میلسی،شہری قتل،پولیس کا روایتی تفتیشی انداز،ملزم بدستور آزاد

میلسی،شہری قتل،پولیس کا روایتی تفتیشی انداز،ملزم بدستور آزاد

  

میلسی(نامہ نگار)میلسی شہر کے رہائشی حافظ سلطان ارشاد اور فیصل ارشاد نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے مقتول بھائی کی تفتیش روایتی انداز میں کی جارہی ہے اور اب تک کچھ پتہ نہیں چلا کہ ان کے  بھائی سہیل ارشاد جو اٹلی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر کے (بقیہ نمبر9صفحہ6پر)

پاکستان آیاکو کن افراد نے قتل کیا   پریس کانفرنس میں انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وقوعہ کی شام ہم تینوں  بھائیوں نے میلسی سے جلہ جیم  جاکر وہاں ایک ہوٹل میں افطاری کی سہیل ارشادموٹر سائیکل پر  زرعی اراضی پر چلا گیا جہاں احاطہ ٹیوب ویل میں چھپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے تیز دھار آلات سے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیاہم پیدل گئے تو مقتول جاں بحق ہو چکا تھا اس کی اطلاع میلسی  کے تھانہ  صدر پولیس کو دی گئی تو ایس ایچ او نوید وڑائچ اور دیگر نفری موقع پر پہنچی اور ہمارے بھائی کا لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ قبضہ میں لے لیا لیکن ایک ہفتہ  سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پولیس نے اس قتل کیس بارے کوئی پیش رفت  کی نہ موبائل فون کا کوڈ تک  کھلوایا۔ انہوں نے آر پی او ملتان اور ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ان کے بھائی کے قتل  کے مقدمے  کی موثر تفتیش کا حکم دیا جائے  اور پولیس کو جدید خطوط پر تفتیش کا پابند کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -