مخالفین بھی کہتیہیں پوریز الٰہی نے ہمیشہ وضع داری اور برابری سے ایوان چلایا:گورنر عمر چیمہ

  مخالفین بھی کہتیہیں پوریز الٰہی نے ہمیشہ وضع داری اور برابری سے ایوان ...

  

        لاہور(خصوصی رپورٹ) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سابق وفاقی وزیر بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ گورنر پنجاب عمر چیمہ نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی نہایت افسوسناک ہے، چودھری پرویزالٰہی کے سیاسی مخالفین بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ وضع داری اور برابری کی سطح پر ایوان کو چلایا، ان کے ساتھ اسمبلی فلور پر ن لیگ نے جو بہیمانہ سلوک کیا اس پر شدید افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کل کے واقعے کی رپورٹ میرے آفس میں جمع کرا دی ہے، رپورٹ دیکھنے کے بعد فیصلہ ہو گا کہ حلف کس نے لینا ہے۔ عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور میرے پاس آئینی عہدہ ہے، میں نے خود عدلیہ کی آزادی کیلئے ڈنڈے کھائے ہیں، اب سب کا کردار قوم کے سامنے ہے۔ گورنر پنجاب نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے میڈیا کوآرڈی نیٹر محمد اقبال چودھری سے بھی حال احوال دریافت کیا۔ دریں اثناء جماعت اسلامی کے اعلیٰ سطحی وفد نے بھی چودھری پرویزالٰہی کی عیادت کی۔ وفد میں ڈاکٹر لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید پراچہ شریک تھے جبکہ محمد بشارت راجہ، عامر سلطان چیمہ اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی نہایت سلجھے ہوئے اور سینئر سیاسی رہنما ہیں، ان پر تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

ملاقات

لاہور(خصوصی رپورٹ) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، ارکان قومی اسمبلی مونس الٰہی اور حسین الٰہی سمیت شفقت محمود، محمد بشارت راجہ، حافظ عمار یاسر، چودھری ظہیرالدین، میاں شفیع محمد، میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، پیر سید سعید الحسن شاہ، وسیم خان بادوزئی، خیال کاسترو، ندیم قریشی، پیر اشرف رسول، امبر محمود خان، سماویہ طاہر، سبرینہ جاوید، فرح آغا، شاہدہ ساجد، سبین، عائشہ اقبال، زیبہ عمر، سعدیہ سہیل، آسیہ امجد، سمیرہ بخاری، مومنہ وحید، آسیہ احمد، فرحت فاروق اور خدیجہ عمر نے شرکت کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل ایک بوگس، غیر آئینی اور متنازعہ الیکشن کروایا گیا، کل کے الیکشن کو گورنر پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پہلے ہی متنازعہ قرار دے چکے ہیں، یہ ایک آئینی مسئلہ ہے جب تک واضح صورتحال سامنے نہیں آتی تب تک اس کو تسلیم نہیں کر سکتے، ن لیگ کی اوچھی حرکتوں نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے ابھی تک پرانے کام نہیں چھوڑے، ماضی میں عدالتوں پر حملہ کیا اب پنجاب اسمبلی پر دھاوا بول دیا گیا، کل جو کچھ پنجاب اسمبلی کے فلور پر ہوا پنجاب کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پولیس ایسے آئی جیسے ڈاکوؤں پر حملہ کرنے آئے ہیں، یہ سب کچھ حمزہ شہباز کی سربراہی میں ہوا، ان کا ٹارگٹ تھا کہ پی ٹی آئی اور ہمارے ایم پی ایز کو ڈرا کر ایوان سے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے گیلری میں کھڑے ہو کر الیکشن کروایا جس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں، مہمانوں کی گیلری میں میگا فون پکڑ کر تو کوئی بھی الیکشن کروا سکتا ہے، اجنبیوں کی جگہ بیٹھ کر ایک اجنبی نے الیکشن کروایا، یہ کیسا الیکشن ہے جس میں وزیراعلیٰ کے امیدوار کو زخمی کر دیا اور ان کی غیر موجودگی میں الیکشن کروا لیا، جس گیلری میں ہمارے ارکان نے جانا تھا اس کو پولیس کے ذریعے بلاک کر دیا گیا، جس طرح انہوں نے جعلی الیکشن کروایا اسی طرح کوئی جعلی گورنر ڈھونڈ کر جعلی حلف بھی لے لیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے آئینی ماہرین کا اجلاس طلب کر لیا ہے، اس غیر آئینی الیکشن کو چیلنج کرنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا، ہم نے کل جو درخواست دی ابھی تک اس پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جبکہ ان کی درخواست پر کل رات ہی مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایوان میں ڈٹ کر ان غنڈوں کا مقابلہ کیا، میں خواتین ارکان اسمبلی کی ہمت کو بھی داد دیتا ہوں جو آخر وقت تک اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑی رہیں۔

اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -