شمالی وزیرستان میں امریکہ کیساتھ مشترکہ آپریشن عوام اور فوج کو قبول نہیں :جنرل کیانی

شمالی وزیرستان میں امریکہ کیساتھ مشترکہ آپریشن عوام اور فوج کو قبول نہیں ...

  

راولپنڈی (ثناءنیوز )چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شمالی وزیرستان میں پاک امریکہ مشترکہ فوجی آپریشن کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی پاکستان کے عسکری و سیاسی مفادات کو مد نظر رکھ کر کی جائے گی ۔ امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن عوام اور مسلح افواج کے لیے ناقابل قبول ہے ۔ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جیمز میٹس سے ملاقات کی ۔ جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ۔ آرمی چیف نے امریکی جنرل کو شمالی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن پر پاکستان کی پوزیشن سے آگاہ کیا ۔ آرمی چیف نے مشترکہ آپریشن کی خبروں کو بھی ملاقات میں مسترد کردیا ۔ اس موقع پر پاک امریکہ تعاون پر بھی بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں مشترکہ آپریشن سے متعلق قیاس آرائیوں کی بھی آرمی چیف نے تردید کی ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر سے واضح طور پر کہا کہ شمالی وزیرستان میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ مشترکہ آپریشن پاکستانی عوام اور مسلح افواج کسی طور پر قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر شمالی وزیرستان میں پاکستان خود آپریشن کرے گا۔ مشترکہ کارروائی دونوں ممالک کی مسلح افواج کی بارڈر کے کسی بھی طرف ہوتی ہے تاہم شمالی وزیرستان میں کسی بھی کارروائی میں ملکی مفاد کو مد نظر رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے کہا کہ کسی بھی بیرونی دباﺅ میں آکر فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا۔ کارروائی عسکری اور سیاسی ضروریات کو مد نظر رکھ کر کی جائے گی ۔ ملاقات مےںپاکستان اور امر ےکہ کے علاقائی سیکیورٹی کیلئے اعلی سطح کے باہمی رابطے مستقل بنیاد پر منعقد کرنے پر اتفاق کیا گےا ، ا جنرل میٹس نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی' کے علاوہ سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک اور دوسرے اعلی فوجی رہنماﺅں کے ساتھ سیکورٹی کے متعدد مشترکہ معاملات بشمول عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور سرحدی تعاون بہتر بنانے پر بات چیت کی۔ جنرل میٹس نے تشدد آمیز انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور ان پانچ ہزار پاکستانی فوجیوں کی قربانیوں پر اظہارِ تعزیت کیا جنہوں نے اس مقصد کیلئے اپنی جانیں دیں۔ جنرل میٹس نے ان کیلئے وقت نکالنے پر اپنے پاکستانی ہم منصبوں کا شکریہ ادا کیا اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان سیکورٹی تعلقات کا جن میں نہ صرف افغانستان میں جاری فوجی کارروائیاں بلکہ علاقائی استحکام بھی شامل ہے اعادہ کیا۔ انہوں نے سرحدی تعاون اور علاقائی سلامتی ایسے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔جنرل جیمز میٹس نے کہاہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی قربانیوں کا امریکا اعتراف کرتا ہے. اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ سے جاری بیان کے مطابق جنرل جیمز میٹس ، دورہ پاکستان مکمل کرکے واپس روانہ ہوگئے ہیں، اس دورے میں انہوں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین اور دیگر سینئر فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں. ان میں سیکیورٹی امور، سرحدی تعاون موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا، ملاقاتوں میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف بھی بات ہوئی ، جنرل میٹس نے شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا،انہوں نے اس مقصد میں پاکستان کے 5 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں چلے جانے پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جنرل میٹس نے دورہ پاکستان میں ملنے والے تعاون کو بھی سراہا۔ جنرل میٹس نے پاک امریکا سیکیورٹی تعاون کوافغانستان میں آپریشنز کیلئے اور علاقائی استحکام کیلئے اہم قرار دیا، یہ طے کیا گیا کہ پاک افغان سرحدی امور اور علاقائی سیکیورٹی کیلئے پاک امریکا رابطوں کو 15 روزہ بنیادوں پر منعقد کیا جاتا رہے گا۔

مزید :

صفحہ اول -