گجرات سے غندے بلا کر پنجاب اسمبلی میں حملہ کرایا گیا،پرویز الٰہی نگرانی کرتے رہے:مسلم لیگ ن

  گجرات سے غندے بلا کر پنجاب اسمبلی میں حملہ کرایا گیا،پرویز الٰہی نگرانی ...

  

      لاہور(نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر عطااللہ تارڑ نے الزام لگایا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی ایوان میں کھڑے ہوکر نان ممبرز کو اندر داخل کرتے رہے اور ایوان میں غنڈہ گردی پر تھمز اپ بھی کرتے رہے،پرویز الہی نے  ذاتی نگرانی میں گیلری میں چھلانگیں لگانے کا کہا اور گجرات سے غنڈوں کو بلایا گیا،ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ متکبرانہ کام کیا اور سیکریٹری اسمبلی کو کام اٹھانے کا اشارہ کیا، جس کے بعد آکسیجن ماسک پہن کر اور پایوڈین لگا کر ڈرامہ کیا، اس عمر میں بھی غلط بیانی کی گئی، چودھری شجاعت ہمارے بڑے ہیں ان کی دل سے عزت کرتے ہیں لیکن کل چودھری شجاعت کی عزت کو بھی خاک میں ملایا گیا، چودھری پرویز الہی کو کہتا ہوں پنجاب کا وقار خاک میں ملایا، پارلیمان سیاستدانوں اور صوبے کو بھی بدنام کیا،ہم سے بلوچستان اور سینٹ لیا گیا لیکن رزلٹ کو تسلیم کیا، اس ہنگامہ آرائی پر توہین عدالت کی درخواست ہونی چاہیے۔اتوار کولاہور میں لیگی رہنما رانا مشہود کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کا سیاہ ترین دن تھا جہاں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی، پرویز الہی اب بس کر دیں کیونکہ 15روز سے صوبہ وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے۔عطااللہ تارڑ نے کہا کہ راولپنڈی سے چار افراد اور لاہور سے ندیم بارہ نے ڈپٹی اسپیکر پر بہیمانہ تشدد کیا، گیلریز میں پرائیویٹ لوگوں کو وردیاں پہنائی گئیں اور اپنی نگرانی میں پرویز الہی نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ نمبرز پورے نہ ہونے پر الیکشن کو بار بار ملتوی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا تو ہم بیچ میں نہیں آ سکتے تھے کیونکہ الیکشن جیتے تھے لیکن جھگڑے سے معاملہ آگے نہیں کروانا چاہتے تھے، ذاتی نگرانی میں گیلری میں چھلانگیں لگانے کا کہا اور گجرات سے غنڈوں کو بلایا گیا۔لیگی رہنما نے کہا کہ ہم آپ کے گھر پلیٹ میں رکھ کر وزارت اعلی ٰکی آفر لے کر آئے لیکن آپ کے بیٹے نے کیوں برا سلوک کیا؟ ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ متکبرانہ کام کیا اور سیکریٹری اسمبلی کو کام اٹھانے کا اشارہ کیا، جس کے بعد آکسیجن ماسک پہن کر اور پایوڈین لگا کر ڈرامہ کیا، اس عمر میں بھی غلط بیانی کی گئی اور لوگوں کو چھلانگیں لگانے کی ہدایات دی گئیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ چودھری شجاعت ہمارے بڑے ہیں ان کی دل سے عزت کرتے ہیں لیکن کل چودھری شجاعت کی عزت کو بھی خاک میں ملایا گیا، چودھری پرویز الہی کو کہتا ہوں پنجاب کا وقار خاک میں ملایا، پارلیمان سیاستدانوں اور صوبے کو بھی بدنام کیا۔انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں نوٹیفکیشن بھجوایا ہے لیکن گورنر خود حلف لینا نہیں چاہتے، گورنر پنجاب حلف برداری کی تقریب کو موخر نہیں کرسکتے، عمر چیمہ صاحب ایک محب وطن ہیں آئین کی خلاف ورزی کا کھیل نہ بنیں اگر خود نہیں آنا چاہتے تو کسی اور کو آئینی ذمہ داری سونپ دیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر عدم اعتماد پر پارٹی فیصلہ کرے گی، اسد کھوکھر، علیم خان اور احمد علی اولکھ صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں لہذا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر پارٹی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔رانا مشہود نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے الیکشن میں کسی کو ووٹ نہ ڈالنے دینے کا اختیار آئین کے پاس ہے آپ اپنی مرضی سے اسمبلیاں چلانے کی کوشش کرتے رہے، پہلے تین سے چھ اور سولہ اپریل کے لیے بھی ہائی کورٹ میں گئے، اسمبلی کو نوگو ایریا بنا دیا گیا، ڈپٹی اسپیکر کو اندر داخلے کی اجازت نہ دی گئی، جو جو فوٹیج میں غیر قانونی کام میں ملوث رہا اسے نہیں چھوڑیں گے۔رانا مشہود احمد نے کہا کہ ہم سے بلوچستان اور سینٹ لیا گیا لیکن رزلٹ کو تسلیم کیا، اس ہنگامہ آرائی پر توہین عدالت کی درخواست ہونی چاہیے ہم حلف برداری کی تقریب کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔رانا مشہود احمد نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر اور اسپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ہے دونوں تحاریک کو جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ آخر -