سوشل میڈیا پر شرمناک حرکات، ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک

سوشل میڈیا پر شرمناک حرکات، ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک
سوشل میڈیا پر شرمناک حرکات، ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک

  

گزشتہ روز ’ڈان نیوز‘ کی ویب سائٹ پر ’سوشل میڈیا پر شرمناک حرکتیں‘ کے عنوان سے ایک بلاگ شائع ہوا۔ اس میں مصنف نے ’روزنامہ پاکستان‘ کی چند خبروں کے سکرین شاٹس بھی شائع کئے اور ساتھ ہی سوشل میڈیا سائٹس کے خلاف  ادبی و صحافتی دہشت گردی کا فتویٰ بھی دے دیا۔ عموماً ہم تنقید کو خوش آمدید کہتے ہیں،روزانہ ہمیں اپنے قارئین سے سینکڑوں پیغامات اور ای میلز موصول ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر میں ہماری کاوشوں کی تعریف کی جاتی ہے کہ ہم اپنے قارئین کو دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی بروقت خبر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں بھی عار نہیں کہ ہم سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے قارئین خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو ہم قارئین کی رہنمائی میں اپنے کام میں بہتری کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ اس کے باوجود ہم سے کئی کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اور بہت سی چیزوں میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔ تاہم زیر تبصرہ مضمون کے حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

-1 سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ کا کہنا ہے کہ اس مضمون کا مقصد اخباروں میں کام کرنے والوں کو سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ جناب اگر آپ کا موقف درست مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو فیس بک پر یہ سرخی لگانے کی کیا ضرورت پیش آئی ’سوشل میڈیا پر شرمناک حرکتیں‘ کیا آپ خود بھی ویب سائٹ پر ٹریفک بڑھانے کیلئے صحافتی دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہوئے؟

-2 جناب میاں بیوی کے جھگڑوں اور صحت کے مسائل پر خبروں کو صحافتی دہشتگردی نہیں کہا جاسکتا۔ صحافتی دہشتگردی کا ارتکاب آپ کے ادارے نے اس وقت کیا جب دھرنے کے دنوں میں وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کے دوران آپ نے خبر چلادی کہ آرمی چیف نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ لیا۔ اس خبر سے ایسی افراتفری پھیلی کہ حالات قابو میں رکھنے کیلئے فوجی ترجمان کو وضاحت دینا پڑگئی۔ پھر آپ نے ایسی ہی دہشت گردی کا ارتکاب کیا جب سبین محمود کے قتل کے بعد پاک فوج پر انگلیاں اٹھانا شروع کردیں اور بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے ایک زوردار اداریہ بھی لکھ ڈالا۔ آپ کا وہم جھوٹ ثابت ہوا لیکن کیا آج تک آپ نے کبھی اپنے وہم کو خبر کا رنگ دینے پر معافی مانگنے کی ضرورت محسوس کی؟ براہ مہربانی پاکستان میں صحافت کا ٹھیکیدار بننے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھئے کہ آپ کس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اس ملک کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کبھی قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

-3 روزنامہ پاکستان میں  کمزوری، بانجھ پن اور اس قسم کے مسائل پر بھی خبریں شائع ہوتی ہیں لیکن اگر ہماری ویب سائٹ کا ’تعلیم و صحت‘ کا سیکشن دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں صحت کے تقریباً ہر مسئلے پر تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ انہیں قارئین شوق سے پڑھتے ہیں اور ہمیں اپنی آراءسے آگاہ بھی کرتے ہیں جن کی روشنی میں نئے مضامین پر کام کیا جاتا ہے۔

-4 پاکستان میں بہت سی ایسی نیوز ویب سائٹس ہیں جو ہماری خبروں یا مضامین کو محض ’کاپی پیسٹ‘ کرکے اپنا کام چلا رہی ہیں۔ ہماری ٹیم دن رات ان خبروں کو اکٹھا کرنے کیلئے محنت کرتی ہے اور یہ انہی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ’روزنامہ پاکستان‘ کی ویب سائٹ آج ملک میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی نیوز ویب سائٹ ہے۔ ہمارے وسائل کئی میڈیا گروپس کے مقابلے میں نہایت محدود ہیں لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس کمی کو اپنی محنت سے پورا کیا جائے۔ ایسے میں ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دیگر اداروں کے دفاتر میں ویب سائٹ سٹاف کو وقتاً فوقتاً اپنے مالکان کی خفگی کا بھی سامنا رہتا ہے کہ آخر ان کے مقابلے میں انتہائی محدود وسائل کے باوجود ’روزنامہ پاکستان‘ کو قارئین ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ جناب عرض ہے کہ اس پیشہ ورانہ مخاصمت کو صحافت کے وقار کا لبادہ نہ پہنائیں۔

-5 ہمارے الیکٹرانک چینلز کی نشریات میں جو چیزیں دکھائی جاتی ہیں یا جس طرح کے موضوعات پر بات ہوتی ہے، وہ شائد ہم بھی بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ڈان میں شائع ہونے والا بلاگ ایک سوشل میڈیا سائٹ نے بھی شائع کیا ہے جس کی زیادہ تر پوسٹس کی سرخیاں کچھ اس طرح ہوتی ہیں:

’لائیو پروگرام میں اس لڑکے نے لڑکی کے ساتھ کیا کردیا‘، ’کیا یہ پاکستانی میڈیا ہے؟ ماڈل کا لباس دیکھ کر آپ بھی لعنت بھیجیں گے‘ وغیرہ وغیرہ جناب عرض یہ ہے کہ اگر آپ کے خیال میں اس برائی کا ذکر ہی نہیں ہونا چاہیے تو اسے اپنی ویب سائٹ کی رونق میں اضافے کیلئے استعمال کیوں کررہے ہیں؟

ہم کسی دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کر دوغلے پن کا مظاہرہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔

-6 لگے ہاتھوں ’ڈان نیوز‘ کے فیس بک پیج کی چند سرخیاں بھی ملاحظہ فرمالیں:

’محبوب کا دل جیتنے کا آسان طریقہ‘

’کیا شاہ رخ اپنے بچوں کو کھا جائیں گے‘

’ریپ ‘ سے بچنے کیلئے سکول کی طالبہ کی بس سے چھلانگ‘

(یاد رہے یہ خبر بھارت میں ہونے والے واقعہ کے بارے میں ہے، ایک جگہ مصنف نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ چند فیس بک پیجز کسی اور ملک کی خبر کو مقامی بنا کر دکھاتے ہیں)

بہتر ہے کہ آپ دوسروں کے بارے میں فتوے دینے سے قبل اپنے طرز صحافت کا بھی جائزہ لے لیں، اور ذرا اس پر بھی غور کریں کہ سرخیاں نکالنے کا یہ انداز آپ نے کہاں سے سیکھا۔

کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہماری ادارتی پالیسی بہترین ہے۔ یقینا اس میں بہت ساری خامیاں پائی جاتی ہوں گی  اور ہماری کوشش ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری لائی جائے لیکن ہم اپنی دکان چمکانے کیلئے دوسروں کو نشانہ بنانے کے فلسفے پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے میں صارفین سے گزارش ہے کہ اگر ہم سے شکایت پیدا ہو تو info@dailypakistan.com.pk پر ای میل کرکے ہماری رہنمائی فرمائیں اور اگر کوئی خطاءسرزد ہو تو درگزر فرمائیں۔

مزید : قومی