لیاقت علی  خان سے لیکر عمران خان تک

لیاقت علی  خان سے لیکر عمران خان تک
لیاقت علی  خان سے لیکر عمران خان تک

  

 سیاسی و جمہوری اعتبار سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا ۔ لیاقت علی  خان سے لیکر عمران خان تک کسی بھی دور حکومت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں  ہر وزیراعظم کو کسی نہ کسی معاملے میں الجھا کر رخصت کردیا گیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی بات کریں تو 3  بار انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب نصیب ہوا۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر 3 مرتبہ فائض ہوئےلیکن ساتھ یہ بدقسمتی بھی کہ تینوں مرتبہ اقتدار کی مد ت پوری کرنے کا موقع نہ ملا ۔ 90 کی دہائی میں2 مرتبہ وزارت عظمیٰ ملی۔ ایک بار اقتدار سیاسی کشاکش کی نذر ہو گیا جبکہ دوسری بار ایک اہم ادارے کے سربراہ کی تبدیلی کا معاملہ اقتدار کے سنگھاسن کو لے ڈوبا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کو بھی 2 بار اقتدار نصیب ہوا لیکن آئینی مدت  پوری نہ ہو سکی۔

نواز شریف جب تیسری بار  2013 میں اقتدار میں آئے تو  حکومت بننے کے کچھ ماہ بعد ہی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے   حکومت کیخلاف طبل جنگ بجا دیا۔ پَیٹ( پاکستان عوامی تحریک) کے  سربراہ طاہرالقادری کے ساتھ مل کر سڑکوں پر احتجاجی سیاست کا آغاز کیا ۔ پہلے تحریک انصاف نے 4حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا لیکن جب حلقے کھولے گئے تو  پی ٹی آئی کی من مرضی کے نتائج برآمد نہ ہوئے یعنی کہ  مذکورہ حلقوں میں منظم دھاندلی کے ثبوت نہ ملے۔

پھر اس کے بعد  پانامہ لیکس نے پاکستانی سیاست میں بھونچال کھڑا کردیا ۔ کیس سپریم کورٹ میں گیا مہینوں پر مشتمل کیس کی سماعتوں کے بعد نواز شریف پر منی لانڈرنگ، ککس بیکس  یا بیرونِ ملک غیر قانونی  طور پر رقم کی منتقلی کے تو کوئی ثبوت نہ ملے البتہ نواز شریف کو  دبئی میں اپنے بیٹے سے اعزازی سی ای او کی تنخواہ نہ لینے پر  عہدے سے برطرف کر کے اقامہ ڈیکلیئر نہ کرنے پر  نکال دیا گیا۔ نواز شریف نے  عہدہ سے برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ مارچ کیا تو ان کا ایک فقرہ مشہور ہوا’’ مجھے کیوں  نکالا‘‘  جس کا پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور کارکنان نے خوب ٹھٹھہ اڑایا۔

اس کے بعد 2018 کے انتخابات تک شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے اور اسمبلیوں نے مدت پوری کی۔ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج ماننے سے انکار کردیا ۔ عمران خان وزیراعظم بنے تو اسمبلی میں انہیں سلیکٹڈ کا خطاب دیا گیا الغرض اپوزیشن نے حکومت کے خلاف  احتجاجی تحریک شروع کردی۔ پی ڈی ایم کے نام سے اپوزیشن اتحاد بنا بعدازاں پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر لی لیکن اپوزیشن جماعتوں کی حکومت کیخلاف  احتجاجی تحریک وقتاً فوقتاً جاری رہی۔

مارچ2022 کے آغاز میں اپوزیشن اتحاد نے حکومت کے خلاف کمر کس لی اور 8مارچ کو پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی  نے مشترکہ طور پر  وزیراعظم عمران خان کیخلاف  تحریک عدم اعتماد جمع کراد ی۔ پہلے تو عمران خان تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے لیے دعائیں کرتے رہے پھر جب تحریک عدام اعتماد  آئی تو  عمران خان نے اسے اپوزیشن کی "سیاسی موت" قرار دیا۔ نمبر گیم جب تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکلی اتحادیوں نے ساتھ چھوڑ دیا تو عمران خان نے27مارچ کو اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ جلسے میں  خط لہرا کر بھٹو کی طرح اپنی  حکومت گرانے کو امریکی سازش قرار دے دیا۔

3اپریل کو مقررہ  آئینی حدود کے مطابق ووٹنگ ہونا تھی لیکن ڈپٹی سپیکر نے آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ دی کہ عدم اعتماد کی تحریک آرٹیکل 5 سے متصادم ہے ۔ آرٹیکل 5 کہتا ہے کہ  ہر شہری ریاست کا وفادار رہے گا  یہ آرٹیکل 5 کی پہلی شق ہے لیکن سپیکر نے رولنگ دیتے وقت آرٹیکل 5  کی دوسری شق کو نظر انداز کر دیا جس کے مطابق ہر شہری  پر آئین کی پاسداری لازم ہے ۔ اور آئینی طور پر  ڈپٹی سپیکر3اپریل کوووٹنگ کرانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی سے وفاداری کو مقدم رکھا۔ رولنگ کے فوری بعد عمران خان نے بطور وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز صدر مملکت کو بھجوا دی  اور صدر نے بھی فوری طور قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔

اس آئین شکنی کا سپریم کورٹ نے سوموٹو ایکشن لیا  معاملہ پر سپریم کورٹ میں لارجر بینچ میں بحث ہوئی 5 روز بحث کے بعد عدالت نے  اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر9اپریل کو ووٹنگ کا حکم دیا۔ تحریک انصاف پھر ووٹنگ پر لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ سپیکر  اسد قیصر آئین کی پاسداری کی بجائے عمران خان سے وفاداری نبھاتے رہے اور ووٹنگ پر تاخیری حربے استعمال کرتے رہے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے شروع ہونے والا اجلاس وقفے وقفے سے رات 2بجے تک جاری رہا ۔ رات 11:47پراسدقیصر کے استعفے کے بعد پینل آف چیئر ایاز صادق نے ووٹنگ کروائی اور ایوان کا اعتماد کھو جانے کے باعث عمران خان مدت پوری کیے بغیر تختہ اقتدار سے نکال باہر کئے گئے۔

تحریک انصاف کے سپورٹرز کو شاید اب تک یقین نہیں آرہا کہ عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ وجہ یہ کہ عمران خان اور ان کے ارکین اسمبلی   بڑے دعوؤں کیساتھ کہتے رہے کہ تحریک انصاف 2028 تک اقتدار میں رہے گی, اپوزیشن جماعتیں صبر کریں ۔ یہ تکبر اور  غرور انہیں  لیکر بیٹھ گیا اقتدار کا ہما کس طرح ان کے سر سے اترا   یہ پوری دنیا نے دیکھا۔ اقتدار ریت کی طرح تحریک انصاف کے سربراہ کے ہاتھوں سے سرکتا رہا لیکن وہ کچھ نہ کر پائے۔

اقتدار سے نکالے جانے کے بعد سے عمران خان جلسوں میں مصروف  ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی بڑی تعداد ان جلسوں میں شرکت کررہی ہے   لیکن عمران خان آج جلسوں میں وہی کچھ کرتے نظر آرہے ہیں جس پر نواز شریف کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ آج وہ جلسوں میں اپنے سپورٹرز سے پوچھ رہے ہیں ’’ میرا قصور کیا تھا؟؟ میں نے کون سا جرم کیا تھا جو مجھے اقتدار سے نکالا گیا‘‘ آج کی سیاسی صورتحال دیکھ کر  کہا جا سکتا ہے کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ جو 2028 تک اقتدار میں رہنے کے دعویدار تھے وہ اپنی مدت بھی پوری نہ کر پائے  اور آج پوچھ رہے ہیں ہمارا قصور کیا تھا۔   

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں. 

مزید :

بلاگ -