امیر شریعت سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ ۔۔۔انگریز ان کے نام سے ڈرتا تھا

امیر شریعت سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ ۔۔۔انگریز ان کے نام سے ڈرتا تھا
امیر شریعت سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ ۔۔۔انگریز ان کے نام سے ڈرتا تھا

  



جیسا کہ آج امریکہ دنیا کی واحدسپر پاورہے ۔بالکل اِسی طرح ۱۹۴۷ء تک دنیابھر میں برطانیہ کے جبروت کا طوطی بولتاتھا۔برطانیہ نے بھی آزادی پسندوں کو جبرواِستبداد اَوردَرندگی وسفاکی کے ہتھکنڈوں سے بالکل اُسی طرح صفحۂ ہستی سے مٹادینا چاہا،جیسے کہ آج امریکی استعماردہشت گردی کا لیبل لگاکرمسلمانوں کی جان واِیمان کے درپے ہے،لیکن چشمِ فلک نے یہ انوکھانظارہ حیرت واِستعجاب کی نظروں سے دیکھاکہ حریت مآب دیوانوں کی قربانیوں کی بدولت فرنگی استعمارکوکہ جس کی زمین پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا ،ہندوستان آزاد کرناپڑا اَوربرطانیہ آج اپنے ہی ملک میں سورج کی ایک ایک کرن کو ترستاہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو کچلنے کے بعدبرطانوی استعمارہندوستان کے تخت پربراجمان ہوااَور اُس نے تحریک آزادی میں شریک علماء،مجاہدین ،طلباء اورعام شہریوں کو لاکھوں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اُتارا۔قیدونظربندی اورظلم ودرِندگی کے ذریعے اَنگریز نے ہندوستانی عوام پر اَپنی دہشت و فرعونیت کی دھاک بٹھادی،لیکن اِن عذاب لمحوں میں بھی ایسے جرأتوں کے پالے غیرت مند مجاہدباقی تھے، جنھوں نے برطانوی استعمارکے آگے سرنگوں ہونے سے انکارکیااوراَپنے خون سے آزادی کے گُل ہوتے چراغ کو رَوشن رکھا۔حضرت امیرشریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ اُنھی بلندعزم وہمت کے حامل مجاہدین آزادی کے باغیرت جانشین تھے، جنھوں نے ہندوستان کی دھرتی پر اَنگریزکے تسلط کو مستردکرتے ہوئے اِنِ الحکم الا للہ کا نعرۂ رستاخیز بلندکیااوراِس پُرعزیمت راہ میں ہر صعوبت و آزمائش کو جھیلنے کا عزمِ نوی کیا۔

حیرت ہوتی ہے کہ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے نہتے اوربے وسیلہ سپوت آخر کس مٹی سے بنے تھے! کہ وہ انگریزی اِستبداد کے مصائب وآلام ،دارورَسن اورظلم و سفاکی کا مردانہ وارمقابلہ کرتے اوراُس کے نتیجے میں اَپنی ناتواں جانوں پر ظلم کا ہروَارسہتے ،مگرآزادئ وطن کی خاطرکسی بھی کڑی آزمائش کو لبیک کہنے سے بازنہ آتے تھے ، جبکہ آج تمام تر وسائل اوراَیٹمی قوت رکھنے کے باوجودہمارے سیاسی رہنما اوراِقتداریے امریکہ کے سامنے تھرتھر کانپتے دکھائی دیتے ہیں۔بم دھماکے ہمارے نہتے شہریوں کو روزانہ خاک وخون میں نہلاتے ہیں ، مگرمفادپرستوں کی آنکھیں ہیں،لیکن وہ دیکھتے نہیں اورکان ہیں،مگرسنتے نہیں۔ دراصل قومی غیرت اوردینی حمیت ہی قوموں کو سراُٹھاکر جینے کا شعوردِیاکرتی ہے۔جس کے آگے بڑی سے بڑی طاغوتی قوتیں بھی خاکِ راہ ہوجاتی ہیں۔دراَصل یہی وہ جوہرِایمانی تھا،جس نے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے غیورمجاہدِآزادی میں بے خوفی ودَلیری اورجرأت وبہادری جیسی انمول صفات پیداکیں اوروہ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوگئے۔اپنی جوانی،سکون و راحت اورآسائش و آرام کو آزادئ وطن کے لیے تج دیا،صعوبتوں کو برداشت کیا،مگرکبھی انگریزکی سطوت ورعونت کو خاطر میں نہ لائے ۔

واقعۂ جلیانوالہ باغ(۱۹۱۹ء)سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی سیاسی زندگی کا نقطۂ آغازثابت ہوا۔سفاک جنرل ڈائرنے جب سینکڑوں بے گناہ ہندوستانیوں کے سینے گولیوں سے چھلنے کردیے تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے دل ودماغ میں حکومت برطانیہ کے خلاف نفرت کے شدید جذبات پیداہوگئے ۔رہی سہی کسرتُرک مسلمانوں پر اَنگریزکی وحشت وبہیمیت نے نکال دی اورسیدعطا ء اللہ شاہ بخاری ہندوستان کے صفِ اوّل کے رہنماؤں کے ہمراہ تحریک خلافت کے برگ وباراُٹھانے میں مصروف ہوگئے ۔برطانوی استعمارکی اِس مخالفت میں سید عطا ء اللہ شاہ بخاری نے دینی اصولوں کو بنیادبنایا ۔ وہ اَنگریزکو اِسلام اورمسلمانوں کا دشمن سمجھتے تھے،کیونکہ وہ انگریزوں کی اسلام کے خلاف سازشوں کابخوبی اِدراک اورمسلمانوں پر پے درپے اُن کی خنجرآزمائی کا بچشم خود مشاہدہ کرچکے تھے ۔تحریک خلافت کے دوران سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی بے مثال ساحرانہ خطابت کے ذریعے ہندوستان بھر میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکادی ۔۱۸۵۷ء کے معرکہ کے بعد تحریک خلافت ہی وہ ملک گیر اِحتجاجی سلسلہ تھا،جس نے تمام ہندوستانیوں کوبلاتفریقِ مذہب ایک لڑی میں پرودِیا اوراُن کے رگ وپے سے غیرملکی حکمرانوں کا رُ عب ودَبدبہ نکال کررَکھ دیاتھا۔جس کے لیے دیگر رہنماؤں کے شانہ بشانہ بنیادی کردارسیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کا تھاجو ہماری ملّی تاریخ کا ایک ایساروشن باب ہے کہ جس پر ہم بجاطورپر فخر کرسکتے ہیں۔

۳؍ستمبر۱۹۳۹ء کو جنگ عظیم دوم کا آغازہواتو ہندوستان کی تما م سیاسی جماعتیں انگریز سے تعاون یااُس کی مخالفت کرنے کے بارے میں اُس وقت تک کسی فیصلہ پر پہنچ نہ پائی تھیں،لیکن سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی زیرقیادت مجلس احراراسلام ہندوستان میں وہ واحد سیاسی جماعت تھی ، جس نے معروف انگریز مصنف ڈبلیو سی سمتھ کے الفاظ میں’’ اِس جنگ کو سامراجی جنگ قرار دیتے ہوئے اِس کے خلاف پہلی آواز بلندکی۔‘‘ اور تحریک فوجی بھرتی بائیکاٹ کے اجراکا اعلان کیا ۔اَحرارکے کو ہ ہمت رہنماو کارکن ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جیلوں کو آبادکرنے لگے ۔مجلس احرار نے فوجی بھرتی کی مخالفت میں ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب کو بالخصوص اپنی جنگ مخالف سرگرمیوں کا مرکزبنالیا تھا۔پنجاب انگریزوں کے لیے ’’بازوئے شمشیر زن‘‘ کا دَرجہ رکھتاتھا اورسیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری کے بقول:’’ پنجاب کے بعض اضلاع کی مائیں فرنگیوں ہی کے لیے بچے جناکرتی تھیں۔‘‘ یہی صورت حال دیگر صوبوں میں بھی کم وبیش موجودتھی۔بہرحال غلامی کے خمیر میں گُندھے ہوئے اِس خطّہ میں انگریزکی مخالفت کرنا ،موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا،لیکن سید عطا اللہ شاہ بخاری اوراُن کے بہادررفقاء نے آزادئ ہند کے لیے جان کی بازی لگادی،کیونکہ اُن کے نزدیک ہندوستان کی آزادی کے بعدبرطانیہ کے لیے اپنی دیگرنوآبادیات پر زیادہ دیر تک قبضہ برقراررَکھنا ممکن نہ رہ سکتا تھا۔جس کی بدولت جزیرۃُ العرب کا آزادہونا یقینی تھا۔لہٰذا اُنھوں نے اپنی تمام تر قوت ہندوستان کی آزادی کے لیے جھونک ڈالی۔اپریل ۱۹۳۹ء کو آل انڈیاپولٹیکل احرارکانفرنس پشاورکی فوجی بھرتی کے خلاف منظورکردہ قرارداد کی روشنی میں سید عطا ء اللہ شاہ بخاری اوراُن کے عظیم رفقائے کارنے ہندوستان کے ہرمقام کے دورے کرنے کے علاوہ پنجاب کے فوجی بھرتی کے اہم مراکز سرگودھا ،شاہ پور،گجرات ،جہلم ،چکوال،اٹک ،میانوالی ،بھکر،راولپنڈی وغیرہ کے ضلعوں میں اپنی تقاریر میں فوجی بھرتی نہ دینے کا درس دیا۔جس کے نتیجہ میں دورہ کے اختتام پر برطانوی اورسکندرحیات کی پنجاب حکومت نے بوکھلاکر سیدعطا ء اللہ شاہ بخاری کو گرفتارکرکے اُن پر رِعایاکوحکومت کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کا کیس دائرکردیا۔جس کی سزاپھانسی سے کم نہ تھی، لیکن حکومتی مشینری کی تمام کوشش کے باوجودعدالت میں سی آئی ڈی کے سرکاری رپورٹر لدھارام کی صاف گوئی نے سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے حق میں پانساپلٹ دیا اوروہ ۷جون ۱۹۴۰ء کوباعزت بری ہوگئے ۔

غرض یہ کہ سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ نے انگریزی استبدادکے تناورشجر کی جڑوں کو کاٹنے والی ہر تحریک میں ہراول دستہ کاکرداراَداکیااوراُنھوں نے خودبھی دسیوں تحریکیں چلائیں۔اللہ نے اُنھیں خطابت کا بے مثل اوربے تاج بادشاہ بنایاتھا۔اُنھوں نے اپنی اِس بے نظیر صلاحیت کے ذریعہ ہندوستان کے لاکھوں افراد کے قلوب واَذہان سے انگریزی حاکمیت کا خوف کھرچ ڈالا اوراُنھیں آزادی کے مفہوم ومعنیٰ سے آشناکرکے عملاً تحریک آزادی میں شمولیت پر آمادہ وتیار کیا۔سیدعطا ء اللہ شاہ بخاری کی انگریز اِستعمار سے نفرت کا یہ عالم تھاکہ نجی محفل ہو،یا اجتماعِ عام، اُن کے ’’لعنت برپدرِ فرنگ ‘‘ کے نعرۂ رُستاخیز سے درودِیوارکانپ اٹھتے تھے۔وہ فرمایاکرتے تھے:

’’میں اُن سؤروں کا ریوڑ چرانے کوبھی تیارہوں جوبرٹش امپیریلزم کی کھیتی کو وِیران کرناچاہیں۔میں کچھ نہیں چاہتا۔میں ایک فقیرہوں۔اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کٹ مرناچاہتاہوں اوراَگر کچھ چاہتاہوں تو بس اِس ملک سے انگریز کا اِنخلا۔میری دوہی خواہشیں ہیں:میری زندگی میں یہ ملک آزادہوجائے ،یاپھرمیں تختۂ دارپر لٹکادیاجاؤں۔میراایک ہی نصب العین ہے۔برطانوی سامراج کی لاش کوکفنانایادفنانا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اُن کی قربانیوں کا صلہ اُن کودنیا میں بھی دیاکہ انھوں نے انگریز کو ملک چھوڑتے دیکھااورہندوستان ۱۹۴۷ء کوفرنگی کے پنجۂ استبدادسے آزادہوگیا۔ہندوستانی عوام نے غلامی کے منحوس سائے چھٹ جانے کے بعدآزادفضاؤں میں سانس لیا۔احرار رہنماؤں کی نگاہِ بصیرت کے عین مطابق ہندوستان کی آزادی کے بعدبرطانیہ کی اپنے تمام مقبوضات پر سے گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اورایک ایک کرکے اسلامی ممالک آزادہوتے گئے۔اگر ہندوستان آزادنہ ہوتاتو عالم اسلام کی غلامی کا دورجانے کتناطویل ہوجاتا! بلاشبہ یہ کارنامہ ہندوستان کی حریت پسندجماعتوں اوربالخصوص مجلس احرارکے قائد اَمیر شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ جیسے زعمائے ملت کے سرہے ۔جنھوں نے غلامی کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں حریتِ فکروعمل کے چراغ روشن کیے اورملت اسلامیہ کو آزادی کی بہاروں سے سرفرازکرنے میں مجاہدانہ کرداراَداکیا۔سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری جن کٹھن حالات میں انگریزی استعمارسے نبردآزماہوئے۔اُن جانگسل حالات کے تصور ہی سے دل بیٹھ جاتاہے۔عہدِ حاضر میں دنیا بھر کے مسلمان جن پُر آشوب حالات میں مبتلاہیں اوروہ جس طرح امریکی استعمارکی چیرہ دستیوں کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں۔اِس صورت حال میں عالم اسلام کے حکمران اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جانے کی بجائے ،جس کوتاہ ہمتی اوربزدلی کے ساتھ امریکہ ہی پرتکیہ کرتے ہوئے،اُس کی فرعونیت کے آگے مزیدجھکتے چلے جارہے ہیں اوراپنے ساتھ ملتِ اسلامیہ کواَندھیروں کی منزل کا راہی بنارہے ہیں،اِسے دیکھتے ہوئے امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے مردِ مجاہد کی یادتڑپادیتی ہے، جنھوں نے موجودہ حالات سے کئی گنابدتر حالات میں بھی برٹش اِمپیریلزم کا جی داروں کی طرح مقابلہ کرکے اُسے ہندوستان سے چلتاکیاتھا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ