کیا آپ کو معلوم ہے جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریاں ان 7 طریقوں سے بغیر جنسی عمل کے منتقل ہوسکتی ہے، اگر محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ان 7 عام سے کاموں سے گریز کریں

کیا آپ کو معلوم ہے جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریاں ان 7 طریقوں ...
کیا آپ کو معلوم ہے جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریاں ان 7 طریقوں سے بغیر جنسی عمل کے منتقل ہوسکتی ہے، اگر محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ان 7 عام سے کاموں سے گریز کریں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عام تاثر ہے کہ کئی خطرناک امراض صرف جنسی عمل سے پھیلتے ہیں مگر اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بیماریاں باقاعدہ جنسی عمل کے علاوہ بھی کئی طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے اپنی ایک رپورٹ میں سائنسدانوں کے بتائے گئے7طریقے بیان کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

بیوٹی سیلونز اور حمام کی کرسیاں

جلدی مرض ہرپس(Herpes)اور ہیومن پیپیلوما وائرس(Human Papilloma Virus)کے بیکٹیریا گرم مرطوب ماحول میں خوب نشوونما پاتے ہیں اور چونکہ یہ پورے انسانی جسم پر پائے جاتے ہیں لہٰذا حماموں اور بیوٹی سیلونز کی کرسیاں ان کے پھیلاﺅ کا بڑا ذریعہ ہیں۔ جب کوئی ان بیکٹیریا سے متاثرہ شخص اس کرسی پر بیٹھتا ہے تو یہ اس کے جسم سے کرسی پر منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر بعد میں بیٹھنے والے شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں۔اچھے بیوٹی سیلون اور حمام نئے گاہک کے بیٹھنے سے پہلے اپنی کرسیوں کو اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔ ایسے سیلونز میں گاہک ان خطرناک بیکٹیریا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کپڑوں سمیت جنسی حرکات کرنا

ایک سابق تحقیق میں ثابت ہو چکا ہے کہ کپڑوں سمیت جنسی حرکات کرنے سے بھی خواتین حاملہ ہو سکتی ہیں۔اب اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کئی طرح کی جنسی عمل سے پھیلنے والی بیماریاں اس طریقے سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ ان بیماریوں میں ہیومن پیپیلوما وائرس، ہرپس(یہ جنسی بے اعتدالی کے باعث لاحق ہونے والی داد اور کھجلی کی طرح کی وبائی بیماری ہے جو رانوں اور دیگر زیرناف حصوں پر نمایاں ہوتی ہے )، آتشک و دیگر شامل ہے۔

مرد کے چہرے کے بالوں کا خاتون کے پوشیدہ حصوں کو چھونا

پیڑو کے کیڑے اور بیکٹیریا مرد کے چہرے کے بالوں میں چھپنے اور نمو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ بال صنف مخالف کے پوشیدہ اعضاءسے چھو جائیں تو جنسی عمل سے پھیلنے والی کئی بیماریاں منتقل ہو سکتی ہیں۔

ریزر شیئر کرنا

مرد جب ریزر استعمال کرتے ہیں تو ان کی جلد سے خارج ہونے والے مادے ریزر کو آلودہ کر دیتے ہیں۔جلد پر موجود جراثیم اور بیکٹیریا ریزر پر منتقل ہو جاتے ہیں اور جب کوئی دوسرا شخص یہی ریزر استعمال کرتا ہے تو یہ بیکٹیریا اسے بھی مخصوص بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

بوس و کنار

اگر آپ کی عمر 50سال سے کم ہے تو بوس و کنار بھی ہرپس جیسی بیماری میں مبتلا کر سکتا ہے یا آپ سے دوسرے فرد کو یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔دنیا میں 3ارب 70کروڑ لوگ ”ہرپس سمپلیکس وائرس ٹائپ 1“ میں مبتلا ہیں۔ اس کے وائرس ہمارے منہ میں ہوتے ہیں جو بوس و کنار سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

کسی دوسرے کا تولیہ استعمال کرنا

ٹریکومونیاسس (Trichomoniasis)نامی جنسی بیماری کے جراثیم انسانی جسم کے بغیر بھی 45منٹ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس بیماری کے متاثرہ شخص کے استعمال کردہ تولیے پر یہ بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو تولیے سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جسم سے غیرضروری بال اکھاڑنا

خواتین تو ویکس کرواتی ہی ہیں لیکن کچھ مرد بھی اپنے چہرے کے غیرضروری بالوں کو اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ برازیل میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں اس عمل کے متعلق بھی ایک تشویشناک انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسم کے بال اکھاڑنے سے انسان ”مولسکم کونٹیجیاسم“(Molluscum Contagiosum)جیسی جنسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ ہرپس کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بال اکھاڑنے سے جلد کو نقصان پہنچتا ہے اور اس میں سوراخ بن جاتے ہیں جن سے ان بیماریوں کے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو کر آدمی کو اس بیماری کا شکار بنا سکتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -