پختونوں نے آزادی مارچ مسترد کر دیا

پختونوں نے آزادی مارچ مسترد کر دیا
 پختونوں نے آزادی مارچ مسترد کر دیا
کیپشن:   1 سورس:   

  


خیبر پختونخوا گزشتہ دو روز سے شدید بارشوں کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جس کے بعد تقریبا سو سے زائد گھر صوبائی دارلحکومت پشاور میں زمین بوس ہو چکے ہیں، جبکہ 20سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں درجنوں افراد زخمی ہیں۔ اس صورت حال میں پشاور اور گردو نواح کے باسیوں کو پہلی بار یہ احساس ہوا ہے کہ انہوں نے جن لوگوں کو 2013ء کے انتخابات میں کامیاب کرا کے مسند اقتدار پر بٹھا دیا ہے، دراصل وہ ان کے نمائندے نہیں، بلکہ بنی گالا سے براہ راست حکومت چلا کر اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، آزادی مارچ میں سرکاری وسائل کے استعمال کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوااور ان کی کابینہ کے اراکین اور پشاور سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی، شاہ فرمان، اشتیاق ارمڑ، فضل الٰہی ، عارف یوسف سمیت دیگر کو اتنی فرصت بھی نہ ملی کہ وہ دو گھنٹے کا سفر طے کر کے پشاور پہنچ جاتے اور لوگوں کے حوصلے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سرکاری مشینری کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کر کے بارش کے متاثرین کی امداد کرتے ۔

وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے اراکین عمران خان ، جہانگیر ترین کچھ کرنے کے لئے اسلام آباد میں بھنگڑے ڈال رہے ہیں-سینئر تجزیہ نگارو صحافی محمد قاسم کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور ان کے ساتھی حق حکمرانی کھو چکے ہیں اور انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ حکومت عوام کی فلاح کے لئے ہوتی ہے پشاور میں گزشتہ تین دنوں سے بجلی غائب ہے لوگوں کے گھر گر چکے ہیں۔ زخمیوں سے ہسپتال بھرے ہیں اور ان کا کوئی پُرسان حال نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی اپنی حکومت کا حال یہ ہے کہ سابق پارلیمانی لیڈر اور تحریک انصاف کے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی متاثرین کی دیکھ بھال پر مامور ہیں، حالانکہ وہ آزاد الیکشن لڑ کر آئے ہیں،ان کا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، محمد قاسم کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بارش کے متاثرین کی مدد نہ کرنے کے بعد10ہزار سے زائد مظاہرین واپس پشاور پہنچ گئے اور خیبر پختونخوا سے شرکت کرنے والے مظاہرین کی تعداد 20ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ان میں اکثریت واپس آرہی ہے ۔

تحریک انصاف کو لاکھوں لوگوں نے ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا، مگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی گڈ گورننس اور تبدیلی کے نعرے بارش کے چند قطروں کی نذر ہو گئے ہیں۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)جے یو آئی (ف)جماعت اسلامی ، اے این پی، پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے پرویز خٹک کے اسلام آباد میں بھنگڑے ڈالنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی کے قائدین نے کہا ہے کہ اگر بنی گالا کو خوش کرنے کے لئے ناچنے میں تبدیلی ہے، تو خیبر پختونخوا کے عوام کو اس تبدیلی کی اب کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ اصل مارچ اب پرویز خٹک کے خلاف ہونا چاہئے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کو بے یار و مددر گار چھوڑ دیا ہے اور لاہور فتح کرنے کے لئے وہ اسلام آباد میں بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔

اگر عمران خان صوبائی حکومت نہیں چلا سکتے تو حکومت کو چھوڑ دیں، لیکن وزیراعظم نہ بننے کی سزا غریب پختونوں کو نہ دیں کیونکہ غیور پختونوں نے انہیں مسند اقتدار تک پہنچا دیا اور انہیں پشاور سے کامیاب کرایا تھا ۔انہوں نے بے وفائی کر کے پشاور کے باسیوں کو چھوڑ دیا اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 1سے مستعفی ہو گئے ، اب بارش سے متاثر ہونے والے لوگوں کو بے یار و مددر گار چھوڑ کر انہیں آزادی مارچ میں شرکت نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ پختونوں نے عمران خان کو ان کے حالات تبدیل کرنے کے لئے ووٹ دیا تھا نہ کہ محمد نواز شریف کی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئے،کیونکہ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے کے باوجود عمران خان کی حکومت تبدیلی لانے میں ناکام رہی، جس پر پختونوں نے ان کے آزادی مارچ کو مسترد کر دیا اور اب وہ مصیبت کے وقت میں پختونوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر آزادی مارچ کی ناکامی کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔

مزید :

کالم -