ٹریک ٹوڈپلومیسی ناکامی سے دوچار

ٹریک ٹوڈپلومیسی ناکامی سے دوچار
ٹریک ٹوڈپلومیسی ناکامی سے دوچار

  



                                                            بھارت میں حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاکستان کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات نے حکمران اتحاد یونائیٹڈ پروگرسیو الائنس میں کلیدی حیثیت کی حامل انڈین نیشنل کانگریس کو بھی مجبور کردیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ دنوں میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات میں بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کر سکے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی 6جولائی 2013ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نوازشریف ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔اخبار کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان اعزاز احمد کی جولائی کے پہلے ہفتے میں ہونے والی پریس بریفنگ میں اس بات کا اعلان کیا گیاکہ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان اس حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔بہت سے بھارتی اور پاکستانی تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم محمد نوازشریف دونوں ہمسایوں کے درمیان بہتر تعلقات کے حوالے سے کافی پرجوش ہیں اور ان کا یہ جذبہ خیرسگالی بھارت کی جانب سے پاکستان پر اپنے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کا الزام عائد کرنے کے بعد بھی برقرار ہے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے 8اگست 2013ءکو جاری کی گئی پریس ریلیزکے مطابق پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو اس حوالے سے موثر اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو بحال رکھاجا سکے۔نوازشریف کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ وہ ستمبر میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے متمنی ہیں، تاکہ ان کے ساتھ باہمی تعلقات میں بڑھوتری کے لئے کسی لائحہ عمل کا آغاز کر سکیں، لیکن دوسری جانب بھارتی فوجیوں کی مبینہ ہلاکت کے بعد بھارت کی اعلیٰ ترین عسکری و سول قیادت کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ، اس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بھارتی اخبار دی اکنامک ٹائمز (The Economic Times) کے مطابق پاکستانی قیادت اس بات کے لئے رضامند دکھائی دے رہی تھی کہ مذاکراتی عمل کا جلد از جلد آغاز کیا جائے۔اخبار کی 2اگست 2013ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان وولر بیراج اور سرکریک کے تنازع پر گفت و شنید کے لئے تاریخیں دینے پر رضامند ہوگیا ہے۔اخبار نے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد کے حوالے سے بتایا کہ وہ معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا جلد آغاز ہونے والا ہے۔لیکن بھارت کی حکمران جماعت انڈین نیشنل کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہونے والے پاکستان مخالف مظاہروں سے خوفزدہ ہوگئی اور اس نے بھی اسی حوالے سے سخت موقف اپنانے کا فیصلہ کیا۔

7اگست 2013ءکو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرسادنے حکمران جماعت کانگریس پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔پرساد نے بھارتی وزیردفاع اے کے انتھونی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ (انتھونی) سارے معاملے سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہیں۔روی شنکر پرساد کے اس بیان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت نے پاکستان کے خلاف بیانات کا محاذ کھول دیا، جس کے بعد کانگرسی رہنماﺅں نے بھی جارحانہ انداز اپنا لیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر ترین رہنما لال کرشن ایڈوانی کے اس بیان کے بعد کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کی جس خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔اس کے بعد اس سے مذاکرات کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ڈاکٹر من موہن سنگھ نے فوری طور پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور اس کے بعد انڈین نیشنل کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے دفتر کے باہر زبردست احتجاج کیا، لیکن بی جے پی کی اس سے بھی تشفی نہ ہوئی اور اس کے کارکن مسلسل احتجاج کرتے رہے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

بہت سے دفاعی تجزیہ کار اس خیال سے متفق ہیں کہ بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرا مودی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت انڈین نیشنل کانگریس کوخوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ 2001ءسے مسلسل گجرات کی وزارت اعلیٰ پر براجمان نریندر مودی کے حوالے سے یہ بات اب یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ 85سالہ لال کرشن ایڈوانی کی جگہ لیکر وہ نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے ۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے 16اگست 2013ءکو شائع ہونے والی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت میں من موہن سنگھ کا مقابلہ کرنے کے لئے نریندرا مودی میدان میں اتر چکے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے آمدہ سال ہونے والے انتخابات کے لئے نریندرا مودی کو انتخابی مہم کا سربراہ مقرر کیا ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر تقریر کرتے ہوئے نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ من موہن سنگھ کی غیر متاثر کن پرفارمنس اور پڑوسی کے حوالے سے انتہائی نرم موقف نے بھارت کو بہت سی مشکلات سے دوچار کردیا ہے،جس سے نجات اسی صورت ممکن ہے ،جب بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار کے حصول میں کامیاب ہوگی۔

اگرچہ 1999ءمیں بھارت میں بی جے پی کی حکومت تھی، لیکن اس کے باوجود پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان مدعو کیا اور وہ دوستی بس میں سفر کرکے پاکستان آئے اور مینار پاکستان پر چل کر گئے، لیکن آج بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی بدولت دونوں ملکوں کے تعلقات ایک بار پھر تناو¿ کا شکار ہیں اور ٹریفک ٹوڈپلومیسی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ ٭

مزید : کالم