شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں انتخابات پر بہت سے سوالات اٹھا دیئے

شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں انتخابات پر بہت سے سوالات اٹھا دیئے
شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں انتخابات پر بہت سے سوالات اٹھا دیئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

یہ دن تو عمران خان کا تھا، جو وزیراعظم کا انتخاب 176 ووٹ لے کر جیت گئے، لیکن مسلم لیگ (ن) نے ایوان کے اندر صورت حال ایسی بنا دی جس سے متاثر ہوکر عمران خان نے وہی پرانی تقریر دہرا دی، جو وہ سالہا سال سے کسی نہ کسی انداز میں کرتے آئے ہیں۔ آپ نے کہا کہ چوروں اور ڈاکوؤں سے کوئی این آر او نہیں ہوگا، حضور آپ سے کہا کس نے ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں سے این آر او کریں۔ اگر آپ نہیں کریں گے تو یہ وہ کام ہے جو اس سے پہلے بھی کسی سیاسی حکومت نے کبھی نہیں کیا، یہ این آر او وغیرہ ہمیشہ ان غیر جمہوری حکمرانوں نے کیا جنہیں اندر سے یہ خوف لاحق رہا کہ وہ جائز حکمران نہیں، وہ طاقت کے ذریعے برسر اقتدار آتو گئے لیکن کچھ وقت گزرنے کے باوجود انہیں بعد میں سیاستدانوں کی خدمات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان نے اقتدار میں آکر سیاستدانوں کو ایبڈو کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں سے روکا لیکن انہی کے بھائی بندوں سے مل کر سیاسی جماعت بنائی۔ آخری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں دو سیاسی جماعتوں کی شکست و ریخت کروائی، پہلے مسلم لیگ کے دو حصے ہوئے، ایک حصہ تو وہ تھا جو بعد میں ان کی سرپرستی کی وجہ سے حکومت میں آگیا اور دوسرا حصہ مسلم لیگ (نواز) کہلایا۔ اپنے اس دور میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے بھی دو ٹکڑے کروائے اور ایک کو مسلم لیگ (ق) کی حکومت کا حصہ بنا دیا۔ جنرل پرویز مشرف چاہتے تھے کہ جس طرح اپنے پہلے دور میں انہوں نے مسلم لیگ (ق) کا تعاون حاصل کیا، اسی طرح دوسرے دور میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کریں۔ اس لئے انہوں نے این آر او کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو معافیاں دیں۔ اس معاملے پر انہیں کونڈو لیزا رائس کا تعاون حاصل تھا، جن سے مل کر انہوں نے این آر او کا مسودہ فائنل کیا۔ یہ این آر او بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔ معلوم نہیں عمران خان اس این آر او کا حوالہ دے رہے تھے کہ کسی دوسرے این آر او کا، لیکن ان کا خطاب وزیراعظم کا خطاب نہیں لگتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ مسلم لیگ (ن) نے ایوان میں ایسی فضا پیدا کر دی، جو ان کی طبیعت پر گراں گزری اور انہوں نے ایوان میں ایسی تقریر کر دی۔ جیسے ان کے سامنے دھرنے کی طرح کا ہجوم موجود ہو، حالانکہ یہ مختلف لوگ تھے، یہ پورے ملک سے منتخب ہوکر آئے ہیں اور الیکشن میں جو شکایات سامنے آتی رہی ہیں، شہباز شریف ان کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ایوان میں جو احتجاج دیکھنے میں آیا وہ کوئی ایسا منظر نہیں ہے جو پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو۔ پارلیمنٹ ہاؤس نے کبھی قبرستان کا سا منظر پیش نہیں کیا کہ اس میں کوئی ایک بولتا رہے اور باقی سارے منہ اور گردن جھکا کر سنتے رہیں، ایسا کسی دوسرے فورم پر ہوتا ہو تو ہوتا ہو، پارلیمنٹ میں نہ کبھی ہوا ہے، نہ آئندہ ہوگا۔ شہباز شریف نے عمران خان کے دھرنوں کا ذکر کیا تو وزیراعظم نے انہیں پیش کش کر دی کہ وہ جب چاہیں دھرنا دیں۔ چار ماہ نہ سہی، ایک مہینے کے لئے ہی دھرنا دیں، ہم انہیں کھانا بھی پہنچائیں گے۔ غالباً وہ یہ کہہ کر مخالف جماعت کو طنز کا نشانہ بنا رہے تھے کہ دھرنے دینا تو بس ہمارا ہی حوصلہ تھا، تم اس قابل کہاں ہو کہ دھرنا دے سکو، لیکن شہباز شریف نے جہاں انتخابات پر بیک وقت بہت سے سوالات اٹھا دئیے، وہاں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ان کا جواب نہ ملا تو ہم پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور حق نہیں دیا گیا تو سڑکوں پر بھی آئیں گے، ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے الیکشن تھے، جن میں آر ٹی ایس بند کر دیا گیا۔ پولنگ ایجنٹوں کو نکال کر گنتی کی گئی۔ فارم 45 کی جگہ سادہ پرچیاں تھما دی گئیں۔ تین دن تک الیکشن کے نتائج نہیں آئے۔ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مسترد شدہ ووٹوں کا تذکرہ بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں کبھی اتنے ووٹ مسترد نہیں ہوئے۔ میڈیا کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ دیہات کے نتائج پہلے آگئے، شہروں کے نتائج 48 گھنٹے بعد بھی نہیں آئے تھے۔ 16,800 سیاسی ورکروں (مسلم لیگ (ن) کے ورکروں) کے خلاف پرچے کاٹے گئے۔ سیاسی لیڈروں کے خلاف دہشت گردی کے پرچے کاٹے گئے، شہباز شریف نے اپنی تقریر میں بعض پرانے واقعات کا بھی حوالہ دیا، جب ان کی جماعت کی حکومت میں سپریم کورٹ کا جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا، اس سے پہلے تحریک انصاف کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ اگر الیکشن میں دھاندلی ثابت ہوئی تو حکومت مستعفی ہو جائے گی۔ انہوں نے نومنتخب وزیراعظم کو معاہدہ یاد دلایا، ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے الفاظ کو خود پر بھی لاگو کریں۔

پیپلز پارٹی نے بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ شہباز شریف کو ووٹ نہیں دے گی، لیکن اس کا اچھا طریقہ تو یہ تھا کہ وہ انتخابات کے فوراً بعد متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہی نہ بنتی، لیکن لگتا ہے اس نے جو سٹرٹیجی اختیار کی، مستقبل میں اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ ایوان کے اندر حزب اختلاف کا کردار تو مسلم لیگ (ن) ہی کو ادا کرنا ہوگا اور اپنی قوت بازو پر انحصار کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی سے کوئی زیادہ امید نہ رکھی جائے، کیونکہ اس کی قیادت جن مشکلات کا شکار ہے، اگر وہ اس سے نہیں نکلتی تو پھر اس کے لئے اپوزیشن کی سیاست کرنا خاصا مشکل ہوگا، ویسے بھی چونکہ مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے، اس لئے اس کا احتجاجی سیاست کی سمجھ تو آتی ہے، پیپلز پارٹی کو تو جتنی نشستیں مل گئیں، اسے تو ان کی بھی امید نہیں تھی، بلکہ اصل منصوبے میں تو سندھ کی حکومت بھی اسے ملتی نظر نہیں آتی تھی، یہ تو جی ڈی اے کی کوتاہ دستی تھی کہ اس نے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے میں بھی ایسی کارکردگی نہیں دکھائی کہ اس کی حکومت بن پاتی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کو وہ سیاست تو قطعاً وارا نہیں کھاتی، جس کا اظہار آج ایوان میں مسلم لیگ (ن) نے کر دیا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پیپلز پارٹی سے کسی تعاون کی امید نہ رکھی جائے۔

سوالات

مزید : تجزیہ