افطاریاں

افطاریاں

  

یہ پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی طرف سے دیا گیا افطار ڈنر گویا میڈیا کے دانشوروں کا ایک چھوٹا سا میلہ تھامیرا خیال تھا کہ اس موقعے پرہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یونیورسٹیوں کی گرانٹس میں کٹوتی کے ایشو پر کچھ بات ہو سکے گی کہ مجاہدکامران پنجاب کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں مگر یہ افطار ڈنر محض افطار او رڈنر تک ہی محدود رہا اور اگر کوئی چیز زیربحث بھی رہیتو وہ سیاست کے مرغوں کی لڑائی تھی، یہ لڑائی ٹی وی سکرین کے پیچھے تھی مگر اس افطاری کے بعد ایک ایسی افطاری میں بھی شرکت ہو گئی جس میں میڈیا کے پہلوان ، فائےو سٹا رہوٹل کے وسیع و عریض ہال میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے آپس میں دست و گریباں ہو گئے ۔جامعہ پنجاب میں ہونے والے افطاری کے دوران جاوید اقبال کے پروگرام میں انعام اللہ نیازی اورشکیل اعوان کی لڑائی سب نے مل کر دیکھی، جاوید اقبال نے پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں موجود لوگوں میں اس کی ”ہائیپ“ پیدا کر دی تھی۔ شکیل اعوان نے جاوید ہاشمی پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا تو انعام اللہ نیازی برہم ہو گئے حالانکہ جھوٹ سو فیصد پارلیمانی لفظ ہے۔ شکیل نیازی کو ان کی اوقات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتے رہے ہیں ۔ انعام اللہ نیازی جذباتی بھی ہیں اور بہادر بھی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں منظور وٹو کی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب اسمبلی کے ایوان میں انعام اللہ نیازی اور باشی خان جیسے بہادر وں پر اپوزیشن چل رہی تھی، یہی وہ ارکان تھے جنہوں نے ایوان کے اندر لگے ہوئے مائیکوں پر چھوٹے چھوٹے لوٹے لٹکا دئیے تھے مگر پہلے باشی خان جوئے خانے چلانے کی شہرت پر مسلم لیگ نون سے فارغ ہوئے اور بعد میں انعام اللہ نیازی بھی نظرانداز کئے جانے کا شکوہ کرتے ہوئے پارٹی سے رخصت ہو گئے، اب وہ اسی طرح جاوید ہاشمی اور عمران خان کا دفاع کرتے ہیں جس طرح نواز شریف کی لڑائی لڑا کرتے تھے۔

ایک ورکنگ جرنلسٹ ایثار رانا نے پنجاب یونیورسٹی میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ ایسی ملاقاتوں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں گے جن میں دہن سے پہلے ذہن کی تواضع ہو۔ خاص طو ر پر رائے عامہ تشکیل دینے والوںکو تفصیل سے بتانے کی ضرورت ہے کہ ایک آمر کے دور میں یونیورسٹیوں کو کھلے دل سے فنڈز دئیے جا رہے تھے جوجمہوری حکمرانوں نے روک لئے ہیں، ڈاکٹر مجاہد کامران نے ایک ملاقات میں میرے اس تاثر کی تصدیق کی کہ فنڈز کی کٹوتی کا عمل وفاقی حکومت نے اس وقت شروع کیا جب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جعلی ڈگری رکھنے والے ارکان کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس اربوں روپے موجود ہیں مگر جان بوجھ کر یہ جامعات کونہیں دئیے جا رہے جس سے یہی لگتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں نہیں ہے، انہوں نے درست کہا کہ یہ یونیورسٹیاں کسی آصف علی زرداری یا کسی شہباز شریف کی نہیں، پوری قوم کی ہیں ۔ یہ افسوسناک ا طلاعات بھی ہیں کہ بعض جامعات تو اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی قرضے لے رہی ہیں کیونکہ پچھلے دو بجٹوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تو بڑھا دی گئیں مگر یونیورسٹیوں کو اضافی تنخواہوں کے لئے اضافی فنڈز دینے کی بجائے دستیاب بھی جاری نہیں کئے گئے۔ فنڈز کی اس ظالمانہ اور غیر دانشمندانہ کٹوتی سے تحقیقی اور ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ وہ طالب علم بھی متاثر ہو رہے ہیں جو سرکاری خرچ پربیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنماخورشید محمود قصوری کی دعوت افطار میں بھی میرا سوا ل تو یہی تھا کہ عمران خان نے جس حد تک لوگوں کی امیدیں بڑھا دی ہیں ، مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہو بھی گئے تو سول و ملٹری بیوروکریسی میں حقیقی اقتدار کی خواہش، عدلیہ اور خاص طور پر ماتحت عدلیہ سے عوام کی شکایات، لوگوں میں ٹیکس نہ دینے کے کلچر اور معاشرے میں جواز حاصل کرتی ہوئی کرپشن جیسی برائیوں کی اصلاح کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہو گا۔ وہ الیکشن جیت بھی گئے تو اس سسٹم کے ہاتھوں ہار جائیں گے۔ خورشیدمحمود قصوری کاکہنا تھا کہ ان کی جماعت میں نعروں نہیں بلکہ پالیسیوں پر بہت ہی سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے اور اگر وہ کہتے ہیں کہ نوے روز کے اندر کرپشن کا خاتمہ کردیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد ایسے لوگوں کو ذمہ داریاں دے گی جو کرپٹ نہیں ہوں گے اور جب کسی ادارے کا سربراہ کرپٹ نہیں ہو گا تو نیچے بھی کسی کی جرات نہیں ہو گی کہ وہ کرپشن کر سکے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات اسے کمزور کر دیں گے ، جو عہدوں سے محروم رہیں گے وہ پارٹی چھوڑ جائیں گے تو ان کا جواب تھا کہ ایسے تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس کو انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملے گا وہ بھی پارٹی چھوڑ جائے گالہذا اس ڈرسے پارٹی انتخابات کو نہیں روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے ایک بات پر یقین کا اظہار کیا کہ عمران خان اگر اقتدار میں آتے ہیں تو وہ تعلیم کے بجٹ میں ضرور اضافہ کر دیں گے چاہے اس کے لئے کہیں بھی کٹوتی کرنی پڑے ۔

 ایک ایسی دعوت افطار کا بھی ذکر کرنا ہے کہ جہاں میں نہیں جا سکا۔ یہ دعوت ڈاکٹر خزیمہ اور ڈاکٹر ناصر عباس کی طرف سے چلڈرن ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے تھی ۔ وہاں تو لڑائی نہیں ہوئی مگر اب ڈاکٹر اپنے سروس سٹرکچر کے لئے لڑنے پر تیار ہو رہے ہیں جس کا میں تفصیل کے ساتھ پہلے بھی ذکر کر چکا ہوںمگر یہاں ڈاکٹروں پر قتل عمد کی ایف آئی آر کا ذکر کرنا ہے جس کو اب حکومت وائے ڈی اے پر دباو¿ بڑھانے کے لئے واپس نہیں لے رہی۔تمام تربیانات ہوجانے ، رپورٹس آجانے کے باوجود مقامی پولیس عدالت میں موقف اختیار کرتی ہے کہ تفیش نامکمل ہے۔ ا س مقدمہ قتل میں ڈاکٹر سلمان کاظمی جیسا شریف النفس ڈاکٹر بھی نامزد کیا گیا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سروس سٹرکچر پر مذاکرات کرتے ہوئے پیکج کو حتمی شکل دے نہ کہ اس پر سیاست کی جائے ، جب یہ الفاظ لکھے جا رہے ہیں تو اطلاع کے مطابق محکمہ صحت میں وائے ڈی اے اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، اللہ کرے کہ عید کے بعد ڈاکٹروں کی طرف سے احتجاج اورسڑکیں بلاک کرنے کی نوبت نہ آئے۔ چلڈرن ہسپتال کی دعوت افطار میں اس وجہ سے شرکت نہیں ہوسکی کہ مجھے چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کی دعوت افطار میں جانا تھا۔ وہاں مرکزی میز پر چئیرمین پی سی بی اپنے کھلاڑیوں کی گرومنگ کی بات کر رہے تھے کہ بہت زیادہ پسماندہ پس منظر کے ساتھ آنے والوں کو عزت اور شہرت کے ساتھ بے پناہ دولت ملنے سے کیا مسائل اور ایشوز پیدا ہوجاتے ہیں جو بیرون ملک پاکستان کی شناخت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ بحث تھی جس میں شاعر

AFTARIYAAاور کالم نگار امجد اسلام امجد بھی اپنی تجاویز پیش کر رہے تھے ۔ اس میز پربالترتیب تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود ، واصف ناگی ، ذکا اشرف ، حسن نثار، امجد اسلام امجد، راقم الحروف ، خواجہ فرخ سعید اوردو مزید صاحبان براجمان تھے ۔ اس میز سے ہٹ کر بھی اعزاز چیمہ ، محمد سمیع ، اسد شفیق، جنید خان ، انور علی موجود تھے ، پی سی بی کے میڈیا مینیجر ندیم سرور اور صبوحی جمشید بہت خوبصورتی کے ساتھ اس پروقار افطار ڈنر کو مینج کر رہے تھے کہ وہ ہو گیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دو سینئر ترین صحافی آپس میں گالم گلوچ کے بعد ہاتھاپائی پر اتر آئے ۔ ہم دوسروں کو معاملات صبر، حکمت اور دانش کے ساتھ حل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن اگر ہماری گفتگو ہی غلیظ ترین گالیوں اور غیر موجود لوگوں اوراداروںکے لئے تحقیر پر مبنی ہو گی تو دوسرے لوگ ہمارے اخلاقی معیار کے بارے میں کیا سوچیں گے ۔ یہ ستائیسویں کی شب شروع ہونے کے بعد رونما ہونے والا ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ تھا ۔ کہتے ہیں کہ روزے میں انسان چڑچڑا ہوجاتا ہے اور ہر کسی سے لڑنے لگتا ہے مگر جب یہ واقعہ ہوا تو افطاری کے بعدایک بھرپور ڈنر بھی ہو چکا تھا۔دعا تو صرف اتنی ہے کہ اللہ نے جن کو اونچی دکان دی ہے، ان کے پکوان بھی میٹھے کر دے ۔

مزید :

کالم -