قبائلی عوام کے مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ

قبائلی عوام کے مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ

  

خیبر (بیورورپورٹ)فاٹا انضمام کے بعد قبائلی اضلاع اور خصوصا ضلع خیبر میں پولیس سمیت دوسرے سرکاری اداروں میں ایسے آفیسرز تعینات نہیں کئے گئے جو قبائلی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرے بعض قابل آفیسرز آئے لیکن انکے تبادلے ہو گئے موجودہ ڈی پی او خیبر امن اومان برقرار رکھنے سمیت پولیس کی ٹرانسفر پوسٹنگ میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں ایک ہی پوسٹ پر تین اور چار ایس آئی. اے ایس آئی اور سپاہی کو بطور کمانڈر تعینات کرنے کی احکامات جاری کرتے ہیں جس میں پھر سینئر چارج بھی نہیں لیتے اس لئے پھر نظام چلانے میں مشکلات پیدا ہوتے ہیں اور امن اومان کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے باڑہ اور جمرود میں کئی واقعات پیش آئے جس میں ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ منشیات اور خصوصی طور پر آئس نشے نے نوجوان نسل کو تباہ کر دیا  ہے آئے روز آئس جیسیلعنتی نشے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی طرح ضلع خیبر جیسے اہم اور تاریخی ضلع میں قابل اور دیانتدار اور تجربہ کار ڈپٹی کمشنر تعینات کرنا چاہیئے جو عوام کی بنیادی مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں اور حل کرنے کے لئے بھی سنجیدہ ہو موجودہ ڈی سی بھی تاحال اپنے دفتر سے نہیں نکلے ہیں جمرود باڑہ اور لنڈیکوتل میں بہت سے مسائل اور تنازعات ہیں جبکہ دور افتادہ علاقوں شلمان تیراہ بازار زخہ خیل کی طرف توجہ دینا چاہیے اور مشران کے ساتھ کھلی کچہری کرکے انکے رائے لینا چاہیے اور انکے مسائل حل کرنا چاہئے حکومت نے بازار ذخہ خیل کیلئے اسپیشل پیکج تین ارب روپے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک ڈی سی نے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ نہیں لیا ہے تاکہ وہ میٹریل چیک کریں اور کام کا جائزہ لے اور عوام کی رائے معلوم کرے کہ عوام ان ترقیاتی منصوبوں سے مطمئن ہیں اسی طرح تمام اداروں میں ایسے آفیسرز تعینات ہے کہ ہر وقت  اوپر سے آرڈر آنے کے منتظر ہوتے ہیں اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکتے اس لئے مسائل اور تنازعات اور مشکلات کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو رہی ہے ضلع خیبر کے عوام  حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے آفیسرز تعینات کریں تاکہ وہ صحیح معنوں میں کام کرسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -