”دس سے پندرہ ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم۔۔“ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس 

”دس سے پندرہ ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم۔۔“ آرٹیکل 63 ...
”دس سے پندرہ ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم۔۔“ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس 

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ  10 سے15ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم اس پر فیصلے کیوں دیں  فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں ۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی ، دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ، تمام سٹیک ہولڈرز عدالت کی جانب دیکھ رہے ہیں، منحرف اراکین اب تو عوام میں بھی  نہیں جا سکتے۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انحراف کی اجازت ہو اور کچھ چاہتے ہیں کہ اجازت نہ ہو ، آج آسان طریقہ ہے کہ دس ہزار بندے جمع کرو اور کہو کہ میں نہیں مانتا، پارلیمنٹ نے تاحیات نااہلی کا کہیں واضح نہیں لکھا ، پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا ، پارلیمنٹ میں آئین کے حوالے سے دو بار چیزیں سامنے آئیں لیکن اس کی تشریح نہیں کی گئی ۔

ایڈو وکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام ہے ، سینیٹ الیکشن کے بعد بھی ووٹ فروخت ہو رہے تھے ۔جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو خود ترمیم کرنے دیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 سے15ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم اس پر فیصلے کیوں دیں  فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں ، عدالت اپنا آئینی کام سر انجام دیتی ہے اور دیتی رہے گی، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہی، ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ، عدالت کیوں آپ کے سیاسی معاملات میں پڑے ۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں بھی یہی معاملہ سامنے آیا تھا ، عدالت کے سر پر کیوں ڈال دیا جاتاہے ، اگر ان منحرف اراکین کے حوالے سے کوئی آئین میں ترمیم کرنی ہے تو پارلیمنٹ خود فیصلہ کرے ، منحرف اراکین کی نااہلی 5سال کی ہو یا تاحیات ہو ، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ خود کرے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی جمہوریت کی ایک بنیاد سیاسی جماعت ہے ، سیاسی جماعتوں کو 4 صورتوں میں آرٹیکل 63 میں یہ تحفظ دیا گیاہے ، ضیاءالحق نے پارٹی سے انحراف پر پابندی کی شق آئین سے نکال دی تھی ، 1998 میں ترمیم کی گئی ، شق کو دوبارہ ڈال دیا گیا ، 2010 میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے اس میں آرٹیکل 63 اے اس میں شامل کر دیا گیا ہے ۔آئین کی خلاف ورز ی چھوٹی بات نہیں ہے ، آئین کی خلاف ورز ی پر کئی لوگ آرٹیکل 6 پر چلے جاتے ہیں ، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کا کیس نہیں بنتا، صدارتی ریفرنس کے مطابق منحرف اراکین پر آرٹیکل 62 ون کا اطلاق ہونا چاہیے، عدالت تعین کرے گی کہ آئین سے انحراف کا کیا نتیجہ ہو گا ۔

ایڈو وکیٹ جنرل اسلام آباد نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں جس کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بابراعوان دلائل دے رہے  تھے کہ چیف جسٹس نے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -