وزیر اعظم نے گورنر پنجاب کو برطرف کردیا،مجھے صرف صدر مملکت ڈی نوٹیفائی کر سکتے ہیں،عمر سرفراز چیمہ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار،قانونی ماہرین سے رائے طلب،وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب موخر کردی

  وزیر اعظم نے گورنر پنجاب کو برطرف کردیا،مجھے صرف صدر مملکت ڈی نوٹیفائی کر ...

  

 اسلام آباد(نمائندہ خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے برطرف کردیا۔ وزیراعظم نے انہیں برطرف کرنے کی سمری صدر مملکت کو ارسال کردی۔اطلاعات ہیں کہ نئے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے حلف نہ لینے کا معاملہ ان کی برطرفی کی وجہ بنا۔ساڑھے چار بجے گورنر سرفراز چیمہ کی پریس کانفرنس شیڈول تھی اور اسی دوران ان کی برطرفی کی خبریں سامنے آئیں۔ عمرسرفراز چیمہ نے اپنے وقت پر پریس کانفرنس شروع کی اس دوران ایک صحافی نے ان کی برطرفی کی خبر انہیں سنائی اور سوال کیا۔سرفراز چیمہ نے جواب دیا کہ وزیراعظم مجھے عہدے سے اس طرح نہیں ہٹاسکتے، وہ سمری صدر مملکت کو ارسال کرسکتے ہیں، جب تک صدر مملکت چاہیں گے میں گورنر ہاؤس میں رہوں گا، مجھے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار صدرمملکت کے پاس ہے وزیراعظم کے پاس نہیں۔ عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ سیکرٹری اسمبلی کی رپورٹ پر حلف برداری کو موخر کیا گیا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اسپیکر اسمبلی سے کل کے واقعے کی رپورٹ پر رائے مانگی ہے، وزیراعظم کے پاس گورنر کو ہٹانے کا صوابدیدی اختیار نہیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیریں، غنڈوں کو بلا کرغنڈہ گردی کی گئی، ڈپٹی اسپیکر لوٹے ثابت ہوئے ہیں، غیر آئینی کام کو آئینی قرار نہیں دے سکتا، رپورٹ پر رائے آنے تک حلف نہیں لے سکتا، حلف برداری موخر کی گئی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق وزیراعلیٰ کا انتخاب  صاف شفاف ہونا تھا، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق جو کچھ ہوا وہ قوم نے دیکھا، کل جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے، گزشتہ روز ارکان پنجاب اسمبلی پر تشدد کیا گیا،، آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، پنجاب اسمبلی کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کن لوگوں کو اقتدار دیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہا کہ لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، مارپیٹ کے ذریعے الیکشن نہیں ہونا چاہیے، جس کے پاس اکثریت ہوتی ہے وہ تحمل سے کام لیتا ہے، کل کا وزیراعلیٰ کا الیکشن متنازعہ ہوگیا ہے، میں نے آئین و قانون کی پاسداری کا حلف لیا ہے، وزیراعلیٰ کا الیکشن لاہور ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق نہیں کرایا گیا، ارکان پارلیمنٹ کے اوپر کل دھاوا بولا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی عہدے پر بیٹھا ہوں کوئی غیر آئینی کام نہیں کروں گا، حمزہ شہباز اپنے گھر کی خبر لیں، ان کا الیکشن گھر سے متنازعہ بنایا گیا، سازش کے تحت ان کو اقتدار پر مسلط کروایا جارہا ہے۔

گورنر برطرف

لاہور(نمائندہ خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب کامیابی کا مراسلہ جاری کر دیا گیا، نوٹیفکیشن گورنر ہاؤس کو موصول ہو گیا ہے۔ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے متعلقہ اداروں کو انتخابی نتائج سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا۔ گورنر ہاؤس کو بھی وزیراعلی کے انتخابی نتائج سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری آج ہو گی، حمزہ شہباز گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائیں گے۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز کی شرکت بھی متوقع ہے۔حلف برداری کی تقریب رات آٹھ بجے گورنر ہاوس میں ہو گی۔ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ سپیکر یا گورنر میں سے حلف کون لے گا،گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے تاحال حلف لینے یا نہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے متعلقہ اداروں کو انتخابی نتائج سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ گورنر ہاؤس کو بھی وزیراعلیٰ کے انتخابی نتائج سے آگاہ کر دیا گیا۔ منتخب وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم نے صوبے کی بہتری اور عوام کی خدمت کے لئے دن رات ایک کر دینا ہے۔ پنجاب کو اسی رفتار سے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گاجس طرح شہباز شریف کے دور میں تھا۔ حمزہ شہباز نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم نے صوبے کی بہتری اور عوام کی خدمت کے لئے دن رات ایک کر دینا ہے۔ پنجاب کو اسی رفتار سے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گاجس طرح شہباز شریف کے دور میں تھا۔پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کا ایکشن، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی و دیگر کو معطل کر دیا۔وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں ناقص اقدامات پر ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی، سیکرٹری پارلیمانی امور عنایت لک، سپیشل سیکرٹری عامر حبیب اور چیف سکیورٹی آفیسر اکبر ناصر کو معطل کر دیا ہے۔دوست مزاری نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا جبکہ اعلیٰ افسران کے اسمبلی حدود میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی جبکہ معطلی کے احکامات کا نوٹیفکیشن 16 اپریل کو جاری کیا گیا۔ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں تعاون نہ کرنے، افسران کو اسمبلی ہنگامہ آرائی کے دوران فرائض میں غفلت پر معطل کیا۔دریں اثنا ء نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے جاتی امراء رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کی۔مریم نواز نے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

حمزہ کامیابی

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا ایکشن، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی و دیگر کو معطل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی کے الیکشن میں ناقص اقدامات پر ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی، سیکرٹری پارلیمانی امور عنایت لک، سپیشل سیکرٹری عامر حبیب اور چیف سکیورٹی آفیسر اکبر ناصر کو معطل کر دیا ہے۔دوست مزاری نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے معطل کئے جانے والے افسران سے  جواب طلب کر لیا جبکہ اعلی افسران کے اسمبلی حدود میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی، معطلی کے احکامات کا نوٹیفکیشن 16اپریل کو جاری کیا گیا۔ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعلی کے الیکشن میں تعاون نہ کرنے، افسران کو اسمبلی ہنگامہ آرائی کے دوران فرائض میں غفلت پر معطل کیا۔دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے دوران  ڈپٹی اسپیکر پر تشدد اور تصادم کے معاملے پر پولیس نے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ذرائع کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لئے سی سی ٹی وی پولیس کو فراہم نہ کی گئی، پولیس افسران رات گئے تک اسمبلی میں ہی موجود رہے تھے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ سی سی ٹی وی فراہم کرنے کی بجائے حیلے بہانے کرتی رہی۔ پولیس نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے تعاون نہ کرنے پر اعلیٰ پولیس افسران کو آگاہ کردیا اور سی سی ٹی وی نہ ملنے موبائل فوٹیجز سے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مہمان گیلری میں موجود افراد کی فہرست بھی حاصل کی جارہی ہے۔

سیکرٹری اسمبلی معطل

مزید :

صفحہ اول -