پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے،شہباز شریف کا مودی کو جوابی خط

پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے،شہباز شریف کا مودی کو ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے خط لکھ دیا۔نجی ٹی وی  کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھارتی ہم منصب کو لکھے گئے جوابی  خط میں کہا گیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، واضح رہے کہ  بھارتی وزیر اعظم  نریندر مودی نے پاکستانی ہم منصب کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد کا خط لکھا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نے خط میں پاکستان سے تعمیری تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔دوسری طرف  وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی معاشی صورت حال کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی  کے مطابق  ملک کی خراب معاشی صورت حال کے پیش نظر نئی حکومت کی جانب سے حکام (آج)پیر کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف انتظامیہ سے مذاکرات کریں گے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوگا جہاں سے یہ تعطل کا شکار ہوا تھا۔ مذاکرات میں اسلام آباد سے اہم شخصیات بھی ورچوئل حصہ لیں گی، مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نئی حکومت کے سامنے اپنے تحفظات رکھے گی۔ مذاکرات میں سابق حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈیز، ایمنسٹی اسکیموں اور نئی شرائط پر بھی غور ہوگا، مذاکرات کی کامیابی کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے مالیاتی پروگرام کی باقاعدہ بحالی کا اعلان کیا جائے گا جب کہ پاکستان کو قرض کے لئے ایک ارب ڈالر کی قسط دینے کا بھی فیصلہ ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واپڈا اور ایف ڈبلیو او کو دیامر بھاشا ڈیم کو 2029 کے بجائے 2026 میں مکمل کرنے کا ٹاسک د تے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، اس سے ہماری زرعی زمینیں بھی سیراب ہوں گی۔ اتوار کو وزیراعظم شہبازشریف نے دیامربھاشاڈیم کادورہ کیا جس کے دوران ڈیم پرجاری تعمیراتی کاموں کاجائزہ لیا، اس موقع پر شاہدخاقان عباسی،خواجہ آصف اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھے۔ اس موقع پر چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم کو جاری تعمیراتی کام پر تفصیلی بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور آبپاشی کیلئے پانی کی فراہمی بڑھے گی۔ قومی اہمیت کے منصوبے سے فوڈ سکیورٹی میں اضافہ ہو گا۔ 2.6 ٹریلین روپے کی لاگت سے مختلف منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے سے16 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔ چیئرمین واپڈا نے منصوبے میں کچھ تکنیکی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی۔دیامر بھاشا ڈیم پر کام کے جائزے کے موقع پر تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے  وزیراعظم شہباز شریف  نے کہا کہ   ہمارا کام ہماری ذمہ داری ہے مجھے خوشی ہے کہ یہ منصوبہ سابق وزیر نواز شریف کی جانب سے شروع کیا تھا اور شاہد خان عباسی نے اسے جاری رکھا اور اس منصوبے پر کام جاری ہے جو جلد مکمل ہوجائیگا۔ انہوں نے واپڈا کے جنرل مزمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری بہت مدد کی اور منصوبے میں درپیش مسئلے حل کیے، ہمیں امید ہے کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا، مجھے اندازہ ہے کہ یہاں موسم سمیت بہت سیمسائل کا سامنا ہے، اور مالیاتی معاملات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کے حوالے سے پریزینٹیشن کو دیکھی اور میں بہت مطمئن ہوں کہ آپ یورو بونڈ، سکوک سمیت دیگر آلات کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاور ہاسز ہمارے لیے مالی فوائد فراہم کرتے ہوئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کا سبب بھی بنیں گے،اور میں یہ تجویز دوں گا کہ یہ بہتر ہوگا کہ اسے سی پیک میں شامل کیا جائے، لیکن ہمیں یہ سب بہت جلد کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں سیاسی باتیں نہیں کرنے آیا کیونکہ ہمارے پاس سچ بولنے اور گزشتہ چند ساڑھے 3 سالوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا انکشاف کرنے کے بہت سے موقع ہیں، لیکن میں اس ذبردست ٹیم ورک ضرور سراہنا چاہوں گا جو چینی کمپنی اور ایف ڈبلیو او کے تعاون سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس منصوبے پر کام کرنے والوں کو کہنا چاہوں گا کہ ایسے راستے تلاش کریں جس کے ذریعے ہم اس منصوبے کو مقرر شدہ 2029 کی تاریخ سے قبل ہی مکمل کر لیں، دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے شروع کیا تھا اور اس منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے فنڈز بھی ہماری ہی حکومت نے جاری کیے تھے، لیکن زمین حاصل کرنے میں خاصی مشکلات تھی، جنہیں حل کرتے ہوئے کام شروع کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم اس منصوبے کو اجتماعی قوت کے ساتھ آگے لے کر چل سکیں تو یہ پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل ہوگا، ڈیم پاکستان کی زندگی کو توانائی بخشنے کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قوم کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے کہ 125، 130 ملین ایکڑ فٹ پانی یہاں سے گزرتا ہے اور اس میں سے ہم مشکل سے صرف 25 سے 30 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں جائے بغیر مگر ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اگر ہم اس پانی کو بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی اور کے لیے یہ ڈیم اہم کردار ادا کرے گا، یہ ترقی نہ صرف پاکستان کو مضبوط کرے گی بلکہ اس سے تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی 30 سے 35 سال کا اضافہ ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف نے چلاس میں 200 بستروں کے ہسپتال کی اسٹڈی تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔دیامر بھاشا ڈیم پر کام کے جائزے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ڈیم بنے گا تو یہاں بڑی تعداد میں لوگ بھی آئیں گے، باہر سے بھی لوگ آئیں گے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں علاج و معالجے کے لیے کوئی ہسپتال نہیں ہے۔اس موقع پر شہباز شریف نے چلاس میں 200 بستروں کے ہسپتال کی اسٹڈی رپورٹ ایک ہفتے میں تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چلاس کے ہسپتال کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرے گی اور ہسپتال بننے کے بعد مریضوں کو علاج و معالجے کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔ شہباز شریف(آج)پیرکو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک میٹرو بس سروس کاافتتاح کرینگے،افتتاحی تقریب وفاقی دارلحکومت کے ایچ 9سیکٹر میں واقعہ میٹرو بس ڈپو میں صبح ساڑھے 9بجے منعقد ہو گی۔16ارب روپے کی لاگت سے25.6کلومیٹر میٹرو ٹریک کی تعمیر کا کام جنوری 2017میں شروع کیا گیا تھا، اس منصوبے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)نے عملدرآمد کیا اور اسے اگست 2018میں مکمل ہونا تھا، تاہم اس منصوبے کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ سال اس کا سول ورک مکمل ہوا۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے گزشتہ سال مارچ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے اس منصوبے کو لے لیا تھا اور بسوں کی خریداری کا عمل شروع کیا۔14اپریل بروزجمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے اچانک صبح 7بجے اسلام آباد میٹرو بس سروس کے پشاور موڑ اسٹیشن کا دورہ کیا اور وہاں سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک سروس کے آغاز میں غیر معمولی تاخیر کی تحقیقات کا حکم  دیتے ہوئے کہا تھا کہ 2017میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت کی جانب سے ایک سال کی مقررہ مدت کے ساتھ شروع کیا گیا منصوبہ آج تک نامکمل ہے۔وزیر اعظم نے عہدیداران سے کہا کہ وہ ہوائی اڈے جانے والے مسافروں کا سامان رکھنے کے لیے بسوں میں ریک کی تنصیب کو یقینی بنائیں۔انہوں نے منصوبے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار اور اسے سخت غفلت قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ منصوبے پر اب تک 16 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -