پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے کچھ توجہ طلب مسائل

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے کچھ توجہ طلب مسائل

  

 صحت اور تعلیم کے شعبے میں موجودہ حکومت پنجاب نے خصوصی دلچسپی لی ہے۔خاص طور پر صحت کے شعبے کے حوالے سے جو بھی اقدامات کئے گئے ہیں، ان کی فہرست بہت طویل ہے۔جس کا سہرہ بجا طور پر خادم اعلیٰ پنجاب جناب میاں شہبازشریف کے سر ہے۔پاکستان میں میڈیکل کے شعبے میں لاہور شہر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔تمام سرکاری ہسپتالوں کی خدمات قابل اعتراف ہیں۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نہ صرف پنجاب، بلکہ ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لئے شفایابی کا باعث ہے۔یہ دل کے مریضوں کا خاص ہسپتال ہے۔مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے پیش نظر حکومت نہ صرف پنجاب ،بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اسی طرز کے دل کے ہسپتال بنا رہی ہے۔اس سے متعلقہ شہر اور گردونواح کے لوگ اپنے ہی شہر میں بالکل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کی طرز پر سہولت حاصل کرسکیں گے۔کچھ شہروں میں تو باقاعدہ آغاز بھی ہو چکا ہے۔اگرچہ ملک کے تمام بڑے شہروں کے دیگر ہسپتالوں میں دل کے امراض کے شعبہ جات موجود ہیں۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی دل کے امراض کا مکمل ہسپتال ہے۔اسی میں مریضوں کا علاج چار طرح کی کیٹگری میں کیا جاتا ہے۔

 1-Paying  2-Generaluser

 3-Entitment 4-Poor

3پہلی قسم کی کیٹگری میں مریضوں کو مکمل طور پر پرائیویٹ خدمات حاصل ہوتی ہیں۔بغیر انتظار کئے ان کو علاج معالجے کی تمام سہولتیں حاصل ہوجاتی ہیں۔پہلی کیٹگری میں ڈاکٹروں(معالج) اور ہسپتال انتظامیہ کو گہری دلچسپی ہے،کیونکہ اس سے ڈاکٹروں کو پرائیویٹ خدمات کا علیحدہ سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ہسپتال انتظامیہ اس سے حاصل ہونے والی رقم نہ صرف ہسپتال کی توسیع،انتظامی امور کی بہتری کے لئے خرچ کرتی ہے، بلکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم کو غریب مریضوں کے علاج معالجے کے لئے بھی بچا کررکھتی ہے۔دوسری قسم کی کیٹگری میں مریضوں کو کچھ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے اور علاج پر آنے والے اخراجات کا کچھ حصہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔تیسری کیٹگری میں سرکاری ملازمین کا علاج کیا جاتا ہے، جس کے اخراجات متعلقہ محکمہ ادا کرتا ہے۔

چوتھی اور آخری کیٹگری میں وہ لوگ آتے ہیں،جن کی خدمت کے لئے خاص طور پر یہ ہسپتال بنایا گیا ہے۔اس کیٹگری کا قابل اعتزاز نام”Poorکیٹگری“ ہے،جس کا مطلب ہے Poorلوگ،poorخدمات اور Poorطریقے سے خدمات کا حصول ہے۔اس کیٹگری میں آنے والے مریض کسی بھی طرح کی خدمات کے حصول کے لئے بہت لمبا انتظار کرتے ہیں۔Ett،Ec40انجیوگرافی اور دل کے آپریشن وغیرہ کے لئے نہ صرف بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں، بلکہ جب تک باری آتی ہے ،بہت سارے مریض یا تو اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں یا پھر اپنا گھر بار بیچ کر پرائیویٹ خدمات حاصل کرلیتے ہیں اور پھر OPDمیں مریضوں کا چیک اپ بھی انتہائی جونیئر ڈاکٹر کرتے ہیں۔ان مریضوں کو پروفیسروں یا دیگر سینئر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل نہیں ہوتیں۔جونیئر ڈاکٹر اپنی کم علمی کی وجہ سے یا تو صحیح وقت پر صحیح تشخیص نہیں کرپاتے یا پھر تشیخص کے مراحل کو اس قدر لمبا کردیا جاتا ہے کہ ٹیسٹوں کے چکروں میں پڑے مریض مزید بیمار ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ PICکو مکمل طور پر ایک سرکاری ہسپتال ہونا چاہیے۔اگرچہ حکومت نے کچھ عرصہ سے نجی خدمات کی بھی اجازت دے رکھی ہے، مگر یہاں خدمات کو مکمل طور پر سرکاری ہونا چاہیے اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہاں پر سرکاری سطح پر دوشفٹوں میں کام ہونا چاہیے۔ایوننگ شفٹ میں کمرے اور ڈاکٹر پرائیویٹ خدمات کے لئے مخصوص کردیئے گئے۔ اگرPICانتظامیہ اور حکومت پرائیویٹ پریکٹس کو اس قدر ضروری سمجھتی ہے تو اس کے لئے ایک نیا پرائیویٹ بلاک تعمیر کیا جائے اور موجودہ بلڈنگ، جس میں عرفان بلاک اور نیو OPOشامل ہے ، نہ صرف غرباءکے لئے وقف کیا جائے، بلکہ اس میں بھی توسیع کی ضرورت ہے۔اس سے مریضوں کے لئے نہ صرف خدمات کا حصول جلدی ممکن ہوگا، بلکہ علاج معالجے کی کوالٹی بھی مزید بہتر ہو جائے گی ۔خاص طور پر شہر سے باہر سے آنے والے مریض جس طرح خوار ہوتے ہیں، ان کے چکر بھی کم سے کم لگیں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ چوتھی قسم کی کیٹگری کو Poorکا نام دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہسپتال خاص طور پر غرباءکے لئے بھی بنا ہے۔براہ کرم اس کیٹگری کا نام تبدیل کرکے ”Fair“ یا کوئی بھی اور نام تجویز کرلیا جائے، تاکہ غریب مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر خدمات کے حصول کے ساتھ ساتھ عزت نفس بھی برقرار رہے۔  ٭

مزید :

کالم -