تحائف خریدنے کے بعد میری مرضی میں جیسے استعمال کروں،عمران خان

 تحائف خریدنے کے بعد میری مرضی میں جیسے استعمال کروں،عمران خان
 تحائف خریدنے کے بعد میری مرضی میں جیسے استعمال کروں،عمران خان

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف  عمران خان نے کہا کہ 2018میں توشہ خانہ سے خریداری 15 فیصد پرہوتی تھی،ہمارے دور میں 50 فیصد پرکی گئی، تحائف خریدنے کے بعد میری مرضی میں جیسے استعمال کروں۔

نجی ٹی وی" دنیا نیوز "کے مطابق سابق  وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ  توشہ خانہ سے تحائف 50 فیصد ادائیگی کرکے لیے،بہت سے تحائف مجھے بنی گالہ رہائشگاہ پر ملے جو میں نے توشہ خانہ میں جمع کرائے، ساڑھے 3 سال میں میرے خلاف کچھ نہیں ملا تو توشہ خانہ نکال لائے، تحائف بیچ کر پیسوں سے بنی گالہ کی سڑک بنوائی اور گھرکے اطراف باڑ لگوائی،شریف خاندان نے جاتی امرا میں سرکاری خرچ سے 70 کروڑ روپےکی دیواربنوائی،فرح خان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا،وہ  کرپشن کیسے کرسکتی ہیں؟، فرح خان کےخلاف کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ دورہ روس پر دفتر خارجہ اور فوج آن بورڈ تھے،اداروں سے مشورہ لیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دورہ روس پر جانا چاہیے یا نہیں،اس وقت  ادارے دورہ روس کے حامی تھے،وزیراعظم ہاؤس میں 9 اپریل کی رات 12 بجے تک صحافی میرے ساتھ تھے،

عمران خان نے کہا کہ  اتحادیوں کو ٹکٹ دے کر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہئے ،  گزشتہ انتخابات میں ٹکٹوں پر توجہ نہیں دی تھی ،  آئندہ انتخابات میں ٹکٹیں خود دوں گا،  میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب سب چیزیں ٹھیک ہو رہی تھیں ،  میری لڑائی اس مافیا سے تھی جو قیمتیں اوپر لے کر جا رہا تھا۔

سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میں  کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے ملک کو نقصان ہو ،میں  امریکہ کےخلاف نہیں ہوں، اگر میں  ہوتا تو بڑی تعداد میں پاکستانی وہاں احتجاج نہ کرتے، نئی حکومت کے آتے ہی امریکہ اور بھارت نے ڈومور کا مطالبہ کردیا، حکومت نے ڈومور پر کسی قسم کا جواب تک دینے گوارہ نہیں کیا۔ ایف آئی اے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں ، 24 ارب کی تفتیش کرنے والوں  کو تبدیل کیا جارہاہے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہئے تھا ،ریفرنس وزارت قانون  کی جانب سے بھیجا گیا تھا، میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ، یہ لوگ جب بھی کھیلتے ہیں  تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں  ،  چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی  آزاد باڈیز کے ذریعے ہونی چاہئے ،  موجودہ چیف الیکشن کمشنر  کی تعیناتی اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے ہوئی ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -