پاک چین فری ٹریڈ : پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

پاک چین فری ٹریڈ : پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
 پاک چین فری ٹریڈ : پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

  

عصر حاضر کے اقتصادی نظام میں دینا ایک گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں عالمی میعشتوں کے مابین فر ی ٹریڈ کے موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ماہرین کا خیا ل ہے کہ اگر اقوام عالم کے درمیان اشیا ء اور خدمات کے آزادانہ تبادلے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے تمام ممالک کو عالمی تجارتی سرگرمیوں سے یکساں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے مختلف ممالک آپسمیں فری ٹریڈ یعنی آزادانہ تجارت کے معاہدے کرنے میں مصروف ہیں۔ درحقیقت آزادانہ تجارت کے مذکورہ معاہدے دوست ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے معاہدے ہوتے ہیں جن کے تحت دوست ممالک ایک دوسری کی تجارتی منڈیوں میں اپنی برآمدات کے فروغ کو یقینی بناتے ہیں۔فری ٹریڈ ایگریمنت دو یا دو سے زائد ممالک کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت متعلقہ ممالک ٹیرف کی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے آپس میں تجارت اور سرمایہ کاری کی آزادانہ آمدو رفت کو ممکن بناتے ہیں۔ اس وقت دینا کی 60%سے زائد تجارت ایسے ہی باہمی یا علاقائی معاہدوں کے تحت ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں فی الوقت تقربیا 300 کے لگ بھگ ایسے معاہدے نافذ ہیں۔پاکستان او ر چین کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جنوبی اور مشرقی ایشیاء، ایشیاء پیسفک اور جنوبی امریکہ کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان بھی مذکورہ ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو بڑھانے میں کوشا ں ہے۔ اس ضمن میں چین پاکستان کیلئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ چین نہ صرف پاکستان کا ایک بہترین دوست اور ہمسایہ ملک ہے بلکہ عالمی سطح پر چوتھی سب سے بڑی معیشت کے طور پر بھی چین کی اہمیت کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔

پاکستان نے چین کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کے پیش نظرجولائی 2006 میں چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن عالمی تناظر میں اس وقت پاکستان اور چین باہمی تعلقات کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذاہ وقت کا تقاضہ ہے کہ اس دور سے استفادہ کرتے ہوئے چین کے ساتھ پہلے سے موجود مضبوط عسکری تعلقات کے ساتھ ساتھ معاشی تعلقات کو بھی پر جوش انداز سے فروغ دیا جائے۔اگرچہ پاکستان کی معیشت جی ڈی پی کے حوالے سے چین کے معاشی حجم سے کہیں چھوٹی ہے، لیکن پھر بھی فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بدولت پاکستان کی معیشت کیلئے لاتعداد مواقع میسر ہیں۔ پاکستان، چین کی وسیع منڈی سے استفادہ کرتے ہوئے چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں موجود خسارے کو کم کر سکتا ہے۔ بلکہ پاکستان اپنی روائتی منڈیوں کی بجائے ایک ارب نفوس پر مشمل چینی منڈی پر توجہ دیکر اپنے مجموعی تجارتی خسارے میں بھی نمایاں کمی کر سکتا ہے۔لیکن اس مقصد کیلئے پاکستان کو اپنی برآمدات کو معیاری اور متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں زیادہ سے زیادہ مسابقتی سکت بھی پیدا کرنی ہوگی۔اس ضمن میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تیز کر کے موجودہ صنعتوں کی گنجائش کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ جس سے ملک میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے جو ملکی معیشت میں بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔چین کے ساتھ طے پانے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے بھرپور استفادہ کیلئے پاکستان کو اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو تقویت دینے کی غرض سے ایک ٹھوس حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مینوفیچرنگ سیکٹر کی تنظیم نو چینی منڈی کے رجحانات کی روشنی میں کر سکیں۔اسی طرح ہمیں چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کیلئے اپنی برآمدات کو غیر روائتی اشیاء سے لیس کرنا پڑے گا۔اس مقصد کیلئے ہمیں پاکستانی معیشت کے برآمدی ڈھانچے کا دانشمندانہ تجزیہ بھی کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہئے کہ چین کے ساتھ طے شدہ فری ٹریڈ ایگریمنٹس کے تحت کون کونسی اشیاء کی برآمد پاکستا ن کیلے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ابتدائی ترقیاتی مراحل میں ہمیں نیم تیار اور مکمل تیار مصنوعات کی پیداوار کو وسعت دیکر اپنی انڈسٹریل بیس کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین اور پاکستا ن کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ تو ہو اہے مگر تجارتی توازن پاکستان کی بجائے چین کی جانب رہا ہے۔ لہٰذاہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت میں پہنچنے والا تجارتی خسارہ پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تجارتی خسارے کی بنیادی وجہ ہمارے برآمدی شعبوں کا کمزور اور غیر معیاری ہوناہے جس پر توانائی کے شدید بحران اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔اپنے برآمدی اور پیداواری شعبوں کی کمیوں کو پورا کرنے کیلئے ہمیں چین کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی اشتراک عمل کو فروغ دینا پڑے گا۔ ہم ٹیکسٹائل، ایگرو فارمنگ، فوڈ پراسیسنگ، پارماسوٹیکل اور انجنئرنگ کے شعبوں میں چین کے ساتھ منافع بخش مشترکہ منصوبے تشکیل دے سکتے ہیں۔توانائی کے شعبہ میں بھی مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور چینی سرمایہ کار کمپنیاں اس میں گہری دلچسپی بھی رکھتی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں چینی سرمایہ کاری عروج پر ہے ۔ بندر گاہوں ، سڑکوں اور ریلوے کی تعمیر کے علاوہ چینی کمپنیاں موبائل ٹیلیفون، کمیونیکشن ٹیکنالوجی، ہائیدرو اور تھرمل پاور پراجیکٹ، مائینگ، الیکٹرانک اور نیوکلیئر توانائی کے منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔اس وقت 11000 سے زائد چینی انجینئرز، فنی ماہرین اور کارکن پاکستان کی ترقی کے مختلف منصوبوں میں مصروف کار ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی تیزی سے جاری و ساری ہے۔ نیز مشترکہ سرمایہ کار ی کے حوالے سے نئے شعبوں کی نشاندہی کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پاکستان ، چین سے زیادہ تر مشینری، پرزہ جات، آئرن اور سٹیل پراڈکٹس، شوگر، کیمیائی مواد، کیمیائی عناصر اور میڈیکل و فارماسوٹیکل مصنوعات درآمد کر تا ہے۔ جبکہ پاکستان سے چین کو برآمد ہونے والی اشیا ء میں کاٹن فیبرکس، کاٹن یارن، پیٹرولیم اور پیٹرلیم کی مصنوعات، فش اور فش پراڈکٹس، لیدر، پھل اور سبزیات شامل ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان سے چین براآمد کی جانے والی اشیاء کا حجم بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر چین کو برآمد ہونے والی کل اشیاء کا 80% صرف کاٹن یارن اور فیبرک پر مشتمل ہے۔نہ صرف چین میں بلکہ دیگر دوست ممالک میں پاکستانی برآمدات کو فروغ دینے میں پاکستانی سفیر اور قونصل جنرل انتہائی اہم کردار انجام دے سکتے ہیں۔ کیونکہ سیفر اور قونصل جنرل کسی بھی ملک کی آنکھ اور کان کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ فروغ برآمدات کیلئے ان سے بھرپور کام لیں ۔ علاوہ ازیں قومی سطح کے ایوانہائے صنعت و تجارت کو بھی فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے استفادہ کیلئے اپنا کردار انجام دینا چاہیے۔

چیمبروں کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹس کو چاہیے کہ فری ٹری ایگریمنٹس کے تناظر میں عالمی منڈیوں پر ریسرچ کر کے پاکستان کیلئے موجود مواقع کی نشاندہی کریں۔بالخصوص چین کے حوالے سے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری کون کونسی اشیاء کو چینی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے ۔ اور ان اشیاء کی نشاندہی کے بعد ہمیں اپنے ملک میں ان اشیاء کی زائد پیداوار کو ممکن بنانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔افسوس کہ ہم چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس ہونے کے باوجود اپنی برآمدات سے بھرپور منافع نہیں کما پا رہے ۔کیونکہ ہماری برآمدی مصنوعات ندرت اور کشش سے عاری ہوتی ہیں۔یہ کمی دور کرنے کیلئے ہمیں چینی منڈی کے رجحانات سے آگاہی حاصل کرنا پڑے گی ۔ مثال کے طورپر ہمیں علم ہونا چاہیے کہ چینی باشندے باسمتی چاول نہیں کھاتے۔نہ ہی وہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پاکستان سے منگوانے میں دلچپی رکھتے ہیں کیونکہ یہ اشیاء وہ خود بہتر معیار کے ساتھ پیدا کر رہے ہیں۔بلکہ ہمارے تیار کردہ سرجیکل انسٹرومنٹس، کھیلوں کا سامان اور لیدر گڈز بھی شائد چینی مارکیٹ میں اس وقت پذیرائی حاصل نہ کرسکیں۔اگر ہم صحیح معنوں میں پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ہماری حکومت، پالیسی سازوں ، ایوانہائے صنعت و تجار ت اورصنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنوں کو ملک بیٹھ کر اس مقصد کیلئے ایک مشترکہ لائحہء عمل وضع کرنا پڑے گا۔

پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر انحصارچونکہ ٹیکسٹائل کے شعبہ پر ہے اس لئے سب سے پہلے اس شعبہ کیلئے ایسے اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے اس شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی مگر معیار میں عالمی سطح کا اضافہ ممکن ہوسکے۔ہمیں اب اس شعبہ سمیت اپنے تمام مینوفیکچرنگ شعبوں میں روائتی اشیاء کی تیاری کو ترک کرکے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق غیر روائتی اشیاء کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔چین کی نئی نسل کا طرز زندگی بھی اب تبدیل ہو چکا ہے۔وہ اب جدید اور تازہ ترین عالمی رجحانات کے مطابق خریدو فروخت کرتے ہیں۔پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے استفادہ کیلئے ہمیں گہری تحقیق کی ضرورت ہے ۔ ہمیں چینی مارکیٹ کو درکار کم قدر سے لیکر اعلیٰ قدرمصنوعات تک درجہ بندی کرنی پڑے گی اور دیکھنا پڑے گا کہ ان میں پاکستان کون کونسی اشیاء فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مقصد کیلئے چینی مارکیٹ کے عالمی اور مقامی ماہرین کی خدمات بطور مشیر بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔لیکن پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے فائدہ اٹھانے کیلئے صرف چینی مارکیٹ تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں چین سے آگے کے ممالک کی منڈیوں کا بھی جائزہ لیناچاہیے۔ کیونکہ چین کے توسط سے چین سے منسلکہ دور دراز کے ممالک کو بھی پاکستانی مصنوعات برآمد کرکے زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت وفاقی وزارت تجارت کی سرپرستی میں تمام متعلقہ اداروں بشمول ایوانہائے صنعت و تجارت اور برآمدی ایسوسی ایشنوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے سوچ بچار اور تحقیق کا عمل شروع کرے اور ایک ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹس کی روشنی میں دو طرفہ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں موڑا جا سکے۔(نوٹ: کالم نویس پاک چین جوائینٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اورچین کے اشتراک سے قائم ایک بڑے صنعتی گروپ کے چیف ایگزیکٹو ہیں)

مزید :

کالم -