قاتلوں کی گرفتاری کیلئے صوبائی امن جرگہ کی 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن

  قاتلوں کی گرفتاری کیلئے صوبائی امن جرگہ کی 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رھنما پیر اسلم کے بھائی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، صوبائی امن جرگہ نے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی، واقعہ کے اصل کرداروں تک پہنچے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے،صوبائی امن جرگہ کے چیئرمین سید کمال شاہ باچا اور پیر اسلم کا مشترکہ بیان، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رھنما پیر اسلم کے بھائی جبران کے ظالمانہ قتل کے خلاف صوبائی امن جرگہ بھی میدان میں آگیا، گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رھنما پیر اسلم کی رہائشگاہ پر   خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سید کمال شاہ باچا نے کہاکہ کہ پیر اسلم ایک معزز خاندان ہے انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ھم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ آج پیر اسلم نے احتجاج کیلئے ڈیڈ لائن دی تھی تاھم ان سے انتظامی افسران کی بات ہوئی ہے اور انہیں احتجاج موخر کرنے کی درخواست کی آج انہوں نے  میں قاتلوں کی گرفتاری کے لئے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اس لئے ھم انکے اس ڈیڈ لائن کی حمایت کرتے ہیں، سید کمال شاہ باچا نے کہاکہ بہت سے مسائل ہیں جن پر بات کرنا چاہتا ہوں تاھم اس وقت جبران کے قاتلوں کی گرفتاری چاہئے اور ھم اسی پر بات کرینگے انہوں نے کہاکہ پولیس اصل قاتلوں تک رسائی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کاسہارا لے دو نمبر کاروائی برداشت نہیں کی جائیگی انہوں نے کہاکہ صوبائی امن جرگہ پولیس کی اس کاروائی کی حمایت کریگی جس سے متاثرہ خاندان مطمئن ہو انہوں نے کہاکہ ھم وزیر اعلی خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اور ریجنل پولیس آفیسر مردان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جبران قتل کیس کے اصل ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائے،قبل ازیں  سے خطاب کرتے ہوئے پیراسلم نے کہاکہ بھائی کے قتل سے میری کمر ٹوٹ گئی ہے، وہ بہت سے لوگوں کاسہارا تھے انہوں نے کہاکہ واقعہ کے بعد ایک طرف ذھنی دباو کے شکار ہیں دوسری طرف شدید عدم تحفظ کے شکار ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -