تھانہ ڈیفنس کی حدود میں واقع قیوم آباد میں جرائم بڑھ گئے

تھانہ ڈیفنس کی حدود میں واقع قیوم آباد میں جرائم بڑھ گئے

  

کراچی (این این آئی) تھانہ ڈیفنس کی حدود میں واقع قیوم آباد میں جرائم بڑھ گئے، پولیس نے علاقہ مکینوں کو چوروں ڈکیتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، دو ہفتوں میں ایک ہزار سے زائد پانی بھرنے والے پمپس چوری ہوگئے، نشے کے عادی افراد دن دیہاڑے گھروں میں گھس کر پانی کے پمپ اور گلیوں میں کھڑی موٹر سائیکلیں چوری کرنے لگے،ڈیفنس پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام، رپورٹ کرنے والوں کو تھانے میں بلا کر صرف تنگ کیا جاتا ہے پولیس چوکی والی گلی میں بھی شہری محفوظ نہیں، چوکی انچارج نے پولیس موبائل اور نفری نہ ہونے کا جواز پیش کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈیفنس کی حدود میں علاقہ قیوم آباد میں جرائم کی واداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، دن کی روشنی ہو یا رات کا اندھیرا چور ڈکیت بالکل بے خوف ہو کر وارداتوں میں سرگرم ہیں، علاقے سے متاثرین کے مطابق گذشتہ دوہفتوں کے دوران ایک ہزار سے زائد وارداتیں گھروں کے اندر ہوئی ہیں جہاں سے پانی بھرنے والی موٹریں چوری کی گئیں جبکہ گلی محلوں سے آئے دن شہریوں کی موٹر سائیکلیں بھی چوری ہو رہی ہیں، علاقہ مکینوں سے ملنے والی اکثر اطلاعات یہ ہیں کہ چوری کی وارداتوں میں نشے کے عادی ملزمان ملوث ہیں جو چوری کا سامان علاقے میں پولیس کی سرپرستی میں قائم کباڑ خانوں میں جا کر بیچ دیتے ہیں اور قیوم آباد میں منشیات فروشی عام ہو رہی ہے لیکن پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں آ رہی ہے، نہ کوئی منشیات فروش پکڑے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی چور ڈکیت کو گرفتار کیا جا سکا جبکہ متاثرین میں سے کوئی اگر رپورٹ کرنے تھانے جاتا ہے تو تضحیک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے چکر پہ چکر لگوائے جاتے ہیں تاکہ شہری ہمت ہار کر ایف آئی آر درج کرانے سے خود ہی دستبردار ہو جائیں دوسری جانب ستم ظریفی یہ ہے کہ علاقے میں پولیس چوکی کے سامنے واقع گھر بھی محفوظ نہیں ہیں یعنی پولیس کی ناک کے نیچے وارداتیں ہو رہی ہیں اور پولیس بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی ہے بلکہ چوکی انچارج نے عوام کے سامنے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس پولیس موبائل اور نفری نہیں ہے اور جرائم پیشہ عناصر انتہائی خطرناک اور تربیت یافتہ ہیں اس لیئے وہ موجودہ صورتحال میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ساری صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس نے عوام کو چوروں ڈکیتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ سابق چیئرمین یوسی چیئرمین قیوم آباد و پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری شمشاد خان نے کہا ہے کہ پولیس کی بنیادی زمہ داری عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے لیکن علاقے میں پولیس کی کارکردگی صفر ہے ایسا لگتا ہے کہ ہے پولیس عوام کے بجائے جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جرائم کی روک تھام کے بجائے وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، انہوں نے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کر کیا جائے۔ علاقہ قیوم آباد جماعت اسلامی کے ناظم زمرد خان نے کہا کہ جرائم کی روک تھام پولیس کی ترجیحات میں نہیں ہے بلکہ علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اور عوام بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے ہیں تھانے میں عام شہری کا داخلہ تک بند ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس عوام دوست نہیں عوام دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ زمرد اعوان نے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس اور ایس ایس پی ساوتھ سے پر زور اپیل کی ہے کہ تھانہ ڈیفنس میں قابل اور ایماندار افسران کو تعینات کر کے چوروں ڈکیتوں کے خلاف آپریشن مکمل کیا جائے اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -