ماموں کا بیٹا  صاف رنگت کی بدولت بچپن سے ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا،جب وہ لمبی دم والا سرمہ لگوا کر نکلتا تو دھیان بھورے بندروں کی طرف چلا جاتا 

ماموں کا بیٹا  صاف رنگت کی بدولت بچپن سے ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا،جب وہ ...
ماموں کا بیٹا  صاف رنگت کی بدولت بچپن سے ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا،جب وہ لمبی دم والا سرمہ لگوا کر نکلتا تو دھیان بھورے بندروں کی طرف چلا جاتا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:245
 ہمارا یہ پیارا بھائی تعلیم کے دوران تھوڑا سا لڑکھڑایا مگر فوراً ہی سنبھل گیا اور پھر بے تحاشا تعلیم حاصل کر کے پہلے اپنا علم دوسروں کو منتقل کیا اور بعد میں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز رہا۔ اس کو بھی خاندان کے دوسرے لوگوں کی طرح ایمانداری کا عارضہ لاحق ہے، اس لیے اس کے محکموں والے اس سے اکثر نالاں ہی رہتے تھے اور اس کو ہر وقت آگے لگائے رکھتے تھے۔ اب اس کی شرارتیں بڑی حد تک تھم سی گئی ہیں اور چہرے پر اب کچھ بردباری ہے، شاید گھر گرہستی میں کچھ زیادہ ہی مصروف ہو گیا ہے یا پھر قدم قدم پر ناجائز ذہنی دباؤ سہتے سہتے اس کی حس مزاح ختم ہو گئی ہے اوروہ مسکرانا بھی بھول گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی، جس سے میں ٹھیک ٹھاک قسم کا رشک بلکہ حسد کرتا ہوں یہ ہے کہ خاندان میں کوئی بھی خوشی یا غمی کا موقع ہو، یہ وہاں سب سے پہلے بیٹھا دانت نکال رہا ہوتا ہے۔ ہم ابھی وہاں نہ جا سکنے کے مناسب جواز اور بہانے ہی تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو یہ وہاں کا نصف راستہ بھی طے کر چکا ہوتا ہے۔
عبدالشکور انجم محکمہ تعلیم میں ایک اعلیٰ عہدہ سے ریٹائر ہو کر وقتی طور پر تو گھرآن بیٹھا ہے لیکن مجھے علم ہے وہ نچلا بیٹھنے والا نہیں ہے، جلد ہی وہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی مصروفیت ضرور نکال لے گا۔ 
مقبول احمد
مقبول، طالب کا چھوٹا بھائی اور اپنی رنگین آنکھوں اور صاف رنگت کی بدولت بچپن سے ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ جب چھوٹا تھا تو اس کے بال انگریزوں کی طرح سنہری ہوتے تھے اور وہ مقامی کے بجائے مغرب سے درآمد کیا ہوا بچہ لگتا تھا۔جب وہ لمبی لمبی دم والا سرمہ لگوا کر نکلتا تونا جانے کیوں دھیان برازیل کے جنگلوں میں درختوں پر چھلانگیں لگاتے ہوئے بھورے بندروں کی طرف چلا جاتا تھا۔ تقریباً سب ہی اس سے کھیلتے اور اسے کھلاتے رہے، پھر تھوڑا بڑا ہوا تو گروپ کا حصہ بنا لیا گیا، اسے یہ اعزاز کم عمری میں ہی نصیب ہو گیا تھا حالانکہ تب           تک یہ نامکمل لباس میں ہی پھرا کرتا تھا۔
 جب یہ چھوٹا سا تھا تو اس وقت میں تازہ تازہ جوان ہوا تھا اور باقاعدگی سے شیو کیا کرتا تھا جس سے میری داڑھی کے بال بہت سخت ہو گئے تھے اور سوئیوں کی طرح چبھتے تھے۔ میرا دل پسند مشغلہ تھا کہ میں مقبول کو اٹھا کر اس کے نرم و نازک رخساروں پر اپنی برش نما داڑھی رگڑتا، جس سے اس کی چیخیں نکل جاتیں اور گال سرخ ہو جاتے تھے۔ اپنی اس حرکت کی وجہ سے ممانی سے جھاڑیں علیٰحدہ پڑتی تھیں۔ میں جب بھی اس کے قریب ہوتا تو اس کی پہلی ترجیح وہاں سے فرار ہونے کی ہی ہوتی تھی،تاہم جب بات نہ بنتی اور وہ پکڑا جاتا تو وہ منت ترلے پر اتر آتا اور بڑے پیار اور عاجزی سے اپنی توتلی زبان میں کہتا کہ ”بھائی جان او رجو چاہے کر لو پر اپنی داڑھی نہ لڑانا“۔ میں طفل تسلیاں دے کر اس کے قریب ہو جاتا اور منافقت سے اسے کہتا”بھلا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے داڑھی لڑانے کی“، معصوم سابچہ تھا بس اعتبار میں مارا جاتا اور جیسے ہی وہ قریب آتا میں چیل کی طرح اس پر جھپٹتا اوراسے دبوچ کر اپنا کام دکھا دیتا، وہ چیخیں مارتا اور رخسار سہلاتا ہو ماں کی طرف بھاگ جاتا اور اس دوران گلی محلے سے تازہ تازہ سیکھی ہوئی ایسی ایسی گالیاں اس کے ہونٹوں سے پھوٹتی تھیں جس کا مطلب خود اسے بھی معلوم نہیں ہوتا تھا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -