اسٹیبلشمنٹ کا جھوٹا عمران خان  

  اسٹیبلشمنٹ کا جھوٹا عمران خان  
  اسٹیبلشمنٹ کا جھوٹا عمران خان  

  

نواز شریف اقتدار سے باہر ہوئے تھے تومرکزاورپنجاب میں ان کی پارٹی کی حکومت تھی،جی ٹی روڈپرمجھے کیوں نکالاایسی کامیاب مہم چلاتے ہوئے وہ لاہورپہنچے تھے اور لگتاتھاکہ ان کے جلسے جلسوس کا رخ امرا کے درودیوار ہلا دیں گے۔ مگر جلسوں کا زور تھما توقانون حرکت میں آگیا اور نواز شریف جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے تھے۔ اگر اس قدر طاقتور اور پاپولر ہونے کے ساتھ ساتھ مرکز اور پنجاب میں اپنی پارٹی کی حکومتیں ہونے کے باوجود نواز شریف کچھ نہ کر سکے تھے تو عمران خان چار شہروں میں جلسے کرنے کے بعد کیسے نئے انتخابات کی راہ نکال پائیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ معجزہ دیکھنے کے لائق ہوگا!

ایسا لگتاہے کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر تھکانے کا پروگرام بنالیا ہے، وہ اپنی ایلیٹ پاور کو جلسے جلوسوں میں رکھنا چاہتے ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ان کے ووٹرو سپورٹر بلکہ وہ خود بھی مئی جون کی تپتی دوپہروں میں احتجاج کے قائل نہیں ہیں بلکہ شام ڈھلنے کے بعد موسیقی کی دھنوں پر تھرکتے جسموں کے ساتھ کون بچائے گا پاکستان کے نعروں کاسوال جواب کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

اسی طرح عمران خان اسمبلیوں میں رہ کر اپوزیشن کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، ان سے اپنی مخالفت برداشت نہیں ہوتی، جب مخالف ان کی تقریر میں شور مچاتے ہیں تو وہ کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں، کشمیر گنوا کر اسمبلی میں تقریر کے لئے اٹھتے ہیں اور اپویشن کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے تو بے اختیار کہہ جاتے ہیں کہ اب میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کردوں؟ اس لئے انہیں سڑکیں ناپنا ہی زیب دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے سے بھی انہیں کیا مل سکتا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ تو اب حکومت وقت کے ساتھ ایک پیج کو انجوائے کر رہی ہے!

حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو ابھی سڑکوں کی طوالت کا اندازہ نہیں ہے، وہ بھول گئے ہیں کہ جب وہ لانگ مارچ لے کر لاہور سے نکلے تھے تو گوجرانوالہ میں ان کے کانوائے پر پتھراؤ ہوگیا تھااور انہیں کنٹینر چھوڑ کر لگژری گاڑیوں میں اسلام آباد پہنچنا پڑا تھا جہاں ایک سجا سجایادھرناان کی راہ دیکھ رہا تھا۔ لیکن اب کی بار ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس مرتبہ ان کے جلسے جلوسوں میں کسی کو دلچسپی نہیں رہی ہے کیونکہ موقع ملنے کے باوجود وہ ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ٹھہرے جنھیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ وہ عوام کے زور پر آئے تھے نہ عوام کے زور پر اقتدار میں رہ سکے۔ بس ان کے لانے والوں نے ان کی بیساکھیاں ہٹالیں اور دھڑام سے زمین پر آن گرے!

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک پریس کانفرنس نے عمران خان کے بیانئے کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اگر اب بھی عمران خان عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو رگیدنے سے باز نہ آئے تو عین ممکن ہے کہ کسی عملی کاروائی کا آغاز ہو جائے۔ فی الحال تو تنبیہ ہی دی گئی ہے وگرنہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جتنی بھی وضاحتیں پیش کیں، وہ ساری کی ساری اس سے پہلے عسکری ذرائع کے توسط سے مختلف میڈیا آؤٹ لیٹ پر سامنے آچکی تھیں۔ 

عمران خان لاکھ چاہیں اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان کے سڑکوں پر آنے سے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی کانپیں ٹانگیں گی۔ ان کی مقبولیت خود ان کے لئے پریشانی کا موجب بن رہی ہے کیونکہ اب کوئی بھی اس کا نوٹس لینے کے لئے تیارنہیں ہے، کہیں کوئی ٹرمپ انہیں دوبارہ سے کرکٹ کا ورلڈ کپ تھمانے کے لئے بھی موجود نہیں ہے۔ اگر انہوں نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی بند نہ کی تو الطاف حسین اورنواز شریف کی طرح ان کے جلسوں کی کوریج اور ان کے بیانات کی اشاعت پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔اس کے لئے پیمرا اور عدلیہ کا ایک ایک حکم نامہ کافی ہوگا۔ اگر الطاف حسین کی طرح ان پر بھی قومی اداروں کے ناقد ہونے کا لیبل لگ گیا تو ان کے لئے سیاسی طور پر بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی کیونکہ اب اسٹیبلشمنٹ کے جسد آہن میں متحدہ اپوزیشن کی روح داخل ہوچکی ہے۔اب اسٹیبلشمنٹ کے مشورے عمران خان کے لئے نہیں بلکہ حکومت وقت کے لئے ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے اور بغیر نام لئے کر رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بار بار کر رہی ہے۔ بظاہر عمران خان 123اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا تمغہ سجا کر عوام میں نکلے ہیں لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ چاہے گی تو ان کے سینے پر خالی ان کا اپنا استعفیٰ رہ جائے گا۔ اب ان کی لاپرواہی اور بے باکی ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اب اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنا کندھا استعمال نہیں کرنے دے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے بیانئے کی نفی کرکے دراصل ان کے طرز سیاست کی نفی کردی ہے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نواز شریف سے سیاسی اختلاف رکھنے والے اپنی مخالفت کو بغض میں بدل چکے ہیں۔ ان کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ نواز شریف یا ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آجائیں۔ وہ نواز شریف کی مخالفت میں ہر ایرے غیرے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور یہی ایک بات عمران خان کی سیاسی بقا کے لئے کافی ہے۔ترس تو ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی پر آتا ہے جس نے 2018کے انتخابات میں پس پردہ عمران خان کی حمائت اس لئے کی تھی کہ نوازشریف کی پارٹی جیت نہ سکے اور اب نواز شریف کے ساتھ لگے ہوئے ہیں تاکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے عمران خان کو دو تہائی اکثریت لینے سے باز رکھا جا سکے۔ آصف زرداری کو اب یہ بات ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا کہ وہ سیاست کی یونیورسٹی ہیں!

مزید :

رائے -کالم -