ارشاد بھٹی نے رات بارہ بجے عدالتیں کھلنے پر بڑے سوال اٹھا دئیے

ارشاد بھٹی نے رات بارہ بجے عدالتیں کھلنے پر بڑے سوال اٹھا دئیے
 ارشاد بھٹی نے رات بارہ بجے عدالتیں کھلنے پر بڑے سوال اٹھا دئیے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے عمران خان کے  خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمل نہ کروانے پر رات بارہ بجے عدالتیں کھلنے پر بڑے سوال اٹھا دئیے ۔ 

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب اپنے مطلب کے لیے اداروں  کو دباو میں لاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ججز کی کردار کشی نہیں ہوئی؟نواز شریف روز بیٹھک  سجاتے تھے ،پریس کانفرنس کرتے تھے اور ججز پر دباو ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔کیا سپریم کورٹ پر حملے نہیں ہوئے؟کیا فوج پر چڑھائیاں نہیں ہوئیں؟اور کیا الیکشن کمیشن پر الزام نہیں لگتا رہا؟نیب اور ایف آئی اے کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا گیا؟کیا عوامی عدالتیں نہیں لگی گئیں؟کیا انصاف کا ترازو سٹیج پر نہیں آیا؟ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس بتائیں ایک پان فروش پانچ  ،چھ دن کے لیے حوالات میں گیا لیکن وہ پانچ سال کے لیے جیل میں رہا؟مرغی چور  کی سپریم کورٹ میں ضمانت نہیں ہوئی،ایک ہزار کا دھنیا چور  سپریم کورٹ میں ضمانت لیتا ہے؟سرگودھا کی رانی 19سال بے گناہ جیل میں رہتی ہے؟اس پر کیوں رات کو عدالتیں نہیں لگائیں گی؟میں اپنی عدالتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب سپریم کورٹ میں بری ہوئے اس سے پہلے بہاولپور  کے دو بھائی پھانسی پر چڑھ گئے تھے ان کا ذمہ دار کون ہے؟کیا یہ فوری فیصلے والا کیس نہیں تھا؟کیا صرف نواز شریف،مریم نواز،شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف ہی  ارجنٹ ہیں؟ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے،عدالتوں کو چاہیے کہ فیس نہیں کیس دیکھیں۔

مزید :

قومی -