گورنر کو ہٹانے کے لیے صدر کی منظوری ضروری، لیکن صدر مملکت کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟ وہ بات جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے

گورنر کو ہٹانے کے لیے صدر کی منظوری ضروری، لیکن صدر مملکت کو عہدے سے کیسے ...
گورنر کو ہٹانے کے لیے صدر کی منظوری ضروری، لیکن صدر مملکت کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟ وہ بات جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں اور اس وقت صدر مملکت اور گورنر پنجاب کے کلیدی عہدوں پر بدستور تحریک انصاف کے لوگ تعینات ہیں جنہیں ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن صدر نے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ اسی کوشش کے ہنگام عوام کے ذہنوں میں ایک یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا صدر مملکت کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے؟ اور اگر ہٹایا جا سکتا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ وکی پیڈیا کے مطابق آئین پاکستان میں صدر مملکت کو عہدے سے ہٹانے کا ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت صدرکو، اگر وہ کوئی غیرآئینی اقدام کرتے ہیں، تو ان کے عہدے کی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل مواخذے کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔

 صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی پارلیمان کے ایوان اور زیریں دونوں میں سے کسی ایک سے بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی ایک ایوان صدر مملکت پر الزامات عائد کرکے کارروائی کا آغاز کرے گا۔ یہ الزامات ایک نوٹس کی شکل میں ہوں گے جس پر ایوان کی مناسبت سے چیئرمین یا سپیکر کے دوتہائی اکثریت کے ساتھ دستخط ہوں گے۔ یہ نوٹس صدر مملکت کو بھیجا جائے گا اور اس کے 14دن بعد بحث کا آغاز ہو گا۔ 

صدر کے مواخذے کی قرار داد دو تہائی اکثریت سے منظور ہونی لازمی ہوتی ہے، جس کے بعد 7دن میں سپیکر قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس طلب کرتا ہے۔ اس دوران صدر مملکت کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر مشترکہ اجلاس میں صدر کے مواخذے کی تحریک دو تہائی اکثریت سے منظور ہو جاتی ہے اور صدر کو آئین کی خلاف ورزی یا دیگر کسی نااہلی کے سبب عہدے کے لیے ’اَن فٹ‘ قرار دے دیا جاتا ہے، اس کے فوری بعد صدر کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی صدر کا مواخذہ نہیں کیا گیا۔ 2008ءمیں سابق صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی ایک کوشش کی گئی تھی، تاہم وہ کارروائی سے پہلے ہی عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -