حکومت ملک بھر میں بجلی کی یکسا ں سپلائی کو یقینی بنائے ،لاہور چیمبر

حکومت ملک بھر میں بجلی کی یکسا ں سپلائی کو یقینی بنائے ،لاہور چیمبر

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی یکساں سپلائی یقینی بنائے کیونکہ صوبہ پنجاب میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے نہ صرف نظام زندگی تباہ کردیا ہے بلکہ جی ڈی پی بھی تین فیصد کم ہوا ہے جو معاشی حوالے سے بہت تشویشناک ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ بجلی کے سنگین بحران کی وجہ سے صوبے میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری کا عمل بہت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں، صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی سے برآمدات بھی شدید متاثر ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ نو اپریل کو منعقد ہونے والی انرجی کانفرنس میں متفقہ فیصلوں اور ملک بھر میں یکساں لوڈشیڈنگ کا اعلان کرنے کے باوجود صوبہ پنجاب کو غیرمنصفانہ لوڈشیڈنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت نے نہ صرف صنعت و تجارت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ صوبے میں بے روزگاری اور غربت بھی بڑھی ہے۔ عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ کم لائن لاسز اور زیادہ ریکوری والی فعال ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین کو زیادہ لوڈشیڈنگ کے بوجھ تلے دبانا سراسر ناانصافی ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور میں دس سے اٹھارہ گھنٹے جبکہ حیدر آباد میں صرف چار سے آٹھ گھنٹے، کراچی میں دو گھنٹے، نواب شاہ میں چھ سے آٹھ گھنٹے، پشاور میں چھ سے دس گھنٹے، کوئٹہ میں چار سے آٹھ گھنٹے، راولپنڈی میں آٹھ سے چودہ گھنٹے اور سکھر میں چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوں کی ریکوری 99.8%، گوجرانوالہ میں 98.8%، لاہور میں 98.1% ، حیدر آباد میں 59.1%، کراچی میں 85.6%، پشاور میں 78.4% اور کوئٹہ میں 41%ہے۔ اسی طرح پشاور میں لائن لاسز 35%، حیدر آباد میں 34%، کوئٹہ میں 18%، لاہور میں 13%، گوجرانوالہ میں 12%، فیصل آباد میں 11%اور اسلام آباد میں 10%ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ پنجاب کی معیشت کی تباہی کا مطلب قومی معیشت کی تباہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے جی ڈی پی میں پنجاب کا حصہ دو تہائی اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں 80%ہے جبکہ اسے بجلی کا صرف ساٹھ فیصد ملتا ہے جو ضروریات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی صنعت و تجارت اور معیشت کو سیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائے اور ملک بھر میں بجلی کی یکساں تقسیم یقینی بنائے بصورت دیگر حالات مزید خراب ہونگے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -