پنجاب کے ایک ہی خاندان سے تین وزرائے اعلیٰ ہونے کا منفرد اعزاز

پنجاب کے ایک ہی خاندان سے تین وزرائے اعلیٰ ہونے کا منفرد اعزاز

  

لاہور(آئی این پی) حمزہ شہباز کے وزیر اعلی پنجاب منتخب ہونے کے بعدشریف خاندان نے کئی منفرد ریکارڈ بنا ڈالے جب کہ یہ پہلا موقع ہے جب باپ وزیر اعظم اور بیٹا وزیر اعلی ہے۔حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ایک ہی خاندان سے تین وزرائے اعلی منتخب ہونے کا منفرد اعزازبھی حاصل ہو گیا ہے۔حمزہ شہباز نے اپنے والد کے بعد وزیر اعلی منتخب ہو کرمنفرد اعزاز حاصل کیا جبکہ ان کے تایا نواز شریف بھی پنجاب کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔علاوہ ازیں حمزہ شہباز کو کالج کے زمانے میں جیل میں ڈالا گیا پھر وہ 1999میں باقاعدہ سیاست میں آ گئے۔ حمزہ شہباز 6ستمبر 1974کو لاہور میں پیدا ہوئے، 1994میں جب مسلم لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو وہ گورنمنٹ کالج میں بی اے کے طالب علم تھے۔2008میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور پھر قومی اسمبلی کا ضننی انتخاب جیتا، 2013میں دوبارہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑے اور ریکادڈ ووٹوں کے ساتھ ایوان میں پہنچے۔2018میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے بیک وقت رکن منتخب ہوئے لیکن صوبائی اسمبلی کی سیٹ رکھی اور اپوزیشن لیڈر نامزد ہوئے، 2019مئی میں پارٹی کے مرکزی نائب صدر بنے۔دریں اثناحمزہ شہباز پنجاب کے21ویں وزیر اعلی منتخب ہوئے ہیں۔1947کے بعد پنجاب میں اب تک 19وزیر اعلی منتخب ہو چکے جبکہ5نگران وزیر اعلیٰ بھی رہے۔منتخب ہونے والوں میں نواب افتخار ممدوٹ، ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون، عبد الحمید  دستی، ملک معراج خالد،غلام مصطفی کھر،حنیف رامے،صادق حسین قریشی، نواز شریف، غلام حیدر وائیں، منظور وٹو، عارف نکئی، شہباز شریف، پرویز الہی، دوست کھوسہ اور عثمان بزدار شامل ہیں جبکہ نگران وزرائے اعلی میں نجم سیٹھی،شیخ منظور الہی،میاں افضل حیات،شیخ اعجاز نثار اورحسن عسکری رضوی شامل ہیں۔

اعزاز

مزید :

صفحہ اول -