پہلے مرحلے میں 10سے 12وفاقی وزراء کے آج حلف اٹھانے کا امکان

  پہلے مرحلے میں 10سے 12وفاقی وزراء کے آج حلف اٹھانے کا امکان

  

       اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) نئی وفاقی کابینہ کا (آج) حلف اٹھانے کا امکان، پہلے مرحلے میں 10 سے 12 وزرا حلف اٹھائیں گے، ذرائع  کے مطابق حکمران اتحاد کا مرتضی جاوید عباسی کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی بنانے کا امکان ہے،بلاول  بھٹو زرداری کو وزیر خارجہ، حنا ربانی کھر وزیر مملکت برائے خارجہ امور شازیہ مری یا مصطفی نواز کھوکھو کو  وزارت انسانی حقوق، خواجہ آصف وزارت تجارت، مفتاح  اسماعیل مشیر خزانہ، مریم اورنگزیب کو وزارت اطلاعات، رانا تنویر کو وزارت پارلیمانی امور راناثنا اللہ کو وفاقی وزارت داخلہ کا  قلم دان دئیے جانے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق شاہد  خاقان عباسی نے کوئی وزارت  لینے سے  معذرت کر لی ہے، ذرائئ کا کہنا تھا کہ  شاہد خاقان عباسی بغیر قلمدان توانائی کے امور دیکھیں گے۔مسلم لیگ (ن)  اور دیگر اتحادی  جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ   فارمولے کی تفصیلات سامنے آ گئیں، نون لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بن رہی ہے،  آج دوسری جماعتوں کے نام آجائیں گے   وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (ن)کے نام فائنل کر دیں گے کابینہ کی تشکیل کیلئے قائم کی گئی مشترکہ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر کر لیا ہے اور رپورٹ پیش کر دی ہے تمام اتحادی جماعتوں نے کابینہ کیلئے نام دینے کے سلسلے مین ایک دن کا وقت مانگا ہے آج نام فائنل ہو جائیں گے، دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ 10سے12وزراء پر مشتمل وزرا کے آج حلف اٹھائے جانے کا امکان ہے  دوسرے مرحلے میں مزید وزرا لف اٹھائیں گیاتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ پیپلز پارٹی نے مانگی تھی، بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ وہ وزیرخارجہ بنیں، اس بات کا ذکر ہوا لیکن ابھی تک پیپلز پارٹی نے نام نہیں دیا،وزارت داخلہ، وزارت خزانہ، وزارت پلاننگ، وزارت اطلاعات اور وزارت دفاع مسلم لیگ (ن) کے پاس ہوں گی، وزارت کامرس پیپلز پارٹی کے پاس ہو گی، میری ٹائم اور اوورسیز پاکستانیزمیں سے ایک پیپلز پارٹی اور دوسری ایم کیو ایم پاکستان کو دی جائے گی، پیپلز پارٹی کو  11وزارتیں دی جائیں گی،وزارت توانائی مسلم لیگ (ن) اور وزارت ہیومن رائٹس پیپلز پارٹی کو دی جائے گی، سینیٹ چیئرمین کیلئے پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کا کیس چل رہا ہے ان کے ساتھ پہلے بھی زیادتی ہوئی تھی،کیس کے فیصلے کے بعد وہ چیئرمین سینیٹ بنیں گے،اسحاق ڈار چیئرمین سینیٹ نہیں بننا چاہتے،اس حوالے سے صرف افواہیں ہیں،گورنر پنجاب مسلم لیگ نون مقرر کرے گی، اس کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے،احمد محبوب کو گورنر پنجاب بنانے کے حوالے سے غور نہیں کیا جارہا،گورنر سندھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مشاورت سے بنایا جائے گا،یہ سب پہلے ہی طے کیا جا چکا ہے،صدر مملکت کے حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ مواخذے کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہے،ووٹ پورے ہونے کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکے گا،جس طرح ہم نے اس نا اہل حکومت کا خاتمہ کیا آگے بھی سب مشاورت سے فیصلے کریں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزارت داخلہ وزیراعظم کی صوابدید ہے وہ جسے چاہیں دیں، شاہد خاقان عباسی کو بھی وزارت کا حصہ بنایا جائے گا، 14وزارتیں مسلم لیگ (ن) کو ملیں گی باقی پارٹیوں کو ان کی سیٹوں کے مطابق وزارت دی جائیں گی، کابینہ کی تشکیل ایک دو روز میں مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے معاملے میں صدر مملکت کو جو ایڈوائس دی جائے گی وہ اسے منظور کریں گے، وہ اس کو دبا کر نہیں بیٹھ سکتے، ایسی حرکتیں پوری قوم کو بتائیں گی کہ پی ٹی آئی والے کس قسم کے لوگ ہیں دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے  پی پی نے مسلم لیگ ن سے چاروں گورنرز اور آئینی عہدوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے چاروں گورنرز اور آئینی عہدوں کے ساتھ وفاقی کابینہ میں تین اہم وزارتوں کا بھی مطالبہ کردیا، جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) نے گورنر بلوچستان اور اے این پی نے میاں افتخار حسین کے لئے گورنر خیبر پختونخوا کا عہدہ مانگ لیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائاسلام اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان بھی گورنر بلوچستان کے عہدے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن)کا دعویٰ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ وفاقی کابینہ پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، جلد بریک تھرو کا امکان ہے۔

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -