولیس والوں سے دوبدو تھے،لاتوں،گھونسوں اور دھکم پیل کے دوران سب اپنا ہوش کھو چکے تھے۔کسی کو یہ یاد نہیں رہا تھا کہ وہ صوبے کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے کے ایوان میں کھڑے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا پر آ کر یہ الزام بھی لگایا کہ بیرونی عناصر ہال میں داخل ہو گئے ہیں، جن کے پاس اسلحہ بھی ہے،گویا صورتِ حال سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی تھی۔چودھری پرویز الٰہی یہ تو کہتے رہے کہ آج تک پنجاب اسمبلی کے اندر پولیس داخل نہیں ہوئی،یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس ہال کے اندر آئی ہے،مگر یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ اس قسم کی صورتِ حال بھی اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں دیکھی نہیں گئی تھی،جس میں تشدد اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ کوئی بڑا واقعہ بھی ہو سکتا تھا۔ بہرحال پولیس نے جب ہال کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا تو اسمبلی کی کارروائی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوئی،حکومتی ارکان بائیکاٹ کر کے باہر چلے گئے اور قائد ایوان کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوا،جس میں حمزہ شہباز نے 197 ووٹ لیے،جبکہ چودھری پرویزالٰہی کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔اس طرح اعصاب شکن اور کشیدہ مراحل سے گزر کر بالآخر وزیراعلیٰ کے نتخاب کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔تاہم یہ ہمارے جمہوری عمل اور پارلیمانی روایات پر ایک بدنما داغ کی صورت موجود رہے گا۔اول تو سب کچھ آئین کے مطابق ہونا چاہیے تھا،اگر کسی کو کچھ اعتراض تھا تو جمہوری روایات کے مطابق اُسے سامنے لایا جاتا،اس معاملے میں تو عدالت ِ عالیہ کا ایک واضح حکم بھی موجود تھا۔کم از کم اُس حکم کی پابندی ہی کر لی جاتی۔جمہویت میں اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔اگر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ق) کے پاس وزارتِ اعلیٰ کے لیے درکار ووٹ موجود نہیں تھے تو انہیں باوقار طریقے سے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔ڈپٹی سپیکر جو اُس وقت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،اُن پر ہاتھ اٹھانا، تشدد کرنا ایک ایسا عمل ہے،جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔کاش یہ سب کچھ نہ ہوتا اور آئینی و جمہوری طریقے سے تمام مراحل مکمل ہو جاتے۔تاہم اس ساری خرابی کے باوجود اچھی خبر یہ ہے کہ بالآخر صوبے کو اُس کا وزیراعلیٰ مل گیا ہے۔ حمزہ شہباز اسی ایوان میں تقریباً پونے چار برسوں تک قائد حزبِ اختلاف رہے ہیں۔وہ پنجاب کے حالات کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں صوبے کو ایک بہتر گورننس دینے کے حوالے سے بہت سی باتیں کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب  ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود گزشتہ چار برسوں میں انتظامی طور پر ایک کمزور نظام کا منظر پیش کرتا رہا ہے۔ اس کی نشاندہی حمزہ شہباز نے بھی اپنے خطاب میں کی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پنجاب کو میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کے اہداف کو سامنے رکھ کر چلایا جائے۔ عوام کے مسائل بہت زیادہ ہیں،چھوٹے بڑے ہر شہر میں عوام کو مہنگائی،بیروز گاری،بدامنی،صحت و صفائی کے مسائل اور دیگر شہری سہولتوں کے فقدان کا سامنا ہے۔حمزہ شہباز نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں دن رات ایک کر دیں گے، انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے،کیونکہ اس حکومت کے پاس وقت تھوڑا ہے اور عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔امید کی جانی چاہیے کہ پنجاب میں نئی حکومت کے انتخاب کا جو عمل مکمل ہوا ہے وہ مثبت اور خوشگوار تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -