حکومتی عہدیدارعوام کوسہولت دینے کے بجائے خواب خرگو ش کے مزلے رہے ہیں :لاہور ہائیکورٹ

حکومتی عہدیدارعوام کوسہولت دینے کے بجائے خواب خرگو ش کے مزلے رہے ہیں :لاہور ...

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت بجلی چوری اور لوڈ شیڈنگ کے معاملات پر اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ عوام کو سہولت دینے کی بجائے ذمہ دار حکومتی عہدیداران خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، بجلی کی تقسیم کا ر کمپنیوں کے پاس بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے کے لئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔عدالت نے یہ ریمارکس لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔ فاضل عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو لوڈشیڈنگ کے خاتمہ اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لئے ضروری اقدامات کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے ۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ بعض ہاﺅسنگ سوسائیٹیوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے حاصل استثنیٰ ختم کیا جائے اور تمام سوسائیٹیوں اور لوگوںسے یکساں سلوک کیا جائے۔عدالت نے مزیدقرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 9کے تحت زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور بجلی کی فراہمی ضروریات زندگی کا بنیادی جزو ہے۔ عدالت نے تقسیم کار کمپنیوں کو فریق بنانے کی اجازت دیتے ہوئے ان سے بجلی کی تقسیم اور اخراجات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطاءبندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہروں میں لوگ اس بات پر واویلا مچا رہے ہیں کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ دیہی علاقوںمیں صورتحال اس سے بھی بدترہے اور وہاں لوگ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میرا تعلق بھی دیہی علاقے سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہاں لوڈشیڈنگ کا کیا حال ہے۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت کیلئے12ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -