یہ ہے وہ عمران خان جسے میں جانتا ہوں

یہ ہے وہ عمران خان جسے میں جانتا ہوں
یہ ہے وہ عمران خان جسے میں جانتا ہوں

  

تجزیہ ؛۔ایثار رانا

بائیس سال ایک لمحے میں آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے، یہ 1998ء کی ایک سرد شام تھی جب پاسبان چھوڑنے والے منصور صدیقی میرے پاس آئے اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر مجھے زمان پارک لائے، عمران خان میرے لئے ایک عظیم ہیرو تھے، وہ میرے سامنے بیٹھے تھے اور منصور صدیقی انہیں میرے متعلق بتا رہے تھے، اب میں بچہ لگتا ہوں تو بائیس سال پہلے بہت ہی بچہ تھا، لیکن عمران خان نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا مجھے ایثار رانا پر یقین ہے یوں مجھے عمران خان کے پہلے الیکشن کی میڈیا کی نگرانی کا اعزاز حاصل ہوا، اس دوران میں نے عمران خان کو بہت قریب سے دیکھا، انہوں نے جس طرح صحافت کے ’’منصور اختر‘‘ یعنی مجھے اعتماد دیا، میرے لئے آج تک بہت بڑی طاقت کے طور پر میرے ساتھ ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے عمران خان کو تنہا لڑتے دیکھا، ایسا بھی ہوا کہ کئی جگہ جلسہ رکھا گیا اور اس میں لگائی گئیں چند درجن کرسیاں بھی پوری نہ ہوسکیں، لیکن میں نے اس بری صورتحال میں بھی عمران خان کو مایوس نہیں دیکھا، عمران خان کی پہلی انتخابی مہم میرے لئے سخت امتحان تھی، اخبارات عمران خان کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے تھے، میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیا کے منظور نظر تھے، پھر دونوں جانب سے میڈیا کو لبھانے کیلئے ہر جتن ہر حربہ استعمال کیا جارہا تھا، لیکن اس وقت تحریک انصاف کے پاس خزانے میں ایسی عیاشی کیلئے ایک دمڑی بھی نہ تھی، ایک بار جب میں اس بات کی جانب اشارہ کیا تو وہاں موجود اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب نے کہا کہ ہمیں میڈیا تک کچھ لفافے پہنچانے چاہئیں، اس موقع پر عمران خان اجلاس سے یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ میں ایسی کسی حرکت میں حصہ دار نہیں، نہ میں اس تجویز کی حمایت کرتا ہوں، مجھے یاد ہے عمران خان نے کہا تھا کہ یہی میڈیا مجھے فرنٹ پیج پر روزانہ لیڈ چھاپے گا، انکی اس جہد مسلسل میں اپنے ٹارگٹ کیلئے اٹوٹ حوصلے نے ان کی بات سچ ثابت کردی، مجھے یاد ہے کہ ایک مرحلے پر تحریک انصاف لاہور کا صدر بننے کو کوئی تیار نہ تھا، ہم نے ڈرتے ڈرتے یہ بات انکے سامنے رکھی، میں توقع کررہا تھا کہ عمران خان اس صورتحال میں دلبرداشتہ ہونگے لیکن انہوں نے بات سنی اور کہا کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا، عمران جسے اپنی پارٹی کیلئے لاہور کا صدر نہیں مل رہا تھا آج پورے پاکستان کا صدر اپنی مرضی سے منتخب کریں گے، بظاہر یہ قصہ بائیس کا ہے لیکن ان بائیس سالوں میں میں نے کپتان کو ایک بار بھی دل گرفتہ یا مایوس نہیں دیکھا، صدر فاروق لغاری نے خان صاحب کو یقین دلایا کہ وہ احتساب کے بغیرکسی کو الیکشن نہیں لڑنے دیں گے لیکن پھر وہ اپنی بات سے مکر گئے، میں نے پہلی بار عمران خان کو غصے میں دیکھا انکا یہ جملہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ چاہے جتنے مرضی لوگ میرے راستے میں آئیں میں چوروں کا آخری دم تک پیچھا کروں گا، سچی بات یہ ہے کہ تب مجھے لگا تھا کپتان راستے میں تھک جائے گا، ایک گلیمرس کرکٹران اربوں کھربوں پتی اور کرپشن کے سسٹم کے موجدوں کا مقابلہ نہیں کر پائے گا، لیکن آج میں حیران ہوں کسی کی اپنے جذبے سے اتنی کمٹمنٹ ہوسکتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران نے کامیابی حاصل کرلی کیا وہ اس کامیابی کو سنبھال پائیں گے، لیکن مجھے عمران کے اپنے عزم اور جذبے کی کمٹمنٹ پر یقین ہے، وہ ضرور کچھ بہتر کرپائیں گے۔

عمران خان

مزید : تجزیہ