پنجاب کی تقسیم کے لئے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل؟

پنجاب کی تقسیم کے لئے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل؟

  

سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پنجاب میں دو نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے12ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیشن قائم کر دیا ہے، دو مزید ارکان کے ناموں کا انتظار ہے، جو پنجاب اسمبلی کے سپیکر نامزد کریں گے،جن ارکان کو نامزد کیا گیا ہے اُن میں مختلف پارلیمانی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی کے چھ اور سینیٹ کے بھی چھ ارکان شامل ہیں جن میں فرحت اللہ بابر، صغریٰ امام، حاجی عدیل، کامل علی آغا، رفیق رجوانہ، عبدالغفور حیدری، علی موسیٰ گیلانی، تہمینہ دولتانہ، فاروق ستار، جمشید دستی، عارف شیخ اور سعود مجید شامل ہیں۔ اگرچہ کمیشن میں مسلم لیگ(ن) کے بھی دو ارکان کو نمائندگی دی گئی ہے، لیکن اس نے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف پنجاب میں صوبے بنانے کے لئے کمیشن کی تشکیل درست نہیں، قومی اتفاقِ رائے سے ایک ایسا قومی کمیشن بنایا جائے، جو ملک بھر میں نئے صوبوںکی تشکیل کے لئے سفارشات کرے، سپیکر قومی اسمبلی نے جو کمیشن تشکیل دیا ہے اس کمیشن کے دائرہ کار میں جنوبی پنجاب کے صوبے کی تشکیل اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے معاملے کی سفارشات کرنا شامل ہے۔ یہ کمیشن یہ سفارش بھی کرے گا کہ اِن صوبوں کی حدود کیا ہوں گی اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کے کتنے ارکان ہوں گے۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے آوازیں صرف پنجاب میں ہی نہیں اُٹھ رہیں، ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ایسے مطالبات موجود ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبہ بنانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ فاٹا صوبے کی تشکیل کے حامی بھی موجود ہیں، حتیٰ کہ صوبے کے بعض دوسرے حصوں کو بھی صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ موجود ہے، بلوچستان میں پختون آبادی کے لئے علیحدہ صوبے کی تشکیل کا معاملہ بھی کافی پرانا ہے۔ اگرچہ سندھ کی تمام بڑی بڑی جماعتیں اس صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں اور کھلم کھلا صوبے کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہیں، لیکن سندھ میں ایسے عناصر ضرور موجود ہیں، جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے کراچی کے درو دیوار پر علیحدہ صوبے کے حق میں نعرے لکھ دیئے تھے۔ جب ساری جماعتیں سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں تو پھر یہ کون لوگ تھے؟ ابھی تک یہ راز نہیں کھلا، بہرحال کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب پورے ملک میں نئے صوبے بنانے کے مطالبات ہو رہے ہیں، تو صرف پنجاب کی تقسیم کے لئے کمیشن کیوں بنایا گیا ہے اور باقی صوبوں کے معاملے کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے؟ اس طرح تو سارے معاملے پراسرار کے پردے حائل ہوجاتے ہیں۔

کسی نئے صوبے کی تشکیل کے لئے جس صوبے کو تقسیم کرنے کا معاملہ درپیش ہو، اس کی صوبائی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرنا پڑتی ہے، تب کہیں جا کر اِس سلسلے میں باقی امور آئین کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں، لیکن جہاں تک جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کاتعلق ہے اِس سلسلے میں قرارداد پہلے قومی اسمبلی نے منظور کی، جس کی روشنی میں کمیشن تشکیل دے دیا گیا، جبکہ پنجاب اسمبلی میں تاحال ایسی کوئی قرارداد دو تہائی اکثریت منظور نہیںہوئی، جو آئین کا منشا پوری کرتی ہو۔ سادہ اکثریت سے ایک قرار داد ضرور منظور ہوئی تھی جو کسی بھی لحاظ سے کسی کیلئے بائنڈنگ نہیں دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں صوبے کی حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) سمیت کسی بھی جماعت کو دوتہائی اکثریت حاصل نہیں۔ مسلم لیگ(ن) بہاولپور صوبے کی بحالی چاہتی ہے اور اسے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں، لیکن وہ لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے کے خلاف ہے، اِس لئے اب اس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ باقی صوبوں کی تقسیم کے لئے بھی اتفاق رائے سے قومی کمیشن تشکیل دیا جائے، جبکہ پیپلزپارٹی کی پالیسی بظاہر یہی لگتی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کے معاملے کو زندہ رکھ کر جنوبی پنجاب کے ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہے، ورنہ اس کے رہنما خوب جانتے ہیں کہ جب تک پنجاب اسمبلی میں دوتہائی اکثریت نہ ہو اس میں سے نیا صوبہ نہیں نکالا جا سکتا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگلے الیکشن میں کسی جماعت کو دوتہائی اکثریت مل جائے تب وہ نئے صوبے کی تشکیل کرنا چاہے تو آئینی ضرورت پوری کر کے ایسا کر سکتی ہے، لیکن اس وقت سارے اندازے اور سارے جائزے واضح کرتے ہیں کہ وفاق، پنجاب سمیت کسی صوبے میں کوئی بھی جماعت دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جب کسی کے پاس دوتہائی اکثریت ہے اور نہ ملنے کا امکان ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں سے جنوبی پنجاب کا صوبہ کیسے بنے گا؟ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ تمام جماعتیں مل کر کسی لائحہ عمل پرمتفق ہوجائیں اور متحد ہوکر قرار داد دو تہائی اکثریت سے منظور کرالیں؟ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی گزشتہ کچھ عرصے سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے سرگرم ہیں اور زبانی دعوے بھی کرتے رہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی بھی اِس سلسلے میں متحرک ہے۔ حال ہی میں جب علی موسیٰ گیلانی ملتان سے ضمنی الیکشن لڑ رہے تھے تو اُن کے حلقے میں جنوبی پنجاب کے نعرے ضرور لگتے تھے لیکن کیا ایک حلقے یا چند حلقوں کا ضمنی انتخاب کسی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ خود ہی یہ فیصلے کر لے کہ صوبہ جلد از جلد بننا چاہئے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل جو12 رکنی کمیشن بنایا گیا ہے یہ اُس وقت تک نامکمل رہے گا جب تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر اس کے لئے دو ارکان کی نامزدگی نہیں کرتے۔ پنجاب کی حکمران جماعت نے کمیشن مسترد کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں کیا یہی نامکمل کمیشن کام کرے گا یا پھر پنجاب اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے نامزدگیوں کا انتظار کیا جائے گا؟ بہتر یہی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے مطالبہ پر غور کر کے ایک ایسا وسیع تر کمیشن بنایا جائے جو یہ جائزہ لے کہ ملک میں کہاں نئے صوبوں کی ضرورت ہے اور کہاں نہیں، محض ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے آئینی طریق کار کو نظر اندازکرنا درست نہیں، نئے صوبوں کے حق میں، کہیں زیادہ اور کہیں کم حمایت موجود ہے۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کے لئے سرگرمی دکھانا اور باقی صوبوں کے لئے مطالبات کو سرے سے نظر انداز کرنا کوئی اچھا رویہ نہیںہے۔ اگر صوبے بننے سے واقعی مسائل حل ہو سکتے ہیں تو پھر اس نیک کام کو محض ایک صوبے تک محدود رکھنے کی حکمت و دانش سمجھ نہیں آتی،نئے صوبوں کی تشکیل کر کے اگر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ سکتی ہیں، تو پھر ان نہروں کو صرف پنجاب تک محدود رکھنا زیادتی ہو گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ نہریں باقی ملک میں بھی مساوی طور پر بہائی جا ئیں تاکہ جن نہروں سے پنجاب کے لوگ مستفید ہوں باقی ملک کے لوگ اس سے محروم نہ رہیں۔

مزید :

اداریہ -