عیدکی تعطیلات اور ہماری بے کلی

عیدکی تعطیلات اور ہماری بے کلی

  

 شمالی وزیرستان کے حوالے سے ہماری الجھنوں، اُن خطوں میں کئے جانے والے فوجی آپریشن کے حوالے سے واشنگٹن کے تحفظات اور ہمارے ہاں جاری رہنے والے سدابہار اداروں کے ٹکراﺅ، ان کے خدشات ، نتائج و عواقب اور اسی قبیل کے مزید ڈراموں میں شاید اب کچھ وقفہ آجائے ۔ اب جبکہ عید کے پُر مسرت دن قریب آرہے ہیں، ہمارے ہاں کچھ مزید سنگین قسم کے مسائل سر اٹھارہے ہیں اور اس اسلامی جمہوریہ میں شہری حلق تر کرنے کے لئے کسی ”معقول “قسم کے مشروب کی تلاش میں ہر نامعقول طریقہ اختیار کرتے دکھا ئی دے رہے ہیں۔ اس سال عید کی تعطیلات کتنی ہوں گی تین یا چار یا پانچ ؟اور یہ وہ دن ہوںگے، جب ہمارے گرد لپٹا ہوااخلاقیات کا بند ِ قبا قدرے ....(اگر مکمل نہیںبھی تو).... ڈھیلا ہو جائے گا۔ ایسے مواقع کم ہی زیادہ ہوتے ہیں ،کیونکہ لذت کے طویل ایام بذات ِ خود لذت کی نفی کردیتے ہیں، جیسا کہ ایک شاعر کا کہنا ہے کہ اگر تمام سال عیش میں بسر ہو تو چند روزہ کام تفریح کہلائے گا۔

عید کا پہلا روز بہت پُر لطف ہوسکتا ہے، خاص طور پر اہل ِ ایمان، جنہوںنے تمام ماہ روزے کی مشقت برداشت کی ہو، کے لئے اور اب ان کے دل ایک طرح کی روحانی مسرت سے لبریز ہوتے ہیںکہ وہ جنت کے مزید قریب ہو چکے ہیں، مگر نماز ِ عید کے بعد روایتی طور پر گلے ملا جاتا ہے اور پھر تمام دن بے کلی سے گزر جاتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان کیا کرے؟اس کے بعد جیسے جیسے دن ڈھلتا ہے، انسان کے دل پر تفکرات سایہ فگن ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ ”پس چہ باید کرد“ اور پھر بہت سے ممنوعہ امکانات اور امکانی ممنوعات کی آمیزیش (یا آویزش؟)شب گزیدہ کے پہلو میں گدگدیاں کرتی ہے(اگر مچھر نہ ہوں تو) یہاں تک کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر فیض صاحب کے جاوداں الفاظ ، جن کو ملکہ ¿ ترنم کی سحر انگیز آواز نے دل کی دھڑکنوں میں سمو دیا ہے”ہمیں معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے“....عملی تفہیم کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔یہ بے کلی اورا س میں نیک و بد کی کوئی قید نہیں ہماری تہذیب پر لپٹے پارسائی کے پردے سے پھوٹنے والے مسائل کی غمازی کرتی ہے۔

اس مملکت ِ خداد داد میں اس کے عاجز بندے کسی ” چشمہ ¿ حیواں “ کی تلاش میں ہمہ وقت سکندری کرتے رہتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ آپ خرید تو سکتے ہیں ،مگر ہر جگہ سے نہیں۔ اس حوالے سے اسلام آباد اور کراچی خوش قسمت ہیں ،مگر لاہور پر ستارے کچھ مہربان نہیں ہیں۔ پنجاب میں جوتو اگتے ہیں ،مگر ان کو مشروب کے پیمانے میں خریدنا ہر کس و ناقص کے بس کی بات نہیں۔ اگر کوئی شہری حلق تر کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے کئی بار سوچنا پڑتا ہے ....پاکستان میں طبقاتی فرق دراصل جاگیرداروں اور ان کے ہاریوں، یا مسلک کے اعتبار سے اہل سنت یا اہل تشیع یا اہل دیوبند کے درمیان نہیںہے، بلکہ یہ تفاوتی لکیر مراعت یافتہ طبقے، جو انگریزی بول سکتا ہے اور عوام الناس کے درمیان ہے۔ پاکستانی معاشرے کو صرف اس لکیر کے آر پار دیکھا جاسکتا ہے اور کوئی تقسیم اتنی واضح نہیںہے، بلکہ اور کوئی ہے بھی نہیں، تاہم معاشرے میں پارسائی کے نعروں نے ایک اورتقسیم کو واضح کر دیا ہے اوریہ پرانی روایتی تقسیم سے زیادہ واضح ہو رہی ہے کام کرنے کے اعتبار سے سب ایک ہیں ،مگر فرق تفریح کے معیار سے واضح ہوتا ہے۔

ہمارا اسلام کی طرف سفر نہایت متاثر کن ہے۔ ہم پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمان ہی تھے اور یہ ملک بننے کے بعد بھی ہمارا اسلام وہی رہا۔ اس کے بعد ”قرارداد ِ مقاصد “ نے ہمیں مزید بہتر مسلمان بنا دیا الحمدﷲ ۔ اس کے بعد ہم نے اقلیتوں کو خود سے دور کرکے پارسائی کی مزید منازل طے کر لیں۔ اس کے بعد آنجناب ضیاءالحق افق ِ پاکستان پر طلوع ہوئے اور مرد ِ مومن نے مذہب کوایک اور ملجگا رنگ دینا شروع کر دیا ۔ یہ ارتقارئی سفر ابھی تمام نہیںہوا ہے۔ اب تحریک ِ طالبان پاکستان القاعدہ کے موثر تعاون سے ہمارے عقیدے میں مزید نکھار لانے کے لئے کمر بستہ ہے ۔

برِ صغیر میں مسلمانوںکی اٹھ سوسالہ تاریخ میںکوئی مسلمان حکمران، بشمول اورنگ زیب عالمگیر، ہندوﺅںکو مسلمان بنانے میں اتنا کوشاں نہیں تھا، جتنا ہمارے حکمران پاکستانی مسلمانوںکو بہتر مسلمان بنانے کے درپے ہیں۔ سائنسی اور سماجی ترقی کو ایک طرف رکھ دیں ویسے اس میں بھی ہم تہی دامن ہیں اس ریاست میں ابھی تک مشروبات کا تعین نہیں ہو سکا ۔ یہاں ممنوع قرار دیئے جانے سے پہلے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ، چنانچہ اس کے لئے کوئی تگ و دو بھی نہیںکرنا پڑتی تھی ، تاہم پابندی کے بعد اب دیکھیں کہ لوگ اس کے لئے کتنے سرگرداں ہیں”جس نے پینی ہے وہ پی کر چھوڑے“ اب چھوٹتی تو نہیںہے یہ منہ لگی، چنانچہ لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق سکاٹ ، مری یا دیسی یا خودساختہ پی کر رہتے ہیں۔ میرا شہر چکوال نقلی مشروبات کے لئے مشہور ہے اور ان کی طلب بھی کم نہیںہے، خاص طور پر جب خاص مواقع ہوں تو طلب پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پولیس نے چھاپہ مار کر ایک مشہور برانڈ کی نقلی بوتلوں کی بھاری کھیپ برآمد کی، تاہم چھاپہ مارتے ہوئے روایتی تہذیب کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا(کہ ہر کام کے کچھ اصول ہوتے ہیں) اور بوتلیں تو برآمد کر لیں ،مگر مقامی ”ڈان“ کو بچ نکلنے کا موقع دے دیا۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر پر نظر رکھنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیںہے کہ دیکھا جائے سکاچ بوتل کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگیا ہے۔ مسٹر رحمان ملک کے 2008ءکے انتخابات کے بعد داخلی امور سنبھالتے وقت سکاچ بوتل کی قیمت اسلام آباد میں تقریباً 2600 روپے تھی ، اب یہ 4000 سے بھی زیادہ کی فروخت ہورہی ہے۔ اعلیٰ کوالٹی کے برانڈ(اور ان کی آڑ میں نقلی بھی) اٹھ سے نو ہزار تک کے فروخت ہورہے ہیں۔ اب پی پی پی خود کو ایک سیکولر پارٹی کہتی ہے ،مگر اس پردہ پوشی میں یہ فروخت عام پاکستانی کو بہت مہنگی پڑتی ہے۔ کیا سماجی انصاف اور مساوات کے یہی تقاضے ہیں ؟ستر کی دھائی میں تو پچاس روپے بھی بہت تھے کہ آپ اپنی مرضی کی خرید سکتے تھے، کھا پی سکتے تھے اور لاہور کے ثقافتی علاقوںمیں، یہی کچھ شاہی قلعے کے آس پاس والے، لطف اندوز بھی ہو سکتے تھے۔ اگر بھٹو صاحب کے خلاف چلنے والی تحریک نہ ہوتی تو شاید وہ خوشیاں تادیر رہتیں، بلکہ ترقی کرتیں ۔ اب اس سرزمین پر خوشیاں منانے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو آپ پراپرٹی بزنس کرتے ہوں یا پھر ٹی وی کے اینکر ہوں، جس طرح انصاف سب کا حق ہے، مگر پاکستان میں مہنگے وکلاءکے بغیر آپ انصاف حاصل نہیںکر سکتے ہیں کوئی بھی مہنگا سا وکیل کر لیں اور کئی لاکھ دے کر انصاف کا مقدس پتھر چوم لیں، اسی طرح اس سرزمین پر خوشی منانا صرف بھاری جیب والوں کا ہی حق ہے۔ اگر جیب خالی ہے تو خالی ارمان لئے بیٹھے رہیں۔ جہاں تک دنیا کے قدیم ترین پیشے کا تعلق ہے تو آج اس کا ذکر رہنے دیں۔

اب تعطیلات قریب ہیں اور ان کو رائیگاں نہیںجانا چاہیے ،مگر جو صاحب ِ حیثیت لوگ ہیں،وہ تو ان کے لئے تیار ہیں اور جو اس کی استعاعت نہیں رکھتے ان کے لئے ٹی وی چینل ہی رہ گئے ہیں۔ آہ پاکستان میں کسی مقدس موقع پر یا قومی دن پر ٹی وی چینلوں سے زیادہ خوفناک کوئی چیز نہیںہوتی ہے۔ وہ بھائی چارہ یا عالمی سوچ پیدا کرنے کی بجائے ایسے جذبات کوابھارتے ہیںکہ جی چاہتا ہے کہ انسان شمشیر ِ برہنہ تھام کر اسپ ِ تازی پر سوار ہو کر لامتناہی جہاد کے لئے نکل کھڑا ہو۔ شکستہ دل اور کبیدہ خاطر رہنے والے افراد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لئے بھی کچھ عرض کئے دیتا ہوں۔ بہت عرصہ پہلے مَیںنے فرانسیسی ناول نگار الیگزینڈر ڈامس کا مشہور ناول ....The Count of Monte Cristo .... پڑھا تھا۔ گرشتہ رات مَیںنے اسے پھر پڑھنا شروع کیا اور صبح چار بجے تک پڑھ لیا۔ عزیز قارئین، اگر آپ اسے پڑھ سکتے ہیں تو یقین کریں، عید کی تعطیلات میںاس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ایک اور کتاب جو میرے دل کے تاروںکو چھو لیتی ہے وہ....Les Miserables.... ہے۔ ایک بات اور میری عمر کے افراد نے جوانی میں....Irma La Douce.... دیکھی ہوگی۔ مَیںنے یہ اس وقت دیکھی تھی جب مَیں لارنس کالج میںتھا۔چند روز پہلے مَیںنے اسے پھر دیکھا۔ کیا زبردست فلم ہے۔ اس میں جیک لی مون بھی شاندار ہے ،مگر شرلی میکلن کی کیا بات ہے۔ عید پر دیکھنے کے لئے یہ بھی اچھی فلم ہے۔ اس کو ڈاﺅن لوڈ کرنا بھی آسان ہے۔

امریکی اداکارسین کونری ....Sean Connery.... نے اے ایف آئی ایوارڈ وصول کیا اور ....Pierce Brosnan ....نے اسے سلیوٹ کیا۔ اگر آپ سٹائل دیکھنا چاہتے ہیںتو اس منظر کی ریکارڈنگ دیکھیں۔ سین کونری نے ایک غریب گھرانے میں جنم لیا۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے اس نے اپنی تقریر میںکہا کہ جب وہ پانچ سال تھا تو اس کی زندگی میںایک خو ش قسمت تبدیلی آئی۔ مَیںنے دھڑکتے دل کے ساتھ سانس روک لیا کہ وہ کیا تبدیلی ہوسکتی ہے، جو ایک معمولی بچے کو شہرت کی بلندیوںتک لے کر جا سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا جب اُس نے پڑھنا سیکھا تھا۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

مزید :

کالم -