جدوجہد ”قیام پاکستان“ اور علماءکا کردار

جدوجہد ”قیام پاکستان“ اور علماءکا کردار
 جدوجہد ”قیام پاکستان“ اور علماءکا کردار
کیپشن:   1 سورس:   

  

 دارالعلوم دیو بند برصغیر کے مسلمانوں کی ایک عظیم اور قدیم ترین دینی درس گاہ ہے۔ نہ صرف برصغیر پاک و ہند، بلکہ عالم عرب میں بھی اسے ایک ممتاز مقام دیا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کے چند علماءنے ترویج دین کے لئے بے بہا قربانیاں دیں اور بڑے بڑے جید علماءاس درس گاہ سے فیض یاب بھی ہوئے، بلکہ انہوں نے عالم اسلام میں قرآن پاک اور حدیث مبارکہ کی تعلیمات کو بڑے مو¿ثر انداز میں پیش کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ عالم عرب میں جو حیثیت ”جامعہ الازھر “ کو حاصل ہے، وہی مقام برصغیر پاک وہند میں دارالعلوم دیو بند کو حاصل ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا ۔

علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا، یعنی مسلمان سالہا سال سے ہندوﺅں کے ساتھ ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی شیروشکر اس لئے نہیں ہوسکے کہ دونوں میں بعد المشرقین ہے۔ معاشرت ، ثقافت ، وراثت کچھ بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا.... اس لئے برصغیر کے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ وطن بنایا جائے، جس کا نام بعد میں پاکستان تجویز کیا گیا۔ اس دور میں دارالعلوم دیو بند کے مہتمم اعلیٰ مولانا حسین احمد مدنی نے (ان کے مذہبی مرتبے اور دین کے لئے ان کی خدمات کا ہرایک معترف ہے ) اس کی ضدمیں ” نظریہ وطنیت “ پیش کیا۔ ان کے خیال میں ہندوستان کی تقسیم مسلمانان ہند کو فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچائے گی اور ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ یہ مخالفت یہاں تک بڑھی کہ مخالفت برائے مخالفت کے تحت کبھی علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کو داڑھی منڈھا، ولایت پلٹ کہا گیا اور کبھی اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ اور انگریزی بودوباش والا کہا گیا۔ بات یہاں تک بڑھی ....کہ انہیں مسلمانان ہند میں تفرقہ ڈالنے والا کہہ کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گیا ،یعنی ان کے خلاف لادینیت کا فتویٰ دے دیا گیا۔ ان کے پیروکار آج تک اس نظریے کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ ایک پتہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا اور پاکستان 68سال سے ایک ٹھوس حقیقت کے روپ میں دنیا کے نقشے پر موجود ایک ساتویں بڑی ایٹمی مملکت ہے ،پھر بھی کچھ عرصہ پہلے مولانا مدنی کے پوتے انڈیا سے تشریف لائے اور قیام پاکستان اور دو قومی نظریے کے خلاف زہر افشانی کرکے گئے۔ یہ ہے وہ صورت حال جس کی بنیاد پر عوام الناس کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ برصغیر پاک وہند کے تمام علمائے کرام نے نظریہ ¿ پاکستان ، علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کی مخالفت کی تھی۔

تصویر کا دوسرا رُخ کچھ یوں ہے : مولانا شرف علی تھانوی کے نام سے کون واقف نہیں، ان کے پیروکاروں کا گروہ ”تھانوی مکتب فکر“ کہلاتا ہے جو دراصل ”فکر شاہ ولی اللہ “ کے حقیقی امین ہیں۔ مولانا تھانوی خالصتاً ایک دینی اور علمی شخصیت تھے، انہوں نے عملی سیاست میں کبھی کوئی حصہ نہ لیا ....روایت ہے کہ ایک خواب کے بارے میں بتایا کہ ”رسول اللہ “ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے فرمایا محمد علی جناح ؒ کو اللہ تعالیٰ نے ایک معجزے کے لئے منتخب کرلیا ہے، اس لئے یہ نہ دیکھنا کہ ولایت پلٹ ہے ....نہ اس پر توجہ دینا کہ انگریزی بودوباش کا مالک ہے .... تم اور تمہارے رفقاءاس کی دینی تربیت کا بندوبست کرو اور انہیں دین کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرو، چنانچہ 1938ءمیں مسلم لیگ کے اجلاس جو کہ پٹنہ (بھارت) کے مقام پر منعقد ہوا، حضرت تھانوی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ اور قائداعظم ؒ ہی مسلمانان ہند کے حقوق کا بہتر انداز میں تحفظ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کے سربراہوں کی دینی، فکری اور مذہبی اصلاح کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔

اس اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہت اہم تبلیغی وفد مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر علی تھانوی اور مولانا عبدالکریم گھتلوی پر مشتمل پٹنہ روانہ کیا، جس نے قائداعظمؒ اور ان کے رفقاءسے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور انہیں دین کو اسلامی سیاست میں داخل کرنے پر قائل کیا، چنانچہ پہلی بار مسلم لیگ کے اجلاسوں میں نمازوں کے اوقات میں ”باجماعت نماز“ کا آغاز ہوا اور قائداعظم ؒ نے قاضی شہر کی امامت میں نماز ادا کی۔ مولانا تھانوی کے رفقاءکی طرف سے مسلم لیگی رہنما کی دینی وفکری اصلاح و تربیت کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا اور حضرت تھانوی ازخود دہلی جاکر قائداعظم ؒ سے خصوصی ملاقاتوں میں انہیں دین کی طرف راغب کرنے کی بارآور کوششیں کرتے رہے۔ قائداعظمؒ نے اپنے پی اے کو یہ ہدایت کررکھی تھی کہ ان علماءحضرات سے میٹنگ شروع ہونے کا وقت مقرر کرلیں، لیکن میٹنگ کے اختتام کا کوئی ٹائم مقرر نہ کریں، جبکہ قائداعظم کی یہ عادت تھی کہ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے اگر ایک گھنٹے کی میٹنگ طے ہے، تو 50منٹ بعد قائداعظمؒ اپنی کلائی کی گھڑی پر ٹائم دیکھتے اور لارڈ ماﺅنٹ بیٹن اپنی گزارشات کو مختصر کرکے وقت مقررہ پر میٹنگ کا اختتام کردیتے۔ یہ قائداعظم کی علماءکے اس گروہ سے الفت یا دین کی سمجھ بوجھ کی طلب کی ایک روشن مثال ہے۔

جولائی 1943ءمیں مولانا تھانوی اپنے خالق حقیقی سے جاملے، لیکن ضلع مظفر نگر کے ایک ضمنی انتخاب 1937ءسے لے کر 1943ءتک کے برسوں میں وہ اپنے رفقاءمسلم لیگ کے اعلیٰ زعماءکے درمیان باہم ربط وہم آہنگی کا ایک ایسا تال میل قائم کر گئے، جس نے آنے والے دنوں میں تحریک پاکستان کو دینی اور مذہبی رنگ دے کر مسلمانان ہند کے ہر دل کی آواز بنا دیا ....ذرا خود غور کریں جب تک مسلمان علماءکا ایک بہت بڑا گروہ ایک طرف اور ایک چھوٹی سی خانقاہ کے ایک ولی کامل اور ان کے رفقاءکی ایک مختصر سی جماعت دوسری طرف اس ضمن میں قائداعظم ؒ سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ علماءکی ایک بڑی اکثریت تو کانگریس کے ساتھ ہے، پھر مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کیسے ہوئی؟ قائداعظم ؒ نے اس کے جواب میں ایک تاریخی جملہ کہا: ”سارے کانگریسی علماءایک پلڑے میں رکھ دیں، میرے پاس ایک ایسا ولی کامل ہے کہ اگر انہیں دوسرے پلڑے میں رکھیں تو وہ اکیلا ان سب پر بھاری ہے اور پلڑا مولانا تھانوی کی طرف ہی جھکے گا“۔

اس ضمن میں اگر جماعت اسلامی کی پالیسی کا ذکر نہ کیا جائے تو مضمون تشنہ رہ جائے گا ....یہ 1940ءکا زمانہ ہے، مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے قائداعظمؒ سے ایک طویل ملاقات کی۔ جماعت اسلامی کی ہیتِ ترکیبی، تنظیم، اغراض ومقاصد اور تحریک پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات سے قائد کو آگاہ کیا۔ قائد بڑے انہماک سے مولانا کی گزارشات کو سنتے رہے ....جب وقت ملاقات ختم ہوا جارہا تھا تو قائد نے فرمایا:” مولانا آپ کی فکر سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ ایک اسلامی اور صالح معاشرے کے ہند میں قیام کے لئے آپ اپنی جدوجہد جاری رکھیں ۔ مجھے تحریک پاکستان کے لئے اپنی کوششیں کرنے دیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ 1940ءکا واقعہ ہے قرارداد لاہور سے پہلے کا ....قائداعظم ؒنے نہ صرف سات سال کی مختصر مدت میں انہونی کو ہونی کردکھایا۔ ایک ہزار میل (1500کلومیٹر) کے فاصلے پر 2الگ الگ صوبوں (مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان) پر مشتمل ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی بنیاد رکھ دی (جو 23 یا 24 سال تک اکٹھے رہے )....جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان آج تک ایک صالح معاشرے کے قیام کے لئے سرگرداں ہے۔

1943ءمیں مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا راغب احسن اور مولانا ظفر احمد انصاری کی بارآور کوششوں سے آخر اکتوبر میں خلافت پارک کلکتہ میں ”جمعیت علما ئے اسلام “ کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس تین روز تک جاری رہا۔ برصغیر پاک وہند کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے پانچ سو سے زائد اکابر علمائے کرام نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ مولانا ظفراحمد عثمانی کی تجویز پر شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کا نام جمعیت کی صدارت کے لئے پیش کیا گیا۔ (یادرہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اس وقت دیو بند میں تھے ).... اس لئے یہ ذمہ داری بھی مولانا ظفر احمد عثمانی کو سونپی گئی کہ وہ اس کی منظوری ان سے بہ نفس نفیس دیو بند سے جاکر حاصل کریں۔ مسلم لیگ اگرچہ 1906ءمیں ڈھاکہ میں قائم ہوئی تھی، لیکن یہ خالصتاً ایک سیاسی جماعت تھی، جو کانگریس کے مقابل مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔ اپنے سیکولر تشخص کی وجہ سے کانگریس برصغیر پاک و ہند کے تمام مذاہب اور اقلیتوں کی ترجمانی کی دعویدار تھی۔ اسی مقصد کے لئے علمائے دیوبند کو اپنا ہم نوا بنا کر وہ مسلمانوں کی نمائندگی کا بھی دعویٰ کرتی تھی، لیکن قائد اعظمؒ نے کانگریس میں ابتدا میں شرکت کرکے ہندو لیڈروں کی تعصبانہ سوچ اور تنگ نظری کا بہت قریب سے مطالعہ کیا اور ہندو مسلم اتحاد کی بیل کو منڈھے نہ چڑھتے دیکھ کر دلبرداشتہ ہوکر واپس لندن چلے گئے ....یہ علامہ اقبال ؒ کی مسحور کن شخصیت تھی، جنہوں نے قائد کی عدم موجودگی میں نظریہ پاکستان کی صحیح معنوں میں تشریح اور وکالت کا فریضہ انجام دیا، اس دوران قائد سے بھی مسلسل رابطہ رکھا اور آخر کار ان کی یہ مساعی بارآور ثابت ہوئیں اور قائداعظم نے واپس آکر مسلم لیگ کی باگ دوڑ سنبھال لی۔

تحریک پاکستان میں جذباتی رنگ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کے پُرجوش نعرے نے بھراجوجنگل کی آگ کی طرح برصغیر پاک وہند کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جلد پھیل گیا۔ پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ کہنے والوں سے مَیں یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ اتنے ”دبنگ“ لیڈر کی موجودگی میں کیا کسی کی مجال تھی کہ ان کی مرضی کے خلاف ہرجلسے میں، ہر ریلی اور جلوس میں یہ نعرہ لگتا رہا اور قائد ؒ خاموش رہے۔ نہیں نہیں ان کے بعض فرمان اتنے بلیغ اور جامع ہیں کہ یہ صرف قائدہی کہہ سکتے تھے، ملاحظہ کریں....”اسلام دین فطرت ہے۔ اس لئے جو چیز عین فطرت ہے، وہ اسلام ہے “ ۔

ذرا سوچیں کیا دریا کو کوزے میں بند نہیں کردیا۔ پھر ان کے موٹو پر غور کریں....اتحاد ۔ تنظیم۔ عمل پیہم (یقین محکم)

تیسرے نکتے پر غور کریں ”عمل پیہم “ اسلام بھی دین عمل ہے اور بے عملی کو ناپسند کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ایک خالصتاً سیاسی جماعت تھی، جسے تیزی سے پورے ہندوستان میں اپنا پیغام پہنچانا تھا، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے اکثر زعماءدارالعلوم دیو بند، ڈابھیل اور ندوة العلماءکے فارغ التحصیل تھے اور ان کے شاگردوں کی ایک پوری کھیپ پورے برصغیر پاک وہند میں پھیلی ہوئی تھی .... اس وقت کا معاشرہ کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھا۔ جہاں چند مسلمان آباد تھے، وہاں ایک مسجد کا ہونا لازمی تھا اور گاﺅں میں مسجد کے امام کو معتبر سمجھا اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگ اپنے مسئلے مولوی صاحب سے (شیئر) کرتے تھے اور ان کی بات کو مانتے تھے، اس لئے مسلم لیگ کے پیغام کو بھارت کے کونے کونے تک پہنچانے کے لئے ”جمعیت العلمائے اسلام “ نے بہت اہم کارنامہ سرانجام دیا اور جہاں جہاں بھی مسلم لیگ کی تنظیم نہیں تھی، وہاں تک اپنے مقلدین اور معتقدین کے ذریعے ”نظریہ پاکستان “ یا دوقومی نظریے سے ہر مردوزن کو روشناس کرایا۔ 1946ءکے الیکشن میں ”جمعیت العلمائے اسلام“ نے کھل کر مسلم لیگ کی مکمل تائید کی اور اس کے نامزد کردہ نمائندوں کی برصغیر کے تمام مسلم اکثریتی اور غیراکثریتی علاقوں میں کامیابی سے ہمکنار کرایا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اپنی پیرانہ سالی کے باعث صرف سہارنپور، میرٹھ اور لاہور کے بڑے بڑے جلسوں میں شریک ہوئے، لیکن مولانا ظفر احمد عثمانی نے اپنے رفقاءکے ساتھ برصغیر کا طوفانی دورہ کیا اور ہندوستان کی رائے عامہ کو مسلم لیگ کی تائید اور حمایت میں ہموار کر دیا۔

قائداعظم کی تجویز پر مولانا ظفراحمد عثمانی کو مشرقی بنگال کی مہم کا انچارج بنایا گیا جوکہ پہلے ہی ڈھاکہ یونیورسٹی سے منسلک تھے ....آپ نے الیکشن مہم کے لئے چارماہ کی رخصت طلب کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طویل رخصت کی درخواست نامنظور کردی۔ مولانا نے جواباً رخصت کے ساتھ اپنا استعفا بھی روانہ کردیا....اس طرح رخصت منظور کرلی گئی۔ 1946ءکے الیکشن میں مسلم لیگ کوپورے انڈیا میں فقیدالمثال کامیابی حاصل ہوئی جس پر قائداعظم نے مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقاءکا شکریہ ادا کیا اور کہا یہ سب آپ کی حمایت کی بدولت ہوا۔ اس کے بعد صوبہ سرحد اور سلہٹ میں ریفرنڈم کی مہم درپیش ہوئی تو قائداعظم نے یہ مہم بھی مولانا ظفر احمد عثمانی کے سپرد کی۔ مولانا شبیراحمد عثمانی ان کے سرپرست تھے۔ اس مہم کو بھی ان دونوں بزرگوں نے مکمل جانفشانی اور پوری تندہی کے ساتھ سرکیا۔ ان حضرات کی انہی خدمات جلیلہ کے اعتراف میں قائداعظم نے قیام پاکستان کے موقع پر 14اگست 1947ءکو کراچی میں ”علامہ شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ (موجودہ، بنگلہ دیش ) میں مولانا ظفراحمد عثمانی کے ہاتھوں پاکستان کی پرچم کشائی کروائی۔

 1948ءمیں یہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کی مساعی جمیلہ تھیں کہ پاکستان کی پہلی پارلیمنٹ سے قرارداد مقاصد پاس ہوئی اور پھر ضیاءالحق کے دور میں اسے آئین پاکستان شامل کیا گیا اور اسلام کو پاکستان کے آئین کی بنیاد بنادیا گیا .... اگر یہاں ایک واقعے کا ذکر نہ کیا جائے تو قائد کی آخری زندگی کا عکس نامکمل رہ جائے گا۔ مولانا حسرت موہانی مسلم لیگ کے صف اول کے زعماءمیں شامل تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ 1948ءمیں کشمیر کے محاذ سے ایک ایسا تار موصول ہوا جو فوراً قائد کے نوٹس میں لانا ضروری تھا۔ سردیوں کے دن تھے، ساڑھے چھ بجے صبح کا وقت ....دربان نے کہا قائداعظم ؒ کا حکم ہے کہ ساڑھے سات بجے تک کسی کو اندر نہ بھیجا جائے .... مولانا بہت پریشان ہوئے اور برآمدے کے ساتھ لان میں ٹہلنے لگے، جب دربان کسی کام سے دروازے سے ہٹا تو آپ تیزی سے آگے بڑھے، کمرے کے پردے کو آہستگی سے سرکا یا دیکھا قائد جائے نماز پر بیٹھے ہیں، چہرہ آنسوﺅں سے تر ہے، قبلہ رو بیٹھے ہیں اور ہاتھ میں تسبیح ہے.... (یہ واقعہ ایک جگہ نہیں کئی جگہ مختلف حوالوں سے پیش کیا گیا ہے )

کاٹھیا واڑ گجرات کے ایک شیخ گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ شخص وصیت کرتا ہے (جب ان کے ورثاءنے اپنے انداز میں نماز جنازہ پڑھانے کی استدعا کی ) کہ میری نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی پڑھائیں گے۔ یہ سب باتیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ اپنی عمر کے آخری ایام میں ہی نہیں، بلکہ ان جید علماءکی کاوشوں اور خدائے بزرگ وبرتر کی توفیق سے تحریک پاکستان کے ابتدائی ایام سے ہی قائد کی زندگی پر اسلام کا رنگ غالب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ جو بتدریج بڑھتا گیا۔ مسلم لیگ کا ہر اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوتا تھا اور نمازوں کے اوقات میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا تھا .... قائداعظم نے قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں ہی ان علماءحضرات کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ہر بڑے شہر کی جامع مسجد سنبھال لیں، ورنہ ان پر کانگریسی خیالات کے حامل علماءقابض ہو جائیں گے اور یہی ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد رحلت فرما گئے اور مولانا ظفر احمد عثمانی نے حیدر آباد کے ایک دور افتادہ اور غیرآباد علاقے میں ”دارالعلوم اسلامیہ “ کی بنیاد رکھی ۔ اپنے آخری ایام تک ٹنڈوالہیار میں سکونت اختیار کی اور 1969ءتک گوشہ نشینی کی زندگی گزاری۔

1969ءمیں 21علماءنے سوشلزم کو غیراسلامی قرار دیا، پھر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جب عوامی لیگ کے غنڈوں نے ”جماعت اسلامی“ کے جلسے کو تہہ وبالا کیا اور علماءکی داڑھیاں تک نوچیں تو مولانا اس وقت ڈھاکہ میں اپنی سب سے چھوٹی دختر کے گھر قیام پذیر تھے۔ وہیں ”نظام اسلام پارٹی “ایسٹ پاکستان کو ضم کر کے ”مرکزی جمعیت العلمائے اسلام “ کا احیاءکیا گیا اور اس کے مرکزی قائد ہونے کے ناطے پورے پاکستان کا طوفانی دورہ کیا۔ مقصد اس تفصیل کو بیان کرنے کا یہ کہ علماءکی اس جماعت نے ہراہم مرحلے پر مسلمانان پاک وہند کی درست سمت میں رہنمائی کی ....البتہ قائداعظم کی تجویز پر عمل نہ کرتے ہوئے، جو خلاءپیدا ہوا اسے ہزاروی گروپ نے پُر کیا ....بعد میں مولانا مفتی محمود اس کے قائد بنے۔ ان لوگوں کے نظریات مولانا مدنی سے متاثر تھے اور یہ اب تک ان نظریات پر ڈھٹائی سے قائم ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم نعوذ بااللہ غلط تھی، یعنی جس تھالی میں کھانا اسی میں یہ چھید کرنا۔ پاکستان الحمد للہ 67سال سے دنیا کے نقشے پر قائم ہے اور تاابد قائم ودائم رہے گا، انشاءاللہ.... (کیونکہ یہ ملک 27رمضان المبارک کی شب اسلام اور ”لاالہ اللہ “ کے نام پر قائم ہوا تھا ....لیکن نئی نسل کو تاریخ کا صحیح رخ دکھانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔آپ کی اور میری نسل کے لوگوں کا یہ اولین فرض ہے کہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے تو ”تحریک پاکستان“ کے بارے میں بارہا بڑے قصے سنے ہوں گے ۔ انہےں تحریری جامہ پہنائیں تاکہ اصلی حقائق منظر عام پر آسکیں ۔

یہاں یہ وضاحت بھی کردوں کہ اب تک بھی ان کے متعلقین نہ صرف یہ کہ درس وتدریس سے منسلک ہیں، بلکہ ”اتحاد بین المسالک“ کے حقیقی پرچارک بھی ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ اپنے مدارس میں جدید علوم کی ترویج کا کام بھی سرانجام دے رہے ہیں.... وحدت روڈ لاہور پر دارالعلوم جو مولانا اشرف علی تھانوی اور قاری احمد میاں تھانوی کے زیرانتظام قائم ہے، جہاں نہ صرف کمپیوٹر، بلکہ قانون کی جدید تعلیم بھی دی جا رہی ہے (حوالہ روزنامہ ”جنگ“ میں گزشتہ دنوں جناب الطاف حسن قریشی کا مضمون )۔ اس ضمن میں یہ وضاحت بھی کردوں۔ ہمارے لئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا یہ فرمان کہ ”اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے جو قیامت تک کے لئے پوری دنیا کی ہدایت کے لئے آیا ہے، زمانے کی ترقی کا ساتھ نہیں دے گا ....(جامد ہوجائے گا) ....تو پھر قیامت تک کیسے چلے گا.... ”تنگ نظری ایسے حالات کی طرف لے جاتی ہے جس سے ہمارا ملک آج کل دوچار ہے اور بالغ نظری پہلے تعمیر پاکستان کرواتی ہے پھر ترقی کے مراحل کرا کے ایٹمی قوت بتاتی ہے اور اگر صحیح قیادت مل جائے تو پھر ”ایشین ٹائیگر“ بنادیتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ اس مکتب فکر کے علماءو مشائخ اپنی خانقاہوں اور مدرسوں سے باہر نکلیں اور برائی کو آگے بڑھ کر روکیں اور اسلام کی صحیح تصویر امت کے سامنے پیش کریں ۔ وگرنہ :

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہی محمد عربی کا پیغام ہے اور یہ پیغام ہم اُمت مسلمہ تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

مزید :

کالم -