جہادِ افغانستان کا معمار....اختر عبدالرحمن شہید

جہادِ افغانستان کا معمار....اختر عبدالرحمن شہید

  

17 اگست 1988ءکے اُس المناک سانحہ کو چوبیس سال گزر گئے ہیں، کم و بیش ایک چوتھائی صدی پر مشتمل یہ کوئی تھوڑا عرصہ نہیں۔ یہ افسوس ناک فضائی حادثہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاءالحق اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسروں کو نگل گیا تھا۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے، جیسے ہم سب کچھ بھول بھلا گئے ہیں، لیکن گزشتہ دس سال سے جاری افغان جنگ کی وجہ سے 1980ءکی دہائی میں لڑے جانے والے جہادِ افغانستان کا ذکر بھی اکثر اخباری مضامین، ٹی وی تبصروں اور تجزیوں کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اس کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ افغان جہاد کی کامیابی کے بعد جنم لینے والی طالبان قیادت نہ صرف زندہ اور موجود ہے، بلکہ آج بھی اسے افغان مسئلے کے حل کے لئے ایک اہم کردار خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لوگ کوئی تین دہائیاں پہلے شروع ہونے والے جہاد افغانستان کا اُس جنگ سے موازنہ بھی کرتے ہیں، جو گزشتہ دس برس سے جاری ہے۔

قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ 1979ءکے اواخر میں افغانستان پر حملہ آور ہونے والا ملک بھی اس وقت کی ایک سپرپاور تھا اور اکتوبر 2001ءمیں افغانستان پر لشکر کشی کرنے والا ملک بھی دنیا کی سپرپاور ہے۔ اُس کا نام سوویت یونین یا روس تھا اور اس کانام ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے۔ اتفاق یہ کہ اس وقت بھی پاکستان پر ایک فوجی جرنیل کی حکومت تھی اور دس سال پہلے بھی یہاں ایک فوجی جرنیل، صدر پاکستان کے طور پر تمام تر اختیار کا مالک تھا۔ ضیاءالحق کے عہد میں بھی جمہوریت کا دور دور تک نشان نہیں تھا اور پرویز مشرف نے بھی جمہوریت کا دفتر لپیٹ رکھا تھا۔ فرق یہ سامنے آتا ہے کہ 32 سال پہلے جنرل ضیاءالحق نے اپنے سب سے قریبی اور بااعتماد رفیق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن سے مشاورت اور فوجی قیادت سے عمومی رائے کے بعد روسی جارحیت کے خلاف افغانستان کے عوام کی حمایت کا دلیرانہ فیصلہ کیا، جبکہ دس سال قبل جنرل پرویز مشرف دباو¿ میں آکر جارحیت کا ارتکاب کرنے والے امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جارحیت کا نشانہ بننے والے ایک پڑوسی اسلامی ملک کے مظلوم عوام کا ساتھ دینے کے بجائے جارحیت کرنے والی سپر پاور کا ساتھی بن جانا، شاید حالات کی مجبوری اور وقت کا تقاضا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہادِ افغانستان اور اس جنگ کے درمیان ایک بڑی واضح لکیر کھینچی جا سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ عناصر کسی نہ کسی سیاسی، ذاتی یا نظریاتی تعصب کی وجہ سے جہادِ افغانستان کو ایک مخصوص عینک سے دیکھتے اور بعض تو کئی قومی مسائل کا رشتہ بھی جہادِ افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن صاف ذہن اور کھلے دل سے دیکھا جائے تو جہادِ افغانستان، پاکستان کے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کی ایک ولولہ انگیز داستان تھی، جبکہ موجودہ جنگ ناکامی کی ایسی افسوس ناک کہانی ہے جس نے وطن عزیز کو بے شمار مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔

جنرل ضیاءالحق ایک بڑا فیصلہ کرنے کے بعد جہادِ افغانستان کے روزہ مرہ عملی معاملات سے الگ تھلگ ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ انہیں عالمی سطح پر بڑے بڑے معاملات سے نمٹنا تھا۔ جہاد کی تمام تر ذمہ داری سیدھی، صاف سوچ رکھنے اور عمدہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل جنرل اختر عبدالرحمن پر آپڑی، جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ تب آئی ایس آئی کے پاس اس طرح کی بڑی گوریلا جنگ کو منظم کرنے کی صلاحیت تھی، نہ تجربہ.... جبکہ مقابلہ ایک ایسی سپر پاور سے تھا، جو پڑوس میں بیٹھی تھی اور جس کی سرحدیں افغانستان سے جڑی تھیں۔ وہ امریکہ یا نیٹو افواج کی طرح سات سمندر پار سے نہیں آرہے تھے کہ انہیں کسی دوسرے ملک سے راہ داری کی ضرورت ہوتی یا وہ کسی کے محتاج ہوتے۔ روس نہ صرف ایٹمی قوت تھا، بلکہ اس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ، دنیا بھر کے تمام ممالک سے زیادہ تھا۔

جنرل اختر عبدالرحمن کے سامنے کئی کٹھن کام تھے۔ پہلا یہ کہ اپنے اپنے طورپر ہتھیار اٹھائے، غیر منظم طور پر لڑنے والے افغان گروہوں کو کس طرح منظم کیا جائے؟ پھر یہ کہ فوری طور پر وسائل کہاں سے لائے جائیں اور خاص طور پر اسلحہ اور گولہ بارود کا بندوبست کیسے کیا جائے؟ پھر ایک مو¿ثر سپلائی لائن کیسے قائم کی جائے کہ منظم روسی فوج کا مقابلہ کرنے والے مجاہدین اپنا دباو¿ قائم رکھ سکیں؟ پھر یہ کہ بظاہر امریکہ سمیت اس مسئلے سے لاتعلق کھڑی دنیا کو کیسے یقین دلایا جائے کہ افغانستان میں ایک سپر پاور کے لئے مشکلات پیدا کرنا محض دیوانے کا خواب نہیں، پھر یہ کہ بیرونی امداد شروع ہو جانے کے بعد کیوں کر اس امداد کی تقسیم پر مکمل کنٹرول رکھنا اور امداد دینے والے ممالک کو جہادِ کے عملی معاملات اور پالیسیوں پر اثر انداز نہ ہونے دینا، پھر امداد کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کرنے والے امریکہ اور اس کی طاقت ور ایجنسی سی آئی اے کو کس طرح ایک حد کے اندر اندر رکھنا ہے کہ وہ اپنا ایجنڈا اور اپنی حکمت عملی نہ بنا لے، پھر یہ کہ گوریلا جنگ کی کس طرح منصوبہ بندی کی جائے کہ مجاہدین اپنے سے کہیں طاقت ور فوج پر کاری زخم لگا سکیں اور ان سب سے بڑھ کر یہ بات کہ جنگ کے درجہ حرارت کو کس مقام پر رکھا جائے کہ روس مشتعل ہو کر اپنا رخ پاکستان کی طرف نہ موڑ دے۔

اس سب کچھ کے لئے صرف ایک اچھے مانیٹر جرنیل ہی کی نہیں، ایک حکمت کار کی ضرورت تھی۔ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ایک زبردست منظم کی ضرورت تھی، ایک خفیہ ایجنسی کے ذریعے اتنی بڑی جنگ لڑنے والے انتہائی ذہین ”سپائی ماسٹر“ کی ضرورت تھی اور پھر ایسے شخص کی ضرورت تھی، جو اپنی ذات سے بے نیاز ہو، جسے نہ اپنی تصویر کا شوق ہو، نہ پریس میں اپنے کارنامے بیان کرنے کا، نہ شہریت کا، نہ کسی انعام اور صلے کا اور یہ بھی کہ اس نے کبھی اپنی دیانتداری اور کھرے پن پر کوئی داغ نہ لگنے دیا ہو۔

معروف مصنف، میجر مارک ایڈکن کی کتاب "The Bear Trap" (شکست روس) کے الفاظ ہیں: ”جنرل اختر عبدالرحمن کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی جرنیل نے گوریلا کارروائیوں کو اس قدر منظم طریقے سے ترتیب دیا کہ بالآخر ایک سپر طاقت کو اپنے گھر کی راہ لینا پڑی۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ روسی سرحدوں کے اندر جا کر چھاپہ مار کارروائیاں کی گئیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں پہلی بار ”فتح“ اور ”کامیابی“ کسی جرنیل کا مقدر بنی، وگرنہ اب تک پاکستانی عساکر کی تاریخ کسی عظیم کامیابی کی وارث نہیں بن سکی۔ جنرل اختر عبدالرحمن نے پاک فوج کی تاریخ میں ایک ایسے باب کا اضافہ کیا ہے، جسے نہ صرف ملکی، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مثال کے طورپر پیش کیا جا سکتا ہے“ .... جنرل اختر عبدالرحمن کی شخصیت کے حوالے سے جہادِ افغانستان کی روشن یادیں آج کی اس بے مقصد اور لاحاصل جنگ کو سمجھنے میں بھی بڑی مدد دے سکتی ہیں۔ 17اگست کا یہ حوالہ زندہ رہنا چاہیے۔  ٭

مزید :

کالم -